اس دفعہ کرناٹک کے اسمبلی انتخابات میں حساس اور اہم سیاسی حلقوں میں شیموگہ میں ایک معنی خیز اسمبلی حلقہ ماناجارہاہے،یہاں پر مسلمانوں کے ووٹ فیصلہ کن ہیں،لیکن مسلمانوں کے ان ووٹوں میں اس دفعہ جوبٹوارا دیکھاجارہاہے اس سے نتیجہ منفی ہونے کے امکانات ہیں،الیکشن میں کانگریس جے ڈی ایس اور بی جے پی ان تینوں سیاسی جماعتیں ایڑی چوٹی کازور لگا رہے ہیں،مگر مختلف اخبارات کے سروے ،جائزے اور دوسری قوموں کے رحجان کو دیکھا جائے تو اس دفعہ جے ڈی ایس اور بی جے پی کے درمیان سیدھے طورپر مقابلہ ہے،جبکہ کانگریس پارٹی اس دوڑمیں تیسرے نمبر پر دکھائی دے رہی ہے۔اس تعلق سے کئی دفعہ روزنامہ کی جانب سے بآورکیاگیاتھاکہ جیتنے والےگھوڑے پر دائو لگایاجائے نہ کہ کمزورگھوڑے سے اُمیدنہ کی جائے،باوجوداس کے اب تک مسلمانوں کی طرف سے فیصلہ کن ووٹنگ کیلئے تیاری نہیں ہوئی ہے حالانکہ کچھ تنظیموں نے کانگریس کی تائیدکرنے کا فیصلہ کیاہے،جبکہ کچھ تنظیموں نے اس فیصلے سے کنارہ کشی کی ہے۔وہیں مرکزی سُنی جامع مسجدکے ذمہ داروں نے ووٹنگ کیلئے اپنی عقل کا استعمال کرنے کی صلاح دی ہے۔اسی طرح سے جے ڈی ایس کی تائیدمیں بہوجن کرانتی مورچہ ،مسلم ڈیولپمنٹ فورم ،پیپلس لائرس اسوسیشن ،کچھ علماء ودانشوروں نے لوگوں سے مسلسل اپیل کی ہے ، چونکہ اس دفعہ کانگریس پارٹی کا امیدوار کمزور ہےاور ان کے خلاف کئی طرح کے اعتراضات ہیں،ایسے میں دیگر قوموں کے ووٹران بھی جے ڈی ایس کی طرف راغب ہیں،کئی صحافت سے جڑے ہوئے ماہرین اور صحافیوں کا کہناہے کہ جب مقابلہ جے ڈی ایس اور بی جے پی کے درمیان ہوتو مسلمانوں کا بڑا طبقہ کانگریس کی جانب کیوں بھاگا جار ہاہے ؟ اس سوال کا جواب دینا مشکل ہے کہ آخرکیوں مسلمانوں میں ووٹوں کے تعلق سے ایک طرفہ فیصلہ لیاگیاہے،حالانکہ سال2018 میں بھی شیموگہ کے سارے مسلمانوں نےمل کر کانگریس کو ووٹ دیا تھا ،لیکن پورے مسلمانوں کے ووٹ بھی کانگریس کے امیدوار جیتانے میں ناکامیاب رہے ، یہی صورتحال اس دفعہ بھی ہے،ایسے میں اب بھی وقت ہے کہ مسلمانوں سوچ سمجھ کر فیصلہ لیں ورنہ نقصان اٹھاناپڑسکتاہے،جس کی بھرپائی پانچ سال بعدہی ممکن ہے۔
