سعودی عرب جائیداد کی غیرملکی ملکیت کے نظام کو حتمی شکل دے رہا ہے: رپورٹ

انٹرنیشنل نیوز
ریاض:۔سعودی عرب کی جنرل رئیل اسٹیٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹوآفیسر(سی ای او) عبداللہ الحماد نے کہا ہے کہ مملکت میں رئیل اسٹیٹ کی غیرملکی ملکیت کے لیے ایک نیا نظام وضع کیا جارہا ہے اور یہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔سعودی روزنامہ عکاظ کے مطابق مملکت میں جائیداد کی غیرملکی ملکیت کے بارے میں انھوں نے یہ تبصرہ روتانہ خلیجیا چینل پرایک انٹرویو میں کیا ہے۔انھوں نے اشارہ دیا ہے کہ غیرشہری سعودی عرب میں مبینہ طورپرتجارتی، رہائشی اور زرعی سمیت ہر قسم کی جائیداد خرید کر سکیں گے۔خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نظام اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں بھی غیرملکیوں کوملکیت کی اجازت دے گا۔اگرچہ یہ واضح نہیں کہ یہ قانون کب سے نافذالعمل ہوگا لیکن عبداللہ الحماد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس کاجلداطلاق ہوگا۔جائیداد کی غیرملکی ملکیت کے ممکنہ منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے الحماد نے کہا کہ نظام کی تیاری میں تمام امکانات کو مدنظررکھا گیا ہے۔واضح رہے کہ رواں سال کے اوائل میں العربیہ نے خبردی تھی کہ سعودی عرب کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ اگلے دس سال میں تیزی سے ترقی کرسکتی ہے،کیونکہ سرمایہ کار حکومت کے نیوم جیسے اربوں ڈالرکے اقتصادی منصوبوں کی بدولت مملکت کی طرف سرمایہ کاری کیلئے راغب ہوں گے۔نئے منصوبوں اور قوانین کے ذریعے رئیل اسٹیٹ کے شعبہ کی ترقی ویڑن 2030 کے بہت سے اہداف میں سے ایک ہے۔