شیموگہ:۔مائکروفائنانس یعنی سنگھا جو معاشرے میں اس وقت کینسرکی طرح پھیل چکاہے،اُس کی زدمیں کئی مسلم گھرانے بھی آچکے ہیں،خصوصاً غریب طبقے کے گھرانے اس وباء کا شکارہورہے ہیں۔معمولی رقومات کو سودکے عوض قرضے میں لیکر جس طرح سے مسلم خواتین پریشانیوں کا شکارہورہی ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہورہاہے۔ان معمولی قرضہ جات کے عوض میں جہاں مسلمان سودکے دلدل میں پھنس رہے ہیں وہیں سودکی رقم ادانہ کرنے کی وجہ سے مسلم عورتوں کی عزت وآبرو کے ساتھ کھلواڑکیاجارہاہے۔اسی طرح کاایک معاملہ پیش آیاہے جہاں پر ایک خاتون نے محض5 ہزار روپئے کا قرضہ مائکرو فائنانس یعنی سنگھامیں لیاتھا،اس رقم کی ادائیگی بروقت نہیں ہوئی،جس کی وجہ سے سودکی رقم میں اضافہ ہونے لگا۔جس مائکروفائنانس کے ذریعے سے یہ رقم اداکی گئی تھی اُس رقم کی وصولی کرنےوالے ملازم نےاس عورت پر دبائوڈالا،مگر گھریلو پریشانیوں کی وجہ سے یہ رقم ادانہیں ہوئی،جس کے بعد اس ملازم نے عورت کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کی کوشش کی ،مگر بروقت اس ملازم کی گھٹیا حرکت کو محسوس کرتے ہوئے جب مقامی نوجوان گھرکے اندرداخل ہوئے تو وہ رنگے ہاتھوں پکڑاگیا،جس کے بعد اس ملازم کے خلاف زیادتی کرنے کے الزام میں پولیس تھانے میں معاملہ درج کروایاگیاہے۔پہلے تو پولیس اہلکار اس معاملے کو درج کرنے سے انکار کرتے رہے،مگر مسلم ڈیولپمنٹ فورم کے ذمہ داروں نے اس تعلق سے قانونی کارروائی کرنے کیلئے ڈبائوڈالاتو پولیس نے معاملے کو در ج کرلیاہے اور ملازم کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔ مسلم ڈیولپمنٹ فورم کے کنوینیر محمد وثیق نے بتایاکہ اس طرح کے معاملات آئے دن معاشرے میں ہورہے ہیں،لیکن اس سمت میں مسلم سماج کی خاموشی سود اور زناجیسے معاملات کو بڑھاوادے رہی ہے۔اگر ایسے ہی حالات رہے تو یقیناً مسلمانوں کیلئے آنےوالے دنوں میں مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔انہوں نے اس معاملے کو درج کروانے میں تعائون کرنےوالے عمران خان،امجد خان،محمد پرویز اور ناہید کی کوششوں کو بھی سراہا،جنہوں نے پولیس میں معاملے کو درج کروانے اور متاثرہ کی مددکرنے میں بڑھ چڑھ حصہ لیا۔غورطلب بات یہ ہے کہ مائکروفائنانس جسے عام طورپر سنگھا کہتے ہیں ،اس میں قرضہ لینے والے مسلم گھرانے اپنی مجبوریوں کو گنتے ہیں،جبکہ یہ معاملہ پوری طرح سے سودی کاروبارہے،جو واقعہ شہرمیں پیش آیاہے یہ صرف ایک واقعہ سامنے آیاہے جبکہ ایسے کئی معاملات ہیں جو منظرِ عام پر نہیں آرہے ہیں۔عام طورپر سنگھا دینےوالے جو ملازم ہوتے ہیں وہ خواتین کو بہلا پھسلا کر غلط راہ میں لے جارہے ہیں ،اس کا علم عام لوگوں کو نہیں ہورہاہے،یہاں تک کہ خود ان کے گھروالے بھی ان معاملات سے لاعلم ہیں۔پچھلے پانچ سالوں میں چار خواتین ان سنگھا کے SIRکے ساتھ رفوچکرہونےکے معاملات بھی درج ہوچکے ہیں۔اس سنگین مسئلے پر غوروفکرکرنے اور ان حالات کوبہتر بنانے کیلئے مسلم سماج کے ذمہ داروں کو آگے آناہوگا،جس طرح سے الیکشن کے وقت کسے ووٹ دیناہے عنوان پر بحث،غوروفکر اور لائحہ عمل تیارکیاگیاتھا،اسی طرح سے اس سماجی برائی کو ختم کرنے کیلئے سب کو مل جل کر ترتیب بنانی ہوگی،ورنہ اُمت مسلمہ کی خواتین کا استحصال ایسے ہی ہوتے رہے گا۔
