کیا ووٹوں کی گنتی سے پہلے ہی شروع کیا جارہا ہے آپریشن کمل ؟ ڈانڈیلی میں ریسارٹ بُک کرنے کی خبر پرمچ گئی ہلچل

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

بنگلورو:۔ مختلف پول سروے میں بی جے پی کو کم سیٹیں ملنے کی پیشن گوئیوں کے بعد ریاست میں ایک خبر وائرل ہوگئی کہ دوسری پارٹیوں کے بعض کامیاب اُمیدواروں کو خریدنے کے لئے ضلع اُترکنڑا کے ڈانڈیلی میں بی جے پی کی طرف سے ایک ریسارٹ بُک کیا گیا ہے اور بی جے پی کو واضح اکثریت نہ ملنے کی صورت میں حکومت بنانے کے لئے درکار ارکان اسمبلی کو خریدنے کے لئے ابھی سے پلاننگ شروع ہوگئی ہے۔کرناٹک میں 10 مئی کو پولنگ مکمل ہونے اور مختلف سروے رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد دارالحکومت بینگلور سمیت ریاست کے مختلف حصوں میں یہ بات پھیل گئی کہ بی جے پی کسی نہ کسی طرح واپس اقتدار حاصل کرنے کی تاک میں ہے، اور آپریشن کنول کرتے ہوئے ایم ایل ایز کی خریدوفروخت کرنے کی پلاننگ شروع ہوگئی ہے، اور اسی مقصد کے تحت ریسارٹ بُک کیا گیا ہے، ریسارٹ کے ساتھ ساتھ گوا ٹرانسپورٹیشن والی بسوں کو بھی بُک کرائے جانے کی خبر پھیل گئی ہے۔مگر اس تعلق سے وزیراعلیٰ بسوراج بومائی نے پوری خبر کو ہی غلط اور بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ریاست میں بی جے پی واپس اقتدار پرآرہی ہے اور ہم ہی سرکار بنانے والے ہیں۔ اس لئے کسی بھی طرح کے آپریشن کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے اخبارنویسوں سے سوال کیا کہ اگر ریسارٹ ہی بُک کرنا ہے تو ڈانڈیلی میں ہم ریسارٹ بُک کیوں کریں گے، کیا کسی دوسری جگہ پر ریسارٹ نہیں ہے ؟مختلف سروے رپورٹوں کو دیکھ کر ایک طرف کانگریس خیمے میں خوشی کا ماحول پایا جارہا ہے وہیں آپریشن کمل کا خوف بھی ستارہا ہے، ایسے میں ڈانڈیلی میں ریسارٹ بُک کئے جانے کی اطلاع کے بعد کانگریس قائدین میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔اپوزیشن لیڈر سدارامیا اور ڈی کے شیوکمار نے یقین ظاہر کیا ہے کہ کانگریس کو واضح اکثریت ملے گی، لیکن اندر ہی اندرآپریشن کمل کو لے کر خوف کا احساس بھی ہے۔ کانگریس قائدین کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس کو مکمل اکثریت حاصل نہیں ہوئی اور بی جے پی کو بھی مساوی سیٹ حاصل ہوتی ہے تو بی جے پی کے آپریشن کمل کا سہارا لینے کا خدشہ کانگریس کیمپ کے لیے درد سر بن گیا ہے۔کانگریس اور جے ڈی (ایس) جو پہلے ہی آپریشن کمل کا سامنا کرچکے ہیں، منصوبہ بندی میں لگ گئے ہیں کہ اس باراپنے ایم ایل ایز کی حفاظت کیسے کی جائے۔ پتہ چلا ہے کہ راہل گاندھی کی ہدایت پر ریاستی کانگریس کے انچارج رندیپ سنگھ سرجے والابنگلور پہنچ گئے ہیں اور سدارامیا کی رہائش گاہ پر جاکر بات چیت بھی کی ہے۔ سرجے والا نے اگلی منصوبہ بندی کو لے کر کے پی سی سی کے صدر ڈی کے شیوکمار سے بھی بات چیت کرنے والے ہیں۔پوری صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کرشنا بھیریگوڑا نے کہا کہ لوگ مخلوط حکومت کی حکمرانی سے پہلے ہی تنگ آچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو واضح اکثریت ملے گی اور کانگریس کو کسی بھی دوسری پارٹی سے بات چیت کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔واضح رہے کہ 13 مئی کو ووٹوں کی گنتی ہوگی اوراِسی دوپہر تک مطلع صاف ہوجائےگا کہ اِس بار عوام نے سرکار بنانے کے لئے کس کو موقع دیا ہے۔ کیا کسی ایک پارٹی کو مکمل اکثریت حاصل ہوگی یا پھردوسری پارٹی کے ارکان اسمبلی کو ساتھ لے کر یا آزاد اُمیدواروں کو ساتھ لے کراقتدار حاصل کرنا ہوگا۔