ساحلی علاقے میں فرقہ وارانہ موضوعات سے گریز کر رہی ہیں سیاسی پارٹیاں

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
منگلورو:۔ ایسا لگتا ہے کہ اس بار اسمبلی الیکشن کے دوران ساحلی علاقے میں سیاسی پارٹیاں فرقہ وارانہ موضوعات سے گریز کرنے کی پالیسی اپنا رہی ہیں ، کیونکہ سابقہ انتخابات کی طرح فرقہ وارانہ مسائل اور موضوعات پر بیانات دینے اور ماحول کو گرمانے کی کوشش اس مرتبہ نہ کانگریس کی طرف سے ہو رہی ہے اور نہ بی جے پی کی طرف سے ہوتی نظر آ رہی ہے۔ کانگریس اور بی جے پی پارٹی دونوں کے اندرونی ذرائع اس بات کا اشارہ کر رہے ہیں کہ اس مرتبہ فرقہ وارانہ زاویے سے حساس موضوعات  پس پشت رکھ کر انتخاب لڑنا ان کی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ اس کے بجائے دونوں پارٹیوں کی طرف سے اس فرقہ وارانہ حساس علاقے میں ترقیاتی کاموں اور عوام دوست یا عوام دشمن پالیسیوں کو اجاگر کرنے اور ووٹروں کو راغب کرنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ سال 2018 میں جب اسمبلی الیکشن ہو رہا تھا تو اس وقت کانگریس بر سر اقتدار تھی اور بی جے پی اپوزیشن میں تھی ۔ بی جے پی نے سنگھ پریوار سے وابستہ ہندوتواوادی کارکنان اور لیڈران کے قتل کو زیادہ اہمیت کے ساتھ اجاگر کیا تھا اور ووٹروں کے سامنے کانگریس کو ہندو دشمن پارٹی ثابت کرنے کی مہم چلائی تھی ۔  ڈی کوٹپّا اور پریش میستا کی غیر فطری اموات کو سدارامیا حکومت کے خلاف بی جے پی نے ٹرمپ کارڈ کے طور پر استعمال کیا تھا اور زعفرانی پارٹی نے پورے ساحلی علاقے میں جیت کے پرچم لہرائے تھے ۔ لیکن امسال جو الیکشن ہو رہا ہے اس میں شیموگہ میں ہرشا اور جنوبی کینرا میں پروین نیٹارو کے قتل کو بی جے پی کی طرف سے اچھالا نہیں جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ حجاب ، تبدیلی مذہب اور گئو کشی جیسے موضوعات کو بھی نہیں چھیڑا جا رہا ہے ۔ حالانکہ توقع کی جا رہی تھی کہ ساحلی پٹی میں ان موضوعات اور مسائل پر بی جے پی پوری طرح ماحول کو گرمانے اور ووٹروں سے ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی ۔ دوسری طرف دیگر سیاسی پارٹیاں انہیں موضوعات پر الزامات اور جوابی الزامات کی سلسلہ چلائیں گی ۔ مگر تعجب خیز طور پر ایسا کچھ بھی ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے ۔