اُمت سے ایک اپیل

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
تعلیمی سال24-2023 کاآغاز ہوچکاہے،ایسے میں والدین اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے اچھےا سکول وکالج کو منتخب کرنے کی کوشش کرتے ہیں،اس کوشش کے دوران والدین اپنے بچوں کی تعلیم کیلئے ہر قیمت اداکرنے کیلئے تیارہوتے ہیں۔ایسے میں کئی والدین کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ اچھے تعلیمی ادارے کا مطلب اچھی بلڈنگ،اچھا یونیفارم،اچھا ٹرانسپورٹیشن کا نظام اور زیادہ سے زیادہ فیس اداکرنا ہے۔لیکن حقیقت میں ایسانہیں ہے کہ اچھی بلڈنگ اچھے یونیفارم سے بچوں کا مستقبل سنورتاہے،بلکہ اچھی تعلیم وہ ہے جہاں پر تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت دی جائے،بچوں کے اخلاق کو بہتر بنایاجائے۔خصوصاً مسلمانوں کیلئے اچھے اخلاق ہی قیمتی چیزہے جو گھر اور اسکول میں ہی مل سکتے ہیں۔باوجود اس کے مسلمانوں کا بڑا طبقہ مسلمانوں کے تعلیمی اداروں میں داخلہ دلوانے سے گریز کرتاہے جس کی وجہ سے آئے دن بچے نئے نئے فتنوں کا شکارہورہے ہیں،جس کا اندازہ اُمت مسلمہ کو نہیں ہورہاہے۔کچھ سال قبل تک ہمارے مسلم معاشرے میں یہ شکایت ہوتی رہی ہے کہ مسلمانوں کے اچھے تعلیمی ادارے نہیں ہیں،مگر الحمدللہ،اس وقت مسلمانوں کے تعلیمی ادارے دوسروں کے تعلیمی اداروں سے بہتر ہیں جہاں پر بچوں کو موجودہ دورکے مطابق تعلیمی سہولیات دی جارہی ہیں۔یہاں پر کمپیوٹر سے لیکر کراٹے کلاس ،کھیل کود،کلچرل آیکٹیویٹیز اور اسکول کی تعلیم بہتر طریقے سے دی جارہی ہے،مگر اب بھی مسلم سماج کا بڑاحصہ مسلمانوں کے تعلیمی اداروں پر یقین کرنے سے گریز کررہاہے،جس کے نتیجے میں مسلم تعلیمی ادارے یہ سوچنے پر مجبور ہورہےہیں کہ آخرہم مسلم تعلیمی ادارے اور کیا سہولت دیں؟کیا موجودہ تعلیمی اداروں کو اسلامک طرزِ عمل سے ہٹاکر غیروں کی طرح تعلیمی ادارے کھولیں،جہاں پر لڑکیوں کے یونیفارم پوری طرح آدھے ہوں، جہاں پر لڑکوں کو کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کی سہولت دی جاتی ہے،جہاں پر رام نومی،دیوالی اور دیگر غیرشرعی پروگراموں میں شرکت کا مواقع دئیے جاتے ہیں۔مسلمانوں کیلئے صرف عصری تعلیم ہی کامیابی کا ذریعہ نہیں ہےبلکہ اسلامی تہذیب وتمدن بھی مسلمانوں کیلئے اہمیت کے حامل ہیں،کیونکہ ایک مسلمان کو یہ دنیا مختصر ہے،آخرت کا سفر ہی ان کی منزل ہے۔اس لئے ہم مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ مسلمان اپنے بچوں کو اسلامی تہذیب کی تربیت دینےوالے اور مسلم بچوں کو اپنے بچے سمجھ کر ان کی نگرانی کرنےوالے تعلیمی اداروں میں داخلہ دلوائیں۔دیکھاجارہاہے کہ حجاب،پردہ ،نماز جیسی اسلامی اقدارکو ختم کرنے کیلئے غیر مسلم تعلیمی اداروں میں باقاعدہ تحریکیں چل رہی ہیں اور مسلمانوں کو ان کے دین سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے،یقیناً یہ بہت بڑی سازش ہے،اس سازش سے مسلمان آگاہ ہوجائیں۔چونکہ ایس ایس ایل سی اور پی یوسی میں تعلیم حاصل کرنےوالےبچےاپنی زندگی کا فیصلہ بہتر طریقے سے نہیں کرپاتے اور اُنہیں اچھے بُرے کی شناخت نہیں ہوتی،ایسے میں والدین اپنے بچوں کا دل رکھنے کیلئے اُن کے فیصلوں پرجانے کے بجائےبہتر یہ ہے کہ اپنی عقل اور سوچ بوجھ کو سامنے رکھتے ہوئےمسلم تعلیمی اداروں کو اہمیت دیں اور مسلم تعلیمی اداروں سے اُمید رکھیں کہ آپ کے بچوں کا وہ مستقبل سنوارینگے۔