لاک ڈائون کھلتے ہی شاندار شادیوں کیلئے لوگوں کی تیاریاں،کیا یہ دعوتوں کی جہالت نہیں؟

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز
شیموگہ:۔کورونا سے اس وقت ملک بھر میں مرنےو الوں کی تعداد4لاکھ ہوچکی ہے اور دنیا بھر میں 40لاکھ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں اور اس وقت اب بھی بھارت میں 3کروڑ افراد اس مہلک بیماری سے متاثرہیں،لاک ڈائون نافذ کرتے ہوئے اس بیماری کو ختم کرنے یا کم ازکم نرم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔حکومت باربار اس بات کی ہدایت دےرہی ہے کہ اس دوسری لہرکے بعد لوگ احتیاط برتیں اورقطعاً لاپرواہی نہ برتتے ہوئےکوروناکے تعلق سے نافذ کردہ قوانین کو نہ توڑیں اور نہ ہی کچھ مہینوں تک پہلے کی طرح قوانین کو پامال کریں۔باوجوداس کے لوگ لاک ڈائون کھلنے سے پہلے ہی اپنے آپ کو لاک ڈائون توڑنے کی تیاریاں کررہے ہیں ،جس کے مطابق خاص طور سے شادی بیاہ کی تقاریبات کو شان وشوکت کے ساتھ منعقد کرنے کی بات کررہے ہیں۔ایک شخص کا کہناہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی کیلئے500 لوگوں کو مدعو کررہاہے ،جملہ1 ہزار کے قریب لوگ شادی میں شرکت کرینگے۔ایک طرف لوگ مررہے ہیں تو دوسری طرف لوگ شادیوں میں بلاکرلوگوں کو مارنے کی تیاری کررہے ہیں۔بعض شادی خانوں میں کھلے عام کہاجارہاہے کہ آپ جتنے لوگوں کو بلا سکتے ہیںبلالیں،پولیس کو ہم دیکھ لیں گے،جوبھی پولیس کا خرچ آئیگا وہ آپ ادا کردیں۔یقیناً پولیس رشوت لیکر چلی جائیگی،لیکن اس دعوت میں ایک بھی شخص کورونا سے متاثر ہوکرشادی خانہ پہنچ جائے تو شرکاء کا کیا حشر ہوگا اندازہ لگائیں؟۔شادی میں کھانا کھلانا،لوگوں کو بلانا اور اپنی ساہوکارگری کو جتانا بڑی بات نہیں ہے بلکہ لوگوں کو موت کے منہ سے بچانااور اس وقت لوگوں کی مددکرنا بڑا کام کہاجاسکتاہے۔جھوٹی شان اور جھوٹے نخروں کیلئے وقت و مال گنواں کر پریشانیاں ہی مولی جاسکتی ہیں نہ کہ اطمینان!۔ دوسری طرف عام لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ اگلے دو تین مہینوں تک احتیاط کے طور پر شادی ، رسم، چھلہ، چھٹی،چہلم،شکرانہ اور ولیموں کی دعوتوں کا جانا افضل نہ سمجھیں اور نہ منہ کامزہ بدلنے کیلئے شادی خانوں کی ممبر شپ لیں،بلکہ گھرمیں رہیں،سکون سے رہیں اور اپنوں پر سلامت رہیں۔