گمراہی کا شکار مسلم نوجوان کررہے ہیں قتلِ عام،آخرکیاہے اس کی وجہ؟

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔شیموگہ شہرمیں پچھلے بیس سالوں سے100 کے قریب مسلم نوجوانوں کے قتل کی وارداتیں پیش آئی ہیں،ان تمام وارداتوں کا جائزہ لیاجائے تو یہ وارداتیں حق اور باطل کی لڑائی میں تو نہیں ہوئی ہیں اور نہ ہی کسی او رمذہب کے لوگوں کی جانب سے مذہب کی بنیاد پر قتل کیاگیاہے۔اس کے علاوہ جن لوگوں نے دوسروں کا قتل کیاہے وہ قتل بھی حق کیلئے نہیں بلکہ اپنے مفادات اور آپسی رنجش کی بنیادوں پر کئے گئے ہیں۔انہیں وارداتوں میں کل یعنی بُدھ کے دن بھی ایک واردات پیش آئی ہے جس میں آصف نامی نوجوان کا قتل ہواہے۔اس نوجوان کی قتل کی وجہ سے جب جاننے کی کوشش کی گئی تو یہ معاملہ ایک عورت کے ساتھ ناجائز رشتے پر مبنی تھا۔ایسے ہی قتل اس سے پہلے بھی ہوئے ہیں جن میں نوجوان نشے کی حالت میں،پیسوں کے لین دین اور گانجہ،افیم،شراب جیسے نشہ آوارچیزوں کی لت کی وجہ سے یہ وارداتیں انجام دی گئی ہیں۔اس طرح کے معاملات سے جہاں کئی گھرانےاُجڑگئے ہیں،وہیں ان قتل کی وارداتوں کو انجام دینےوالے ملزمان جیلوں میں بند ہیں۔جملہ طورپر یہ کہاجاسکتاہے کہ آج کے مہذب سماج میں بھی غیر مہذب لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ جو نوجوان نشے کی حالت میں قتل ہورہے ہیں ان نوجوانوں کے تعلق سے عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ سماج کیلئے داغ ہیں،ان کے رہنے یا نہ رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔یقیناً ایسے لوگوں کے رہنے سے سماج کیلئے کوئی فائدہ نہیں ہے مگر اُن لوگوں کیلئے بہت ہی بُرا اثرپڑتاہے جو قاتل اور مقتول کے خاندانوں سے جڑے ہوتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر مسلم نوجوان کس راستے جارہے ہیں جوان کی بدکاریاں اور درندہ صفت حرکتوں سے سارے معاشرے کوتباہ کئے جارہے ہیں۔آخر کیوں مسلم نوجوان ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں،کیا ان میں اب انسانیت باقی نہیں ہے؟۔درحقیقت جو نوجوان ان معاملات میں ملوث ہورہے ہیں وہ صحیح اور غلط کو پہچاننے میں ناکام ہیں،یہ نوجوان اپنی عارضی خوشیوں کے خاطر پوری زندگی تباہ کررہے ہیں۔معاشرے میں جیسے جیسے بدکاریاں بڑھ رہی ہیں اُسی رفتارکے ساتھ جرم کی دنیامیں نوجوان اپنے قدم رکھتے ہوئے زندگیاں تباہ کررہے ہیں۔ان حالات میں مسلم معاشرے پر اب ذمہ داریاں بڑھ چکی ہیں۔خصوصاً والدین کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت پر خاص توجہ دیں،اس کے علاوہ سماج کے ذمہ داران حالات پر فوری طورپر ایسی تحریک چلائیں جس سے نوجوانوں کی اصلاح ہوسکے۔