یونیفارم سیول کوڈ اور مسلمان

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
بھارت کی لاء کمیشن نے پچھلے دنوں یونیفارم سیول کوڈ(یو سی سی)کو جاری کرنے کے تعلق سے مختلف مذاہب کے نمائندہ تنظیموں سے رائے طلب کی ہے اوریونیفارم سیول کوڈ کو نافذ کرنے کے تعلق سے مرکزی حکومت سے بھی رائے پوچھی ہے۔یونیفارم سیول کوڈ کا معاملہ نیانہیں ہے،یہ معاملہ قریب چالیس سالوں سے سیاست کا مدعہ رہاہے۔اس حساس مدعے پر جہاں قانون دان اور مذہبی ماہرین بحث ومباحثے اور مخالفت اور موافقت کی بات کررہے ہیں،وہیں اس معاملے کو لیکر کچھ لوگ اس قدر جوش میں ہیں کہ وہ وہی اس معاملے کی نمائندگی کرینگے۔سوشیل میڈیاپر کچھ ایسے پوسٹس آرہے ہیں جس میں بتایاجارہاہے کہ لاء کمیشن کو فلاں طریقے سے فلاں لوگ اپنا اعتراض درج کروائیں،حالانکہ لاء کمیشن نے واضح طورپر کہاہے کہ نمائندہ لوگ یا نمائندہ تنظیمیں ہی اس مدعے پر اپنی رائے رکھیں۔مگر ٹی وی چینلوں کے اینکر ،گلی کوچوں کے لیڈر،سوشیل میڈیاکے ماہر سبھی یونیفارم سیول کوڈکے تعلق سے بات کررہے ہیں۔جبکہ کئی لوگوں کو تویونیفارم سیول کوڈکی بنیادتک نہیں معلوم ہےاور نہ ہی اس سلسلے میں انہوں نے جاننے کی کوشش کی ہے،بس جوش میں آئے اور کچھ بھی سوشیل میڈیاپر بک دئیے۔درحقیقت یونیفارم سیول کوڈکا معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہےاور نہ ہی اس معاملے کی نمائندگی مسلم پرسنل لاء بورڈ کرتاہے، بلکہ یہ بھارت کی مختلف تنظیموں،مذاہب اور ذاتوں سے جڑا ہوامسئلہ ہےاور اس قانون کا سب سے زیادہ اثر بھارت کے پسماندہ طبقات،ایس سی ایس ٹی اور دیگر اقلیتوں پر پڑنےوالاہے۔اس مدعے کو عین انتخابات کے وقت اچھال کر سنگھ پریوارمسلمانوں میں بےچینی پیداکررہاہےاور مسلمان ان کے ایجنڈے کے مطابق سب سےز یادہ بے چین ہورہے ہیں۔شادی،طلاق،خلع،جائیدادکی تقسیم یہ معاملہ یونیفارم سیول کوڈ کے ماتحت لانے کی کوشش ہورہی ہے جبکہ ان معاملات سے سب سے زیادہ منفی اثراوبی سی اور ایس سی ایس ٹی کو ہونےوالاہے،تو ایسے میں مسلمان جذباتی ہونے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔مسلم پرسنل لاء ہویاپھر یونیفارم سیول کوڈہویا بھارت کے آئین میں تبدیلی لانے کے تعلق سے سنگھ پریوارکے ایجنڈے ہوں،یہ سب لانگ پروسس کے تحت آتے ہیں،ایسے میں مسلمانوں میں جو نیم حکیم ہیں وہ ان مدعو ں پربات کرتے ہوئے میڈیاکو منفی تعصب پیش کرنے کا موقع نہ دیں۔جس طرح سے ایک درزی اچھے کپڑے تیارکرتاہے،جس طرح سے ایک باورچی اچھا کھاناپکاسکتاہےاور ایک درزی کپڑے ہی کاٹ سکتاہے نہ کہ کسی بال تراشنے میں اُس کو مہارت ہوتی ہے،جس طرح سے ایک باورچی اچھا کھانا پکاسکتاہے اور وہ کسی گاڑی ٹھیک نہیں کرسکتا،اُسی طرح سے قانون کے ماہرین کو قانون دان ہی جان سکتے ہیں اور اُس پر وہی بات کرسکتے ہیں۔خوامخواہ ایرے غیرے یونیفارم سیول کوڈکے تعلق سے بے چین ہونے کے بجائےاپنے معاملات پر غورکریں، مسلم پرسنل لاء اور یونیفام سیول کوڈکے تعلق سے غورکرنے کیلئے مسلم پرسنل لاء بورڈ موجودہے، وہ اس معاملے کو سنجیدگی کے ساتھ حل کریگا۔ فی الحال عام مسلمان اپنی قوم کو تعلیم یافتہ بنانے پر غورکریں،اپنے بچوں کو نشہ اور بُری چیزوں سے دوررکھنے کے تعلق سے فکرکریں،جو مسلم لڑکیاں مرتدد ہورہی ہیں یاپھر دین سے دورہورہی ہیں اُن لڑکیوں کی تربیت کے تعلق سے غورکریں،اسلام کے بنیادی اصولوں سے اُنہیں واقف کروائیں،نوجوان نسلوں کو دین دُنیا اور آخرت کے تعلق سے بیدارکریں،یہ مسلمانوں کیلئے بنیادی کام ہے،مسلمان اس سمت میں پختے ہوجائینگے تو اُنہیں کوئی قانون ورغلانہیں سکتا۔مسلمانوں نے سفر کیلئے تیاری نہیں کی ہے اورمنزل کے بارے میں سوچنا شروع کیاہے۔کچھ جذباتی اور لاشعور لوگ مسلمانوں کے درمیان جذباتی پیغامات پھیلا کر اپنا اُلوسیدھاکرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ،جو حماقت کے سواء کچھ نہیں ہے۔