شیموگہ : شانتی نگر میں میلاد جلوس کے دوران ہونے والےپُر تشدد واقعے میں مسلم نوجوانوں کو جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اسکا ہمیں افسوس ہے ، پولیس کی سخت کارروائی کی اطلاع ملتے ہیں شہر کے ذمہ داروں کی ایک ٹیم نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر جدو جہد کی ہے جس کی وجہ سے درجنوں نوجوانوں کو راحت ملی ہے ، اس بات کااظہار شیموگہ سائو تھ بلاک کانگریس کے صدر کلیم پاشاہ عرف کلیمہ نے کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سنی جامع مسجد کے صدر منور پاشاہ ، سنی جمیعت العلماء کمیٹی کے ذمہ دار آفتاب پرویز ، عارف خان عارو، ماربل انصر احمد ، انو ، محمد حسین اور جئے ہند عارف، آصف شریف ، شاہمیر خان ، محمد محیب اللہ ، کیبل فیروز، صادق کے علاوہ دیگر ذمہ داروںنے فوری طور پر یس پی ، اڈیشنل یس پی کے ساتھ رابطہ قائم کرتے ہوئے کل رات کو ہی نوجوانوں پر ظلم روکنے کا مطالبہ کیا اور بے گناہ نوجوانوں کو فوری طورپر رہا کرنے کی گذارش کی تھی ۔ ہم نے اس معاملے کے تعلق سے ضلع نگران وزیر مدھوبنگارپا ، ریاستی وزیر ضمیر احمد، یم یل سی عبدالجبار صاب وغیر ہ سے بھی رابطہ کرتے ہوئے مقامی حالات کے تعلق سے واقف کرایا تھا اور پولیس کی بربریت کو رکوانے کے لئے ہدایت دلوائی ہے۔ مزید انہوںنے بتایا کہ پولیس نے پہلے تو اس سلسلے میں رہائی کا سوال ہی پیدا نہ ہونے کی بات کہی تھی لیکن بے قصور نوجوانوں کی رہائی کے لئے ہمارے ذمہ داروں نے ہر ممکن کوشش کی ہے ۔ مسلسل 20 گھنٹوں کی بات چیت کے بعد پولیس نے 70 نوجوانوں میں سے 6 نابالغ لڑکوں کو فوری رہا کیا گیا جبکہ 27نوجوانوںکوپٹی کیس عائد کیا گیا ہے بقیہ لڑکوں کی چھان بین کے بعد کے فیصلہ کیا جائیگا ۔ کلیم پاشاہ نے روزنامے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے چند جذباتی فیصلوں کی وجہ سے اتنابڑا نقصان ہے باوجود اسکے ہم قوم کی فکر کرتے ہوئے اس مسئلے کو حل کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی ہے ۔ گرفتار ہونے والے نوجوانوں کے علاوہ ہم نے اسپتال میں زخمیوں کی عیادت بھی کی ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ بڑے پیمانے پر نقصان ہونے کے باوجود مسلمانوں کی طرف سے کسی نے شکایت درج نہیں کروائی ہے ، یف آئی آر درج کروانے کے لئے لوگوں کو نصیحت کرنے کے بعد بھی اس پر توجہ نہیں دی جارہی ہےتو انصاف کہاں سے ملے گا ۔ کلیم پاشاہ نے اپیل کی ہے کہ اگر کسی پر ظلم ہواہے تو وہ فوراََ پولیس میں شکایت درج کروائیں اگر پولیس شکایت درج کرنے سے انکار کرتی ہے تو ذمہ داروں یا وکلاء سے رابطہ کریں ۔
