سعودی عرب کیلئے براہ راست حج پروازیں زیر غور: اسرائیل

انٹرنیشنل نیوز سلائیڈر
مقبوضہ بیت المقدس:۔اسرائیل نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے لیے براہ راست حج پروازیں شروع کرنے کے بارے میں مشاورت جاری ہے۔ اگر یہ امکان عملی شکل اختیار کر گیا تو یہ سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین معمول کے تعلقات کے قیام کی طرف ایک بڑا قدم ہو گا۔یروشلم سے بدھ تین مئی کے روز ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ اسرائیل نے اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ سعودی حکام حج کی نیت سے سعودی عرب جانے کے خواہش مند مسلمانوں کو لانے والی اسرائیلی فضائی کمپنیوں کی پروازوں کو اپنے ہاں اترنے کا اجازت دے دیں گے۔اسرائیل نے یہ بات اس تناظر میں کہی ہے کہ دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں مسلمان حج کے مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے اگلے ماہ سعودی عرب جائیں گے۔ ان حجاج میں ہر سال اسرائیل سے سعودی عرب جانے والے عرب مسلم شہریوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہوتی ہے۔اسرائیل نے 2020ء میں امریکہ کی ثالثی کوششوں کے نتیجے میں خلیجی عرب ریاستوں متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ ساتھ چند دیگر مسلم اکثریتی ممالک کے ساتھ بھی باقاعدہ دوطرفہ تعلقات قائم کرنے کا جو معاہدہ کیا تھا، اس پر عمل درآمد سعودی عرب کی خاموش سیاسی رضامندی کے ساتھ ہی ممکن ہو سکا تھا۔لیکن اس پیش رفت کے بعد خود سعودی عرب نے ابھی تک اسرائیل کے ساتھ باہمی تعلقات کے قیام اور اسرائیل کے ریاستی وجود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ اس لیے نہیں کیا کہ ریاض حکومت کے مطابق ایسی کسی بھی پیشرفت سے قبل فلسطینیوں کی اپنی ایک آزاد اور خود مختار ریاست فلسطین کے قیام کا مسئلہ حل کیاجانا چاہیے۔یہ کہ سعودی عرب ممکنہ طور پر جلد ہی اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ روابط قائم کر لے گا، اس امکان کو خطے میں دو طرح کی پیش رفت سے قدرے نقصان پہنچا ہے۔ ان میں سے ایک تو ریاض حکومت کے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ساتھ قدرے کچھاؤ کا شکار تعلقات ہیں اور دوسری ایران اور سعودی عرب کے مابین ہونے والی حالیہ پیش رفت۔ایران اسرائیل کا بڑا حریف ملک ہے اور ماضی میں سعودی عرب اور ایران کے تعلقات بھی بہت ہی کشیدہ رہے ہیں۔ لیکن ابھی حال ہی میںچین کی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور سعودی عرب نے اپنے روابط میں بہتری کے لیے جس اتفاق رائے کا اظہارکیا، اس پر اسرائیل بھی ناخوش ہے۔