اصل مقصد کوحاصل کرنے کیلئے مثبت جذبے کے ساتھ محنت کرنی پڑیگی:علیم اُللہ شریف:کوئمپویونیورسٹی کے شعبۂ اردوکےالوداعی جلسے میں مہمانان کا خطاب
شیموگہ:۔ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اچھا گھر بنائے،جس کیلئے وہ پہلے فائونڈیشن ڈالتا ہے ،اس کے بعد اپنی پسندکے مطابق اینٹوں کا انتخاب کرتاہے،پھر اپنی پسندکے مطابق گھر کی تزئین کرتاہے،اس طرح سے وہ اپنا گھر مکمل کرلیتاہے،اسی طرح سے کالج یا اسکول کی تعلیم ایک طرح سے فائونڈیشن ہے،اس میں اپنے مستقبل کو سنوارنے کیلئے طلباء کو چاہیے کہ وہ مختلف شعبوں میں کام کرتے ہوئے قوم وملت کی ترجمانی کریں اور اپنا مستقبل سنواریں۔طلباء کی اصل زندگی کتابوں سے باہرنکل کر عملی زندگی میں کامیاب ہوتی ہے۔اس بات کااظہار صحافی و روزنامہ آج کاانقلاب کے ایڈیٹر مدثراحمدنے کیا ہے ۔ کوئمپویونیورسٹی کے شعبۂ اردوکے ایم اے سال دوم کے طلباء کی الوداعی تقریب میں انہوں نے بات کرتے ہوئے کہاکہ عام طورپر طلباء صرف لکچرر ،ٹیچر بننے کی سوچ رکھتے ہیں،جبکہ ان پیشوں کے علاوہ اوربھی کئی شعبے ہیں ، جہاں پروہ اپنا مستقبل سنوارسکتے ہیں۔طلباء اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم کے دوران جو کتابیں پڑھی ہیں اُس سے وہ مکمل تعلیم حاصل کرچکے ہیں،جبکہ ایسانہیں ہوتا،بلکہ حقیقی تعلیم مسلسل مطالعے اور تحقیق سے مکمل ہوتی ہے۔مطالعے اور تحقیق کی کمی کی وجہ سے مسلمان آج تک یہ نہیں سمجھ پائے کہ فلسطین میں جو جنگ جاری ہے،اُس کےمقابلے میں کون دشمن ہیں۔عام طورپر یہ سمجھاجاتاہے کہ فلسطینی مسلمانوں کے مقابلے میں یہودی قوم کھڑی ہوئی ہے جبکہ حقیقت میں وہاں جنگ یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان نہیں بلکہ صہیونی طاقتوں اور مسلمانوں کے درمیان جنگ چل رہی ہے،ایسی معلومات حاصل کرنے کیلئے مطالعے کی اشد ضرورت ہے۔طلباء کو محض کتابی نصاب تک محدودنہیں رہناچاہیے بلکہ اُنہیں چاہیے کہ وہ محقیق بنیں،آج بھی منٹوکے بعد کوئی منٹو پیدانہیں ہوا،غالب کے بعد کوئی غالب پیدانہیں ہوا،جبکہ ہمارے سماج میں ایسی صلاحیتیں رکھنےوالے کئی لوگ ہیں،مگرہم اُنہیں پہچان نہیں پارہے ہیں یا پھر ایسے لوگوں کی ہمت افزائی نہیں کررہے ہیں اور ہم اُنہیں ایسامقام دینانہیں چاہتے ۔ موجودہ دورمیں ٹیکنالوجی بہت آگے چلی گئی ہے،طلباء کو چاہیے کہ وہ ٹیکنالوجی کے قریب ہوں اور اپنے علم سے ٹیکنالوجی کو جوڑیں تو یقیناً بڑے پیمانے پر تبدیلی آسکتی ہے۔اس موقع پر شاعر اور لکچرر محمد علیم اُللہ شریف نے اپنے خطاب میں کہاکہ الوداعی جلسے کا انعقادکیاگیاہے لیکن طلباء ہم سے دورنہیں ہونگے،بلکہ دُنیا گول ہے،اس دُنیامیں طلباء کا رابطہ اساتذہ سے کسی نہ کسی طریقے سے دوبارہ ہوگا ۔ اب نسلوں کے درمیان فاصلےکم ہوچکے ہیں،اب افکارکی وجہ سے لوگ قریب ہو رہے ہیں،باہمی تعلقات فروغ پارہے ہیں ، اس طرح کی قربت سے اچھا ماحول پیداہورہا ہے ۔ طلباء کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے مشن کا خیال رکھنا چاہیے،ٹیچر ایک رہنماء ہے،وہ طلباء کو صرف پڑھاتے نہیں ہیں بلکہ اُن کی رہنمائی بھی کرتے ہیں۔کالج سے فارغ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ طلباء سب کچھ سیکھ چکے ہیں ، زندگی کے آخر تک بھی انسان سیکھتے رہتاہے۔کسی بھی پیشے سے جڑنے کیلئے اُس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اب تک جو ٹیکنالوجی آتی رہی ہے،اُس ٹیکنالوجی کو ہم ضروری نہیں سمجھتے تھے،لیکن آج ٹیکنالوجی اس قدر آگے آچکی ہے کہ اب اس کے بغیر ہماراجینا اور ہماری ترقی ناممکن ہے ۔آنے والی نسلیں مزید تیز ٹیکنالوجی کا سامنا کرینگی،اس وجہ سے ہمیں ابھی سے اس کیلئے تیاری کرنی ہوگی،مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی بہت تیزی کے ساتھ فروغ پارہی ہے ۔اب تک طلباء کتابوں کی دُنیا میں تھے،لیکن اصل مقصد کوحاصل کرنے کیلئے مثبت جذبے کے ساتھ محنت کرنی پڑیگی۔طلباء جس میدان میں جانا چاہیں ،لیکن اس کیلئے مزید محنت کرنی ضرورت ہے ۔الوداعی جلسے میں صدارتی کلمات سیہادری آرٹس کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سید ثناء اللہ نے پیش کرتے ہوئے کہاکہ جس وقت میں شعبہ اردو کے ایچ او ڈی کے علاوہ سیہادری آرٹس کالج کے پرنسپال کے عہدے پر فائز ہوں،اس طرح سے میری ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں۔آج کے الوداعی جلسے میں شریک ہونےوالے دونوں ہی مہمانوں نے طلباء کو بہترین رہنمائی کی ہے ، روزنامہ آج کاانقلاب ایڈیٹر مدثر ا حمد نے ملناڈعلاقے میں اخبارنکال کر حقیقت میں ایک انقلاب برپاکیاہے،ایسی شخصیت ہمارے درمیان موجودہے،یہ ہمارے لئے فخرکی بات ہے۔اس موقع پر علیم اللہ شریف بھی موجود ہیں ، جو متعدد صلاحیتوں کےمالک ہیں،انہوں نے صرف تدریس میں ہی اپنا لوہانہیں منوایاہے،بلکہ مختلف زمروں میں اپنی صلاحیتوں کے ثبوت پیش کئے ہیں ۔انہوں نے طلباء کو اپنی صلاحیتوں کو مزید ابھارنے کا مشورہ دیااور دُعاکرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنی زندگیوں میں کامیاب ہوں۔اس نشست کاآغاز نےطالبہ گلناز نےقرآن پاک کی تلاوت سے کیا،نعت نغمہ نے پیش کیا،شعبہ اردو کا ترانہ محتاج،آصفہ صدیقہ اور شہرین نے پیش کیا ۔ استقبالیہ کلمات عشرت بطول نے پیش کئے۔اس دوران تہنیتی پروگرام،شکریہ کے کلمات طالبہ عافیہ نے پیش کئے۔ نظامت کے فرائض آصفہ صدیقہ اور شہرین نے انجام دئیے۔اس موقع پر شعبہ اردو کےلکچرر ڈاکٹر محمد عارف اُللہ ، ڈاکٹر اسماء کوثر ، ڈاکٹر نفیسہ فاطمہ،شعبہ آرٹس کے اردو شعبے کے ڈاکٹرسیدہ نازنین ،شعبہ انگریزی کے صدرِ شعبہ سراج احمد ،لکچررسلمیٰ تبسم،وغیرہ موجود تھے ۔ اسی دوران سیہادری آرٹس کالج کے پرنسپال کے عہدے پر فائزہونےوالے ڈاکٹر سید ثناء اللہ کو شعبہ اردو کے طلباء اور اساتذہ کی جانب سے تہنیت پیش کی گئی۔
