یومِ اردوکے تحت جلسے بھی ہورہے ہیں، تہنیت بھی دی جارہی ہے،مگرکچھ کام یہ بھی ہو

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔علامہ اقبال کی یوم پیدائش کے مدِ نظر مختلف تنظیموں واداروں کے ذریعے سے یوم اردو کاانعقادکیاجار ہا ہے ۔ یوم اردوکے موقع پر جلسے،تقریبات اور تہنیتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور یہ تمام جلسے و تہنیتیں صرف تعلیم یافتہ افراد تک ہی محدودہوتے جارہے ہیں،ایسے میں اردو زبان کی فلاح وبہبودی کیلئے کچھ کام زمینی سطح پر بھی کئے جائیں تو اس سے اردو کا حق اداہوسکتاہے۔اردو زبان کےتعلق سے عام لوگوں کو بآورکرانا سب سے اہم کام ہوگا۔شیموگہ شہرکی بات کی جائے تو یہاں کے اردو بازارکانام ونشان آہستہ آہستہ مٹایاجارہاہے،کسی دورمیں اردو بازارمیں اردوکے کتابوں کی دُکانیں ہواکرتی تھیں اور ان دُکانوں کے علاوہ مسلمانوں کے سینکڑوں دُکانوں پر اردو کے بورڈ دکھائی دیتے تھے،لیکن آج دکانداراپنی دُکانوں کے نام اردومیں لکھنے سے گریزکررہے ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ اردو زبان میں نام لکھنے سے ان کے کاروبارپر اثر ہو گا ۔ اس کے علاوہ کئی علاقوں میں مسلمانوں کے ہوٹل ، دُکانیں ، درزی کی دُکانیں، کپڑوں کی دُکانیں،کرانے کی دُکانیں موجودہیں ،وہاں پر بھی اردومیں نام لکھنے سے گریزکیا جارہا ہے۔اگر تنظیموں کے ذمہ داران اس سمت میں پیش رفت کرتے ہوئے کچھ وقت لوگوں میں بیداری لانے کیلئے صرف کریں اور دکانداروں کو اردو زبان کا استعمال کرنے سے آمادہ کریں تو اس سے اردو زبان پر ایک احسان ضرورہوگا۔اس کے علاوہ اردو تنظیموں کی اور ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ کرناٹکا راجیہ اتسوا (کرناٹکا یوم تاسیس) کے موقع پر اردو زبان سے جڑے ہوئے ادباء،شعراء ، مصنفین، علماء، صحافی،فنکاروں کو ایوارڈکیلئے منتخب نہیں کیاجاتاہے ،صرف کنڑا زبان سے تعلق رکھنےوالے ماہرین کو ایوارڈ سے سرفراز کیاجاتاہے،اس سمت میں بھی ضلع انتظامیہ اور ریاستی حکومت کو بآورکرنے کی ضرورت ہے۔اگر اس طرح کے ایوارڈس میں اردودان طبقے کو نظراندازکیاجاتاہے تو آہستہ آہستہ اردوکا طبقہ پست ہمت کا شکارہوسکتاہے۔