ایم ایل سی،لیڈرسب کچھ بنناہے ،لیکن مسلم مسائل سے دورہیں مسلم سیاسی لیڈران

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

شیموگہ کےشانتی نگر کی آشانتی کے موقع پر جہاں مظلوم مسلمان اس بات کاالزام لگا رہے تھے کہ ان کی آواز کو سننےوالاکوئی نہیں ہے اور ان کی مددکرنے کیلئے کوئی نہیں پہنچ رہاہے۔ایسے میں شہرکے چند ایک ذمہ داروں کو چھوڑکر شیموگہ کے نام نہاد مسلم لیڈران دور دور تک نہیں دکھائی دے رہے تھے،ان میں سے بیشتر وہ لوگ ہیں جو ایم ایل سی ، چیرمین،سوڈا صدراور آنےوالے کائونسلر الیکشن کے دعویدارہیں۔یہ لوگ اکثر فلکس،ہولڈنگس اور اسٹیجوں پر دکھائی دیتے ہیں اور ان کی نمائندگی الیکشن کے موقعوں پر24X7رہتی ہے اور یہ لوگ کسے ووٹ دیناہے اور کسے نہیں اس پر خوب محنت کرتے ہیں۔الیکشن کے بعد اپنے پسندیدہ لیڈروں کے ساتھ کھڑے ہوکر جو تصویریں لیتے ہیں اُن تصویروں کو سوشیل میڈیا میں شیئرکرنا اپنا نصب العین سمجھتے ہیں۔کہنے کو توکئی لیڈروں کوبنگلورو ،دہلی تک کے لیڈران سے واقفیت ہے،لیکن ان کی واقفیت اور ان کا اثرورسوخ ان کیلئے عہدے حاصل کرنے تک ہی ہے۔بیشتر سیاسی لیڈران یہ سمجھتے ہیں کہ سوشیل میڈیامیں اپنی تصویروں کو شائع کروانے سے ان کی سیاست مکمل ہوجاتی ہے اور لیڈرکے آنے جانے پر گلپوشی وشالپوشی کرنے سے ان کی ذمہ داری پوری ہوجاتی ہے۔لیکن ایسے سنگین حالات کے دوران یہ لوگ نہ مظلومین سے رابطہ کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے سیاسی آقائوں کو ان حالات سے واقف کراکر مسئلے کا حل تلاش کرتے ہیں۔چند لوگ ہی ایسے ہیں جو کولوکے بیلوں کی طرح کام کرتے ہیں۔کیا سیلفی فوٹووالے لیڈروں کومسلمانوں کا قائد کہاجاسکتاہے یا یہ لوگ ایم ایل سی،ایم ایل اے اور دیگر عہدوں پر فائزہوکر مسلمانوں کی صحیح نمائندگی کرسکتے ہیں،جو آپ عہدے پر نہ رہ کر مسلمانوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے،کیا وہ کل کے دن عہدے ملنے کے بعد مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کیلئے آگے آسکتے ہیں؟۔ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو شروع سے آخرتک مسائل سے دور رہتے ہیں،آخرمیں تصویرکشی ،ٹی وی مباحثوں میں اینٹری مارتے ہیں۔