غزہ زمینی جنگ، 44 اسرائیلی فوجی ہلاک : اسرائیلی فوجی ترجمان؛لبنان سے اسرائیل پر راکٹ حملے میں متعدد اسرائیلی فوجی زخمی
غزہ:۔وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ واشنگٹن ہسپتالوں میں بندوق کی لڑائیاں نہیں دیکھنا چاہتا۔ امریکی سی بی ایس کے ساتھ ایک انٹرویو میں جیک سلیوان نے کہا کہ واشنگٹن اسرائیل اور قطر کے درمیان قیدیوں کے حوالے سے مذاکرات میں شامل ہے۔ انہوں نے غزہ میں حکمرانی کی بات کرتے ہوئے کہا کہ 7 اکتوبر سے پہلے کی بات چیت میں واپس آنا ممکن نہیں ہے۔ سلیوان نے کہا کہ انہیں یہ فیصلہ فلسطینی عوام پر چھوڑ دینا چاہیے کہ ان کی مستقبل کی حکمرانی کیسی ہوگی۔ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر نے مزید کہا "ہم آج امریکیوں کو غزہ سے نکال دیں گے۔جیک سلیوان کے بیان کے جواب میں حماس رہنما اسامہ حمدان نے کہا کہ غزہ پر صرف اس کے عوام کی حکومت ہوگی، وہاں فلسطینیوں کے علاوہ کوئی سیاسی یا سکیورٹی اتھارٹی نہیں ہوگی۔ اسامہ حمدان نے بیروت میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ عرب اسلامی سربراہی اجلاس کا محاصرہ توڑنے اور محصور سیکٹر میں امداد کے داخلے کو مسلط کرنے کا فیصلہ صحیح سمت میں ہے اور ہم اس کے نفاذ کے منتظر ہیں۔عرب اسلامی سربراہی اجلاس نے غزہ پر مسلط کردہ محاصرہ توڑنے اور ایندھن سمیت انسانی امداد کی فوری طور پر پٹی میں داخلے کو "مسلط” کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اسامہ نے شمال سے جنوبی غزہ یا پٹی سے باہر فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کی کسی بھی کوشش کی مذمت کی۔ انہوں نے نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ پر اسرائیلی حملے کو روکنے کا پابند فیصلہ کرے۔غزہ میں اسرائیل اور مسلح فلسطینی دھڑوں کے درمیان جنگ کو 37 دن ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی جارحیت میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 11180 ہوگئی ہے۔وہیں غزہ میں زمینی حملے کے بعد اب تک اسرائیل کے 44 فوجی حماس کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس امر کا اعلان باضابطہ طور پر اسرائیلی فوج نے پیر کے روز کیا ہے۔ اعلان کے مطابق شمالی غزہ میں دو مزید فوجیوں کی ہلاکت سے کل تعداد 44 ہوئی ہے۔فوجی ترجمان نے بین لاقوامی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے جب سے غزہ کے اندر لڑائی شروع ہوئی تب سے لے کر اب تک یہ کل فوجی ہلاکتیں ہیں۔ خیال رہے جمعہ کے روز اسرائیل کی طرف سے اپنی اب تک کی ہلاکتوں کو 1400 سے کم کر کے 1200 بتایا گیا تھا۔اسرائیل جسے عالمی رائے عامہ کے سخت دباؤ کا سامنا ہے ۔ حتیٰ کہ اس کے سب سے بڑے اتحادی امریکہ میں بھی اب آکے امریکہ کو بھی یہ کہنا پڑا رہا کہ اسرائیل شہریوں کا تحفظ کرے۔اگرچہ مبصرین سمجھتے ہیں کہ اب امریکی بیان کے کوئی عملی معنی نہیں ہیں کہ پور غزہ تباہ ہو چکا ، ہزاروں بچے اور عورتیں ہلاک ہو گئے۔ لاکھوں بے گھر ہو گئے اور حد یہ کہ ہسپتال تک تباہ ہو چکے، اب امریکی بیان محض اپنے اندرونی دباؤ کو جوبائیڈن انتظامیہ کے لیے کم کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔تاہم اس دباؤ کی کفیت کو کم کرنے کے لیے اسرائیل نے بھی اپنی ہلاکتوں کو ذکر کرنا شروع کر دیا ہے۔اسی درمیان اسرائیلی فوج نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے لبنان کے اندر دو مارٹر گولے فائر کیے جانے کا پتہ لگانے کے بعد لبنان کے اندر اہداف پر توپ خانے سے شیلنگ کی ہے۔یہ بات اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی جانب سے پیر کے روز سامنے آئی ہے کہ دو گولے شمالی اسرائیل کے الجلیل کے علاقے میں گرے، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔حزب اللہ نے بعد میں ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اس نے الضہیرہ کے مقام پر ایک پیادہ فورس کو راکٹوں سے براہ راست نشانہ بنایا۔اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ لبنانی سرزمین سے داغے گئے ٹینک شکن میزائل فائر سے دو اسرائیلی زخمی ہو گئے۔العربیہ اور الحدث چینلوں کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ لبنان سے فائر کیے گئے ٹینک شکن گولے سے 5 اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔درایں اثناء لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی نے آج سوموار کو کہا کہ طیر حرفا، شیحین اور ام التوت قصبوں کے مضافات جو اسرائیلی توپ خانے سے نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں لبنانی خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی کہ اسرائیلی بمباری نے جنوبی لبنان کے مغربی سیکٹر میں لبونہ کے علاقے کو نشانہ بنایا۔اسرائیل لبنانی حزب اللہ پر جنوبی لبنان سے حملے کرنے اور شمالی اسرائیل کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتا ہے۔حزب اللہ 7 اکتوبر سے اسرائیل پر نسبتاً محدود حملے کر رہی ہے لیکن اسرائیلی حملوں میں حزب اللہ کے کم از کم 70 ارکان کے ساتھ ساتھ متعدد لبنانی شہریوں کی ہلاکت کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ اب حزب اللہ کے جنگی طریقوں میں وسعت آ گئی ہے جس میں 300 سے 500 کلوگرام وزنی وار ہیڈز لے جانے والے میزائلوں اور خودکش ڈرونز کا استعمال شامل ہے۔
