سرکاری اسکولوں کی حالت زارہے:ہائی کورٹ برہم

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ریاست کی سرکاری اسکولوں میں بنیاد ی سہولیات فراہم نہ کرنےکی وجہ سے وہاں کی حالت زارہے،ایسے میں والدین ایک وقت کی روٹی کم کھاکر بھی اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوانے کیلئے نجی اسکولوںمیں داخلہ دلوانے کیلئے مجبورہیں۔کرناٹکاہائی کورٹ نے اس سلسلے میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کیوں نہیں دی جارہی ہیں ، اس تعلق سے سال 2013 میں کرناٹکا ہائی کورٹ نے سوموٹوکیس داخل کرتے ہوئے عوامی مفادکیلئے اس معاملے کو شنوائی کیلئے رکھا تھا،اب یہ معاملہ چیف جسٹس پی بی ورالے اور جسٹس کرشنا ایس ڈکشت پر مشتمل بینچ نے برہمی کااظہارکیاہے،ساتھ ہی عدالت نے ریاستی حکومت کوآٹھ ہفتوں میں جواب دینے کی ہدایت دی ہے۔عدالت نے کہاہے کہ اگر حکومت مفت بس کی سہولت سمیت اور کوئی سہولت عوام کو دے رہی ہے تو اس سے عدالت کو کوئی اعتراض نہیں لیکن غریب بچوں کی تعلیم سے ساتھ کھلواڑنہ کیاجائے اوراُنہیں معقول بنیادی سہولیات فراہم کروانا ہماری ذمہ داری ہے۔حکومتیں سرکاری اسکولوں کو بہتر سہولیات فراہم نہ کرتے ہوئے بچوں کو نجی اسکولوں میں بھیجنے کا کام کررہی ہیں ۔ امبیڈکرکی ہر تصویرمیں یہ دکھایاگیاہے کہ وہ اپنے ہاتھ میں کتاب پکڑے ہوئے ہیں،اس کا مقصدہی تعلیم کو عام کرناہے۔پچھلے کچھ دہائیوں سے ملک میں وزارت دفاع سے زیادہ بجٹ تعلیم کیلئے مختص کیاگیاہے،باوجوداس کے ریاستی حکومت تعلیم کے تئیں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی ہے۔