ین ای ای ٹی (نیٹ)کے نام پر طلباء ہورہےہیں قربان: 6 ماہ میں 100 خودکشیاں 

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں نیشنل نیوز
شیموگہ ( مدثرآحمدشیموگہ ):۔ بھارتی سماج میں والدین کا ایک بڑا طبقہ خود کو نمایاں کرنے کا بوجھ بچوں کے ناتواں کندھوں پر ڈال دیتا ہے۔ بچوں کا ڈاکٹر یا انجینئر بننا سماج میں ممتاز ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے اور کوچنگ ادارے اسی خواہش کا استحصال کرتے ہیں۔میڈیکل کالج میں داخلوں کے لئے بھارت میں نیٹ کا امتحان پاس کرنا ضروری ہے اور اسی امتحان کو پاس کرنے کیلئے بچے اپنی زندگیاں دائو پر لگارہے ہیں ، آخر میں ان بچوں کو ناکامی ملنے کی صورت میں وہ خود کشی کی راہ اختیار کررہے ہیں جو کہ تشویشناک بات ہے۔ اب تک بھارت کے مختلف مقامات پر اس سال  ایک سو کے قریب طلباء نے نیٹ میں ناکام ہونے یا پھر دبائو زیادہ ہونے کی وجہ سے خود کشی کرچکے ہیں ۔ راجستھان کے شہر کوٹہ میں پورے بھارت سے بچے آتے ہیں جہاں موجود کوچنگ ادارے انہیں میڈیکل یا انجینئرنگ کالجوں میں داخلے کے امتحانات میں کامیابی دلاکر ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا بھروسہ دلاتے ہیں۔ لیکن بیشتر لوگوں کے خواب پورے نہیں ہوتے۔بھارت میں چند ایک کو چھوڑ کر تقریباً تمام سرکاری اور پرائیوٹ انجینئرنگ اور میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے طلبہ کو بالترتیب جے ای ای (جوائنٹ انٹرنس ایگزامنیشن) یا نیٹ (نیشنل ایلیجبلیٹی کم انٹرنس ٹیسٹ) میں حصہ لینا پڑتا ہے۔ یہ مسابقتی امتحانات کافی مشکل ہیں اور ان میں شریک ہونے والے لاکھوں طلبہ میں سے صرف چند ہزار ہی اچھے کالجوں میں داخلہ پانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔کوٹہ کوکوچنگ ہب  کہا جاتا ہے لیکن یہ خودکشی کے مرکز کے طورپر مشہور ہوتا جا رہا ہے۔ پچھلے آٹھ ماہ میں 24 طلبہ خودکشی کر چکے ہیں ان میں سے 14 ایسے تھے جو چند ماہ قبل ہی یہاں آئے تھے۔ گذشتہ 27 اگست کو صرف چار گھنٹے کے وقفے سے یہاں دو طالب علموں نے خودکشی کرلی۔ ان میں سے ایک 18 سال کا آدرش بہار کا رہنے والاتھا اور صرف چار ماہ قبل ہی نیٹ کی تیاری کے لیے یہاں آیا تھا۔ دوسرا مہاراشٹر کا 17 سالہ سمباجی کالسے تھا۔ جو پچھلے تین سال سے نیٹ میں کامیابی کے لیے محنت کر رہا تھا۔خودکشی کے ان واقعات کے بعد مسابقتی امتحانات کی وجہ سے طلبہ پر پڑنے والے دباو اور ان کے اندر بڑھتی ہوئی مایوسی نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرکہتے ہیں، "جے ای ای یا نیٹ امتحان کا جو پیٹرن ہے اس سے بچوں پر پڑھائی کا کافی دباؤ رہتا ہے۔ انہیں ایک ایک نمبر کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے اور نگیٹیو مارکنگ اسے مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ اس لیے کوچنگ کے ٹیسٹ میں پیچھے رہنے پر انہیں اپنا وجود ہی خطرے میں دکھائی دینے لگتا ہے۔طلبہ حساس ہوتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ والدین ان پر کافی پیسے خرچ کررہے ہیں ایسے میں وہ خود کو ناکام نہیں دیکھنا چاہتے۔ اس سے ان کے لیے کرو یا مرو  جیسی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے اور جب وہ دباو برداشت نہیں کرپاتے تو انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کرلیتے ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ گھر سے دور رہ کر تعلیم حاصل کرنے والے بچے تنہائی محسوس کرتے ہیں اور کئی مرتبہ ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جس کا علم نہ تو کوچنگ انسٹی ٹیوٹ ہوتا ہے اور نہ ہی والدین کو۔ بعض والدین کو اس کا احساس ہے۔ اس لیے وہ کوچنگ کے دوران بچوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن ایسا ہر ایک کے لیے ممکن نہیں ہے۔ہر سال مختلف کوچنگ سینٹرس کے لئے کوچنگ کا کاروبار اربوں روپیے کا ہونے لگاہے جبکہ انسانی فطرت یہ ہے کہ ہر کوئی ڈاکٹر ہی نہیں بن سکتا اور ہر کوئی نام نہاد کوچنگ سینٹرز میں داخلہ لینے سے میڈیکل سیٹ حاصل کرسکتاہے ۔ لیکن والدین پر یہ جنون طار ی ہوچکاہے کہ انکا بیٹا یا بیٹی بنیں گے تو صرف ڈاکٹر ہی بنیں گے ۔ کرناٹک میں بھی آئے دن نیٹ کوچنگ کے نام پر کئی کوچنگ سینٹرز بن گئے ہیں جہاں پر بچوں کو ڈاکٹر بنانے کا دعویٰ کیا جاتاہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کئی کالجوں یا کوچنگ سینٹرز میں ہزاروں کی تعداد میں کوچنگ لینے کے بعد بھی کامیاب نہیں ہوپاتے ۔ آٹھ دس ہزار طلباء میں سے 100 یا 200 سو طلباء میڈیکل اسٹریم میں داخلے لے پاتے ہیں بقیہ بچوں کو ناکامی ملتی ہے اور اس ناکامی کا کہیں بھی ذکر نہیں ہوتا۔ صرف انہیں بچوں کو ہائی لائٹ کیا جاتاہے جو کامیاب ہوتےہیں ۔ 
خودکشی کیلئے ذمہ دار کون؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ طلبہ کی خودکشی کے لیے کسی ایک کو ذمے دار ٹھہرانا مناسب نہیں ہوگا۔ اور اس رجحان کو روکنے کے لیے کئی محاذوں پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جس میں حکومت، کوچنگ اداروں اور سرپرست ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔والدین کو سمجھنا ہوگا کہ ہر بچے کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔ انہیں بچے کی پسند کے برخلاف ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے لیے دباو ڈالنا درست نہیں ہے۔ کوچنگ انسٹی ٹیوٹس کو اپنے طریقہ کار ایسا بنانا ہوگا جس سے طلبہ کے دماغ پر غیر ضروری دباو نہ پڑے۔ جب کہ حکومت اس امر کویقینی بنانا ہوگا کہ کوچنگ ادارے رہنما خطوط پر عمل درآمد کریں۔  صرف ایک امتحان آپ کی صلاحیتوں کا فیصلہ نہیں کرتا۔ زندگی میں کامیاب ہونے کے ایک سے زائد طریقے ہیں۔ اسی کے ساتھ والدین کو بھی اپنے ادھورے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے بچوں پر دباو نہیں ڈالنا چاہئے۔