صوبیدار عبدالحمید سرکل تو نہ بن سکا ، گاندھی بسپا سرکل اور روڈ بن گیا 

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ :۔ شہر کے نیو منڈلی سرکل کو صوبیدار عبدالحمید سرکل کے نام سے موسوم کرنے کی بات پچھلے 15 سالوں سے یہاں کے سماجی کارکنان ، لیڈران اور کارپوریٹر کرتےآئے ہیں ، اس سلسلے میں کئی بار کارپوریشن اور متعلقہ محکموں کے سامنے گذارشات کرتے بھی آئے ہیں لیکن اب نیومنڈلی سرکل کو گاندھی بسپا سرکل اور 100 فٹ روڈ کو گاندھی بسپا روڈ کا نام دے دیا گیا ہے جس کی اطلاع شاید ہی مقامی سماجی کارکنان ، لیڈران اور کارپوریٹر کو ہوگی ۔ شہر کے نیومنڈلی  کے  ین ٹی روڈ سرکل ، بائی پاس سرکل اور نیومنڈلی سرکل کو مسلم قائدین کے نام سے موسوم کرنے کیلئے پچھلے 15 سالوں سے باتیں کی جارہی ہیں لیکن اس تعلق سے سنجیدگی سے کام نہیں ہواہے جس کے نتیجے میں  نیو منڈلی سرکل کا نام باضابطہ طورپر گاندھی بسپا سرکل رکھ دیا گیا ہے ، جس سرکل کو صوبیدار عبدالحمید سرکل رکھنا تھا وہاں پر گاندھی وادی گاندھی بسپا کا نام رکھ دیاگیا ہے ، باقی بچے ہوئے دو سرکل جس میں نیو منڈلی ین ٹی روڈ کے سرکل کو مولانا ابوالکلام آزاد سرکل کانام اور بائی پاس سرکل کو حضرت ٹیپوسلطان سرکل کا نام دینا ہے وہ کام بھی شاید ہی پورا ہوسکے گا کیونکہ اس وقت مقامی سیاست صرف سوشیل میڈیا تک محدود ہوچکی ہے اور عملی طورپر کام کرنے کیلئے کوئی آگے نہیں آرہاہے ۔ دوسری جانب راتوں رات کئی علاقوں میں غیر اپنے اپنے مذہبی قائدین اور سیاسی قائدین کا نام سڑکوں ، چوراہوں اور سرکلوں کے نام رکھ رہے ہیں مگر مسلم اکثریتی علاقوں میں غور و فکر کا سلسلہ پچھلے 15سالوں  سے چل رہاہے ۔علامہ اقبال اور مرزا غالب اسٹریٹ غائب : شہر کے آریم یل نگر کے مین روڈ کو سال 2013 میں علامہ اقبال روڈ کا نام دیاگیا تھا لیکن مقامی لوگوں کی عدم توجہ سے اس روڈ کو کوئی بھی علامہ اقبال روڈ کے نام سے استعمال نہیں کیا جارہا ہے ، یہاں پر کئی تعلیمی ادارے اور دکانیں ہیں مگر ان دکانداروں کی جانب سے بھی علامہ اقبال روڈ کا نام استعمال نہیں ہورہاہے ۔ وہیں شہر کے بی ہیچ روڈ سے لشکر محلہ کو جڑنے والی سڑک کانام مرزا غالب اسٹریٹ رکھا گیا تھا اس سڑک کا نام بھی مرزا غالب اسٹریٹ کے نام سے استعمال کرنا چھوڑ دیا گیا ہے ، ایسے میں مسلم قائدین ، ادباء اور شعراءکے ناموں سے جوڑے جانے والے مقامات کیسے باقی رہیں گے یہ سوچنے والاسوال ہے ۔