بنگلورو:۔منڈیاضلع کے ادریس پاشاہ کے قتل کے معاملے میں مفرورہند ودہشت گرد پونیت کیرے ہلی اور اس کے چار ساتھیوں کو راجستھان کی سرحدمیں پولیس نے گرفتارکیاہے۔ادریس پاشاہ کے قتل میں ملوث پونیت کیرے ہلی واردات کو انجام دینے کے بعد فرار ہوگیاتھا،جس کے بعد کرناٹکا پولیس کو شدید تنقید کا سامنا کرناپڑرہاتھا۔یکم اپریل کو ادریس پاشاہ کو پونیت کیرے ہلی اور اس کے ساتھیوں نے گائیوں کی تسکری کاالزام لگاکرقتل کیاتھا،جبکہ ادریس پاشاہ قانونی طورپر گائیوں کو کرناٹک سے تملناڈ لے جارہے تھے،مگر پیسوں کا مطالبہ کرتے ہوئے پونیت کیرے ہلی نے ادریس پاشاہ کا قتل کردیاتھا۔فرارہونے والے پونیت کیرے ہلی اور اس کے ساتھی ہبلی،بلگام، مہاراشٹر اور گجرات ہوتے ہوئے راجستھان کی سرحد تک پہنچے تھے،اس کی گرفتاری کیلئے کرناٹکا پولیس نے چار ٹیموں کی تشکیل دی تھی۔اس واردات میں گوپی،پون کمار،امبیگار، سریش کمارنامی ملزمان بھی شامل ہیں۔31 مارچ کی رات کو انہوں نے یہ واردات انجام دی تھی،جبکہ یکم اپریل کی صبح ادریس پاشاہ کی میت دستیاب ہوئی تھی،اس تعلق سے یونس پاشاہ نامی شخص نے پولیس میں شکایت درج کروائی تھی،پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ 341،504، 506، 324، 302،304 کے تحت معاملہ درج کیاتھا۔ واضح ہوکہ پونیت کیرے ہلی ریاست میں آئے دن راشٹریہ رکشناپڑے نام کی تنظیم کو تشکیل دیتے ہوئے مذہبی منافرت پھیلانے کا سلسلہ قائم کیاہواتھااور اس کی پشت پناہی میں بی جےپی کےکئی لیڈروں کا نام شامل ہے۔بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری سی ٹی روی،کرناٹک کے ریاستی وزیر اشوتھ نارائن،ڈاکٹر سدھاکر،تیجسوی سوریاکے نام سرِ فہرست ہیں،جبکہ سری رام سینا کا لیڈرپرمودمتالک پونیت کیرے ہلی کا سرپرست ماناجاتاہے۔ریاست میں گائے کے نام پر قتل ہونے والے ادریس پاشاہ کی موت کے بعد کئی تنظیموں نے حکومت کی سرزنش بھی کی ہے جبکہ کئی تنظیموں نے ادریس پاشاہ کے لواحقین کو معاوضہ دینےکا مطالبہ کیاگیاہے۔اطلاعات کے مطابق کرناٹکا پولیس نےان ملزمان کواپنی تحویل میں لیتے ہوئے راجستھان کے میجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے بعدٹرانزیٹ ریمانڈپر لیتے ہوئےکرناٹک لانے کی تیاری کی ہے۔
