مفاہمتی مسلمان

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔9986437327
بات چاہے بابری مسجدکی ہو یاپھرگروہی تشددکی،بات چاہے حجاب کی ہو یاپھر اذان کی،بات چاہے گلی کے جھگڑوں کی ہویاپھر فرقہ وارانہ تشددکی۔ہر بات میں ملک کے مسلمانوں کی نمائندگی کرنےوالےاور قائدین مفاہمت پر اتر آتے ہیں۔حالانکہ مفاہمت کرنے والے لوگ یہ جانتے ہوئے بھی حق اور ناحق ایک ساتھ نہیں چل سکتے،ظالم اور مظلوم ایک جیسے نہیں ہوسکتے،ظلم کا ترازو ہمیشہ ہلکاہوتاہےاور مظلوم کاپلڑا بھاری ہوتاہے،باوجوداس کے مسلمان مفاہمت کے نام پر ظالموں کا ساتھ دینے کیلئے اترآتے ہیں اور اسے حکمت اور صبر کا نام دیتے ہیں۔کئی معاملات ہمارے سامنے ایسے آتے ہیں جس میں ظلم کرنےوالے کو سزا دی جاسکتی ہے اور یہ سزا دوسروں کیلئے عبرت ہوگی،مگرمفاہمتی مسلمان اس مرحلے کو پارکرنے کا موقع ہی نہیں دیتے بلکہ و ہ اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنے کیلئے کامپرامائز ٹیکنیکس کا استعمال کرتے ہیں۔یقیناً مسلمانوں کو بعض معاملات میں مفاہمت کرناچاہیے،لیکن جب معاملہ حد سے تجاویز کرجاتاہے تو ان معاملات میں کسی بھی حال میں کامپرامائز نہیں کرناچاہیے۔عام طورپر دیکھاگیاہے کہ کامپرامائز کرنےوالے لوگ پولیس اور سیاستدانوں کے دلال ہواکرتے ہیں اور یہ کامپرامائز کے معاملات کو لیکر ایک تو عوام میں ہیروبننے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسرا پولیس اور سیاستدانوں سے واہ واہی لوٹنے اور اُن سے قربت حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔جب کسی غیر مسلم کی طرف سے مسلمان پر ظلم ہوتاہے تو ایسے معاملات کو لیکر قانون کا سہارالیکر ظالم کو سزادلوانے کی کوشش تو ہرگزنہیں کی جاتی البتہ یہ کہاجاتاہے کہ ہمیں پولیس کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے،کیونکہ کل کے دن پولیس کا ساتھ ہمارے لئے درکارہوتاہے۔حقیقت میں دیکھاجائے تو ساتھ دینا اور لینا الگ بات ہے،لیکن قانون کا استعمال کرنا اہم بات ہے۔کئی ایسے معاملات جس میں ظالموں کو سزادلوائی جاسکتی ہے،اُن معاملات کو بھی کامپرامائز فارمولے پر عمل کرتے ہوئے ظالموں کیلئے مسلمان ہی میدان وسیع کررہے ہیں۔کئی گروہی تشددکے معاملات،بسوں اور ریلوں میں مسلمانوں پر حملے،مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر حملے،مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز الفاظ کا استعمال،مسلمانوں کے خلاف زہریلی تقریریں یہ تمام قابلِ مذمت ہی نہیں بلکہ قابلِ سزابھی ہیں،مگر مسلمانوں کا دانشمند طبقہ ان معاملات کو ہلکے سے لیتاہے اور یہ کہتے ہوئے دیکھاگیاہے کہ جانے دیں ان باتوں کابڑھاوانہ دیں،ایسی ہی باتوں سے فرقہ پرستوں کے حوصلے بلندہوتے ہیں،شرپسند اپنے آپ کو اعلیٰ مانتے ہیں۔حال ہی میں جئے پور ممبئی ایکسپریس میں ایک پولیس کانسٹیبل نے مسلمانوں کو شہیدکیاتھا،اس کانسٹیبل کے خلاف محکمہ جاتی تحقیقات اور کارروائی ہورہی ہے،لیکن اس معاملے کی پیچیدگی اور گہرائی کو جانچنے کیلئے بڑے پیمانے پر تحقیقات کی ضرورت ہے،جس کی ذمہ داری سی بی آئی یا ججوں کی کمیٹی کے ذریعے سے کروانی چاہیے تھی،مگر افسوس کہ اس معاملے پر آوازاٹھانےوالے کوئی نہیں ہیں۔ہماری جو قیادت کرنےوالی تنظیمیں یا قائدین ہیں وہ صرف مذمتی بیان دیکر خاموش ہوچکے ہیں۔ملک میں مزید مفاہمت کرنے کے بجائے ردِ عمل ظاہرکرنے کی ضرورت ہے اور یہ ردِ عمل ظاہرکرنے کیلئے آئین ہندنے مختلف طریقوں سے اس ملک کے شہریوں کو مواقع دئیے ہیں،مگر مسلمان ان مواقعوں کااستعمال کرناہی نہیں چاہتے۔