بیت المال بن سکتا ہے مالامال

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز

شیموگہ: ملت اسلامیہ میں بیت المال کا جو نظام ہے اس نظام کو رائج کرنے کے تعلق سے اب بھی مسلمانوں میں کئی شک وشبہات ہیںاورمسلمان یہ سوچتے ہیں کہ بیت المال قائم کرنے کیلئے مسجد کمیٹی کا ہونا ضروری ہے۔ اورمسجد کمیٹیاں یہ سمجھتیں ہیں کہ بیت المال کا قائم کرنا گھنونی بات ہے یا پھر اس سے انکی عزت میں کمی آتی ہے، مگر یہ لوگ یہ سمجھ پاررہے ہیں کہ بیت المال سنت عمل ہےاور اسے مستقل طور پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورمیں قائم کیا گیا تھا، جس سے ساری اسلامی سلطنت استفادہ کرتی تھی، لیکن اب تو بیت المال کو کچھ مال دینا بھی نچلے درجے کا عمل سمجھا جاتا ہے اوراس سے استفادہ کرنا بھی نچلے درجے کی مدد سمجھی جاتی ہے۔ آپ اورہم اکثر دیکھتے ہیں کہ ہماری مسجدوں میں ماہانہ چندہ دیا جاتا ہے اور کئی فلاحی اداروں میں بھی چندہ لیا جاتا ہے۔ جس مسجدوں میں ماہانہ یا سالانہ چندوں کا نظام ہے ان مساجد میں اگرذمہ داران تھوڑی سی عقل لگاکر دو فیصدیا تین فیصدبیت المال فنڈجمع کرلیں تو کتنی بڑی مدد اس طریقے سے جمع ہوسکتی ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص مسجد کیلئے 50 روپےکا چندہ دے رہا ہےتو اس میں سے 3 فیصد بیت المال کیلئے ریزرو کیا جائے ، قریب 200 گھروں سے 50 روپئے کا چندہ لیتے ہیں تو10ہزار روپئے کا چندہ مسجد کو موصول ہوتا ہے، اسی طرح سے 200 روپئے کا چندہ دینے والے 200 گھر ہوں تو اس کا 5 فیصد حصہ بیت المال کیلئے ریزرو کیا جائے تو 2000 ہزارروپئےجمع ہونگے۔ اس طرح سے چھوٹی چھوٹی رقم بڑے پیمانے پر اکٹھا ہوسکتی ہے اوراس چھوٹی رقم سے بڑے بڑے کام کئے جاسکتے ہیں ۔ بیت المال کا قیام صرف مسجد کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ فلاحی تنظیمیں بھی کرسکتی ہیں۔ عام لوگ جو قوم کے تیئں فکر مند رہتے ہیں وہ بھی اس کار خیر کا آغاز کرسکتے ہیں۔ دراصل بیت المال کا نظام ایک فینانس ڈیپارٹمنٹ ہے جو کسی بھی موقع پر استعمال کیلئے مفید ہے۔ اکثر مسلمان یہ سوچتے ہیں کہ بیت المال صرف لاوارث میتوں کی تجہیز وتدفین کیلئے استعمال ہونے والی رقم ہے جبکہ بیت المال پورے اسلامی معاشی نظام کو سنبھالنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اگر اس سلسلے کو مقامی ذمہ داران ، امراء ،وعمائدین ، نوجوانوں کی طرف سے پیش رفت ہوتی ہے تو یقین مانئے مسلمان کسی کے محتاج نہیں ہوسکتےاوروہ اپنے مالی مسائل کو خود کرسکتے ہیں۔