وارانسی: کاشی وشوناتھ مندر اور گیان واپی مسجد کیس میں وارانسی کی فاسٹ ٹریک عدالت نے آثار قدیمہ کا سروے کرانے کی منظوری دے دی ہے۔ مندر کے فریق کو راحت دیتے ہوئے اور فریق وجے شنکر رستوگی کی عرضی کو منظور کرتے ہوئے عدالت کے جج آشوتوش تیواری نے یہ فیصلہ سنایا ہے ۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد رام جنم بھومی ایودھیا کی طرح اب گیان واپی مسجد کی کھدائی کر اے ایس آئی (آثار قدیمہ کے سروے آف انڈیا) مندر کے حق کے دعوے کی جانچ کرے گی۔ بتادیں کہ 10 دسمبر 2019 سے ، آثار قدیمہ کا سروے کرانے کے لئے وارانسی کی فاسٹ ٹریک عدالت میں مندر فریق اور مسجد فریق کی طرف سے بحث ہوئی تھی۔ جس میں عدالت نے جمعرات کو اپنا فیصلہ دے کرمندر فریق کو راحت دی ہے ۔ عدالت نے مرکزی حکومت اور یوپی حکومت کو ایک خط کے ذریعےاس معاملے میں محکمہ آثار قدیمہ کی پانچ رکنی ٹیم بنا کر پورے احاطے کا ایک آثار قدیمہ کا سروے کرانے کا حکم دیا ہے ، جس کا خرچ خود مرکزی اور ریاستی حکومت خود اٹھائے گی اور اس کی رپورٹ کو پیش کریگی۔عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مندر کے فریق وجے شنکر رستوگی نے کہا کہ اس سروے کے بعد یہ واضح ہوجائے گا کہ متنازعہ جگہ مسجد نہیں، بلکہ ادی وشیشور مہادیو کا مندر ہے۔ غور طلب ہے کہ گیان واپی احاطے کے آثار قدیمہ کے سروے کی درخواست پر سول جج سینئرڈویژن فاسٹ ٹریک عدالت میں 2 اپریل کو بحث پوری ہوئی تھی ۔ عدالت نے اس معاملے میں تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس فیصلے کو محفوظ رکھ لیا تھا ۔کاشی وشوناتھ مندر فریق کے وکلا ء وجے شنکر رستوگی ، سنیل رستوگی اور راجندر پانڈے نے عدالت میں استدلال کیا تھا کہ آثار قدیمہ کے ثبوت کے لئے ایسا کرنا جائزہے۔ جس پر گیان واپی مسجد فریق نے اعتراض کیا تھا ۔ وہیں ،انجمن انتظامیہ مساجد اور سنی سنٹرل وقف بورڈ کے وکلا ء نے متنازعہ ڈھانچے کے آثار قدیمہ کے سروے پر اعتراض کیا تھا۔
