شیموگہ:۔فروری کی27 تاریخ کو شیموگہ ہوائی اڈے کاافتتاح وزیر اعظم نریندرمودی نے کیاتھا،اُس دن اور اُس سے پہلے دعویٰ کیاجارہاتھاکہ وزیر اعظم نریندرمودی کی افتتاحی تقریب کے فوری بعد شیموگہ کا ہوائی اڈہ جو کوئمپوائیرپورٹ کے نام سے جاناجارہا ہے وہ خدمات کیلئے دستیاب ہوگا۔لیکن افتتاح ہونے کے ایک ماہ بعدبھی شیموگہ ہوائی اڈے پر نہ تو کوئی مسافر طیارہ اُترانہ ہی کسی نے اُڑتے ہوئے دیکھا ہے۔اس وقت شیموگہ ہوائی اڈہ ویران میدان کی طرح دکھائی دے رہاہے۔عوام میں یہ سوال اٹھ رہاہے کہ آخرکب اڑیگی پلین ؟ ۔حالانکہ شیموگہ ہوائی اڈے میں جہازوں کی آمدو رفت کیلئے ڈی جی سی اے کی جانب سے منظوری مل چکی ہے ، لیکن ہوائی جہاز کی کمپنیاں ابھی تک اس ائیرپورٹ کے استعمال اور شیموگہ کیلئے نقل وحمل کیلئے ہوائی جہاز فراہم کرنے کیلئے تیارنہیں ہورہی ہیں،اس کی اہم وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ ہوائی جہازکی آمدکے بعدیہاں سے مسافروں کی خاطر خواہ تعدادمیسرنہیں ہوگی،اس کے علاوہ ائیرپورٹ کیلئے خدمات انجام دینے کیلئے سرکاری اور غیر سرکاری عملہ بھی دستیاب نہیں ہے،جو بڑی پریشانی کا سبب بن رہا ہے ۔ حالانکہ رکن پارلیمان بی وائی راگھویندرا نے اطلاع دی تھی کہ شیموگہ ہوائی اڈے کیلئے درکارعملے کی تربیت ہبلی ائیرپورٹ پر ہورہی ہے مگر یہ بات کہاں تک سچ ہے وہ کوئی نہیں جانتا۔شیموگہ ہوائی اڈے کے افتتاح ہونے کے بعد بیرونی ممالک میں مقیم اہلِ شیموگہ بھی اکثر سوشیل میڈیا یاپھر مقامی میڈیاسے رابطہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ کیا شیموگہ کا ہوائی اڈہ شروع ہوچکاہے،کیا ہوائی جہاز وں کی آمدورفت شروع ہوچکی ہے،لیکن پردیس میں مقیم یہ لوگ کیا جانیں کہ اب بھی شیموگہ کا ہوائی اڈہ ویران میدان ہی ہے۔
