پشاور:۔پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع دیر بالا پہنچنے والی ہندوستانی خاتون نے نصراللہ نامی نوجوان سے شادی کر لی ہے۔انجو نامی خاتون چند روز قبل ایک ماہ کے وزٹ ویزے پر پاکستان پہنچی تھیں اور اُس کی نصراللہ سے دوستی 2019 میں فیس بک کے ذریعے ہوئی تھی۔اطلاع کے مطابق منگل کو دیر بالا ڈسٹرکٹ کورٹ میں دونوں نے شادی کر لی۔یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ انجو نے اسلام قبول کر لیا ہے اور ان کا نام ’فاطمہ ‘رکھا گیا ہے ۔بھارت کی ریاست راجستھان کی رہائشی 34 سالہ انجو پاکستانی ویزے پر چند روز سے خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر میں مقیم ہے۔میڈیا کے مطابق انجو کی دیر کے رہائشی 29 سالہ نصراللہ سے 2019 میں فیس بک پر دوستی ہوئی تھی۔انجو نے پاکستان کے وزٹ ویزے کے لیے درخواست دی جو منظور کر لی گئی اور اُنہیں ایک ماہ کے لیے پاکستان کا ویزا مل گیا۔خاتون کے والد گیا پرساد نے کہا ہے کہ اُن کی بیٹی کی ذہنی صحت ٹھیک نہیں ہے جب کہ اُن کا کسی پاکستانی شہری سے لو افیئر نہیں ہے۔گیا پرساد نے میڈیا کو بتایا کہ اُن کی بیٹی ویزا لے کر پاکستان پہنچی ہے ۔ انجو کے والد نے بتایا کہ اُنہیں اُن کے بیٹے نے پیر کو بتایا کہ انجو پاکستان میں ہے۔ اُنہیں اس بات کا علم نہیں تھا کیوں کہ انجو شادی کے بعد کئی برس سے راجستھان کے ضلع الور میں مقیم تھیں۔انجو کے والد گیا پرساد کا کہنا تھا کہ انجو کے دو بچے ہیں جو اپنے والد کے ساتھ رہ رہے ہیں۔گیا پرساد کے بقول انجو نے بغیر کسی کو بتائے پاکستان کا سفر کر کے غلط کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں مان سکتے کہ انجو کا کسی کے ساتھ افیئر تھا۔ ان کے بقول وہ ایک آزاد خیال لڑکی ضرور ہے، لیکن وہ ایسا کوئی قدم نہیں اُٹھا سکتی ۔ رپورٹس کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی نے تصدیق کی ہے کہ انجو کو ایک ماہ کے لیے پاکستانی ویزا جاری کیا گیا جس کے تحت وہ اپر دیر میں ہی قیام کر سکتی ہیں۔اپر دیر کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر مشتاق خان نے میڈیا کو بتایا کہ انجو کا ویزا مستند ہے اور وہ میعاد ختم ہونے تک یہاں قیام کر سکتی ہیں۔مقامی صحافی کے مطابق انجو کی میزبانی کرنے والا خاندان انہیں کسی کے ساتھ بات کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔ وہ وزٹ ویزا پر پاکستان آئی ہیں اور میڈیا کا سامنا نہیں کرنا چاہتیں۔لعل خان نے مزید کہا کہ لڑکے کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انجو ہماری مہمان ہیں۔ ویزا ختم ہو گا تو وہ واپس چلی جائیں گی۔دیر بالا کے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) مشتاق خان نے کہا کہ انجو مقامی باشندے نصر اللہ کی دعوت پر پاکستان آئی ہیں۔ان کے بقول انجو اور نصر اللہ کے درمیان رابطہ سوشل میڈیا پر ہوا تھا۔وہ ایک ماہ کی وزٹ ویزے پر پاکستان آئی ہیں۔ انہیں ویزا نصر اللہ کی دعوت پر جاری کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ انجو واہگہ بارڈر سے پاکستان میں داخل ہونے کے بعد لاہور سے راولپنڈی آئیں۔ جہاں نصر اللہ اور انکے اہلِ خانہ نے ان کا استقبال کیا۔ جہاں سے وہ دیر بالا پہنچے۔ڈی پی او مشتاق خان نے کہا کہ بھارتی خاتون وفاقی وزارتِ داخلہ سے باقاعدہ اجازت لیکر دیر بالاآئی ہیں۔ پولیس حکام تمام دستاویزات کی تصدیق کر چکے ہیں۔
