فرقہ پرست حکومت کی پی ایف آئی پر بُری نظر،ٹیکس کی مراعات منسوخ

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔بھارت کے محکمہ انکم ٹیکس نے اہم فیصلہ لیتے ہوئے پاپولر فرنٹ آف انڈیاکو تنظیمی و فلاحی بنیادوں پر دی جانے والی ٹیکس کی رعایتوں ودیگر مراعات کو منسوخ کرتے ہوئے اسے ٹیکس کے دائرے میں لایاہے،جس سے پھر ایک مرتبہ یہ ثابت ہوچکاہے کہ بی جے پی حکومت پی ایف آئی کوکمزور کرنے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زورلگارہی ہے۔انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کا کہناہے کہ پی ایف آئی نے سیکشن13/1(بی) کے تحت قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس پر الزامات ہیں کہ وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے اورمنی لانڈرنگ سمیت کئی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔پی ایف آئی کو ٹرسٹ کے طور پر پیش کیاگیاتھا،مگر اس کے جو اغراض و مقاصد بتائے گئے تھے وہ پورے نہیں ہورہے ہیں،اس لئے انکم ٹیکس کے سیکشن 12AA،(3 کے تحت رعایتوں کومنسوخ کیا جائیگا  اور پی ایف آئی کو دی گئی80Gکی رعایت کو بھی منسوخ کیا گیا ہے ۔ ان قوانین کو منسوخ کرنے کے بعد پی ایف آئی اب بیرونی ممالک سے چندہ وصول نہیں  کرسکتی ہے۔پی ایف آئی پر مزید الزام تراشی کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ پی ایف آئی کی جانب سے وصول کئے جانے والے چندے کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کیلئے استعمال کیاجارہاہے اور پی ایف آئی منی لانڈرنگ کے معاملات پر ملوث ہے،اس تعلق سے اینفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی خصوصی عدالت میں کیس بھی چل رہاہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق سال2013 میں این آئی اے کی خصوصی عدالت میں درج شدہ معاملے میں بتایا گیا ہے کہ پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی اپنے کارکنوں کو دہشت گردی کی تربیت دے رہے ہیں اورنوجوانوں کو گمراہ کررہے ہیں۔اس لئے ان کو دی گئی مراعات کو منسوخ کیا گیا ہے ۔دوسری جانب بھارت کے سیکولر لوگوں کاسوال یہ ہے کہ جب پی ایف آئی پر اتنی ساری کارروائیاں ہورہی ہیں تو آر ایس ایس جو بھارت کی سب سے بڑی تنظیم مانی جاتی ہے،اُس کے رجسٹریشن کے تعلق سے کیوں سوال نہیں کیاجارہاہےاوران کے لین دین کے تعلق سےکیوں حساب پوچھا نہیں جارہاہے۔اتنے سالوں سے اُن کی آمدنی واخراجات کاحساب کس کے پاس ہے،یہ بھی پوچھنا ضروری ہے۔غورطلب بات یہ ہےکہ اترپردیش میں اب انتخابات قریب ہوتے جارہے ہیں ،اس دوران بھاجپا حکومت کی کوششیں یہ ہورہی ہیں کہ کسی نہ کسی طریقےسے ملک میں مذہب کا کارڈ کھیلاجائے۔