سائنسدانوں کو ملا پانچ لاکھ ڈالر کاسمندری خزانہ

انٹرنیشنل نیوز سلائیڈر
اسپین:۔اسپین کے کیناری جزیرے میں لا پالما کے ساحل پر ایک مردہ سپرم وہیل کی انتڑیوں میں سائنسدانوں کو ایک دلچسپ خزانہ ملا ہے جس کی مالیت پانچ لاکھ ڈالر ہو سکتی ہے۔یہ نو کلو کا پتھر ’عنبر گرس‘ کہلاتا ہے اور مقامی میڈیا کے مطابق اس کی مالیت امریکی ڈالر پانچ لاکھ تک بتائی جا رہی ہے۔یہ وہیل 13 میٹر لمبی اور تقریباً 20 ٹن وزنی ہے اور مئی کے وسط میں یہ لا پالما میں نوگالس کے ساحل پر پائی گئی تھی۔ عنبر گرس کیا ہے؟:۔جب سپرم وہیل کیٹل فش، آکٹوپس اور یا ایسے کسی دوسرے سمندری جانور کو کھاتی ہے تو اس کے ہاضمے کا نظام ایک خاص قسم کی رطوبت پیدا کرتا ہے تاکہ شکار کے نوکیلے کانٹے اور دانت وہیل کے جسم کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔اس کے بعد سپرم وہیل اس ناپسندیدہ کیمیائی مادے کو قے کے ذریعہ اپنے جسم سے نکال دیتی ہے۔ کچھ محققین کے مطابق سپرم وہیل پاخانے کے ذریعے بھی عنبر گرس نکالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہیل کا شکار بننے والی سمندری مخلوق کے جسموں کے نوکیلے حصے بھی اس کے فضلوں میں پائے جاتے ہیں۔ وہیل کے جسم سے نکلنے والا یہ مادہ سمندر کی سطح پر تیرتا رہتا ہے۔سورج کی روشنی اور سمندر کے نمک سے ملنے کے بعد عنبر تیار ہوتا۔ خوشبو دار چیزیں بنانے کیلئےعنبر بہت کار آمد ہے۔عنبر سیاہ، سفید اور سرمئی رنگ کا چربی دار مادہ ہے۔ یہ بیضوی یا گول شکل میں ہوتا ہے۔ یہ سمندر میں تیرتے ہوئے ایسی شکل اختیار کرتا ہے۔عنبر گرس کو دنیا کی مہنگی ترین خوشبو سمجھا جاتا ہے، جس کی چند گرام قیمت بھی لاکھوں اور کروڑوں روپوں میں ہوتی ہے ۔ یہ ایک ٹھوس، مومی اور آتش گیر مادہ ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق وہیل کے جسم سے خارج ہوا مادہ یا عنبر ابتدا میں بدبو دار ہوتا ہے لیکن جیسے ہی اس کا ہوا سے رابطہ بڑھتا ہے اس کی بدبو ایک میٹھی خوشبو میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ عنبر خوشبو کو ہوا میں اڑنے سے روکتا ہے۔ ایک طرح سے یہ سٹیبلائزر کا کام بھی کرتا ہے تاکہ بو ہوا میں تحلیل نہ ہو جائے ۔ عنبر نایاب ہے اور اسی وجہ سے اس کی قیمت بھی بہت زیادہ ہے۔ اسے سمندری سونا یا تیرتا ہوا سونا بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی قیمت مارکیٹ میں سونے سے زیادہ ہوئی ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں اس کی قیمت ڈیڑھ کروڑ روپے فی کلو تک ہو سکتی ہے۔پرفیوم کی صنعت میں ’عنبر گرس‘ نامی پتھر کو اس کی خصوصیات کے باعث بہت زیادہ قیمتی سمجھا جاتا ہے۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ایک سے پانچ فیصد سپرم وہیل ہی اسے پیدا کرتی ہیں جس سے اس کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے۔