حضرت محمدﷺکاآخری خطبہ ساری انسانیت کیلئے رہنماء ہے:ماسٹر یوگیش

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
جماعت اسلامی ہند شیموگہ کی سیرت مہم کااختتام،غیر مسلمین نے پیش کئے اسلام کے تعلق سے بہترین تاثرات
شیموگہ: آج انسان مفادات کی زندگی جی رہاہے، سیاست، عہدے اور دولت کا لالچی ہوچکاہے۔ تمام مذاہب محبت کا پیغام دیتے ہیں، لیکن مذہب کو بنیاد بناکر ہم ایک دوسرے کے دشمن ہوچکے ہیں۔اس بات کااظہارسیہادری کالج کی شعبہ کنڑاکی پروفیسر ڈاکٹر شوبھامروانتی نے کیاہے۔انہوں نے آج یہاں امبیڈکر بھون میں جماعت اسلامی ہند شاخ شیموگہ کی جانب سے منعقدہ سیرت مہم میں مہمان خصوصی کے طور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے درمیان موجود اختلافات کو دور کرنے کیلئے اس طرح کے پروگرام بے حد ضروری ہیں۔ پیغمبر محمدﷺ کی سوانح حیات کامیں نے مطالعہ کیاہے، انکی زندگی ہمارے لئے ہر شعبے میں رہنمائی ہے، انکی زندگی محبت اور شفقت بھری ہوئی ہے۔ اسلام کا مطلب امن ہے اور اس امن کا عکس محمد ﷺکے پاس دیکھا جاسکتاہے۔ حقوق نسواں، حقوق اطفال، مزدوروں کے حقوق کے لئے حضرت محمد ﷺنے اپنے دور میں ہی آواز اٹھائی ہے۔ انکی سادگی کی جو مثال ہے وہ بدھا میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ اگر انسان میں سادگی آجائے تو اختلافات دور ہوجائینگے، لیکن اس وقت سماج ایک دوسرے سے دور ہے اسکی وجہ ہم نے دلوں میں دیواریں بنالی ہیں۔ غرباء و مساکین کے لئے نبی ﷺ نے جو مدد کا سبق دیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ہم دوسروں کا بھلا نہیں کرسکتے تو دوسروں کا برا بھی نہ کریں، اگر ہم مذاہب کو سمجھیں گے تو ہی اچھی زندگی گزار پائینگے ورنہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوکربھی اسکا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔اس موقع پر مزید ایک مہمان خصوصی مصنف یوگیش ماسٹر نے بات کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺنے علم کو بانٹنے کی ہدایت دی ہے، علم سیکھنے کے لئے ہر ذریعے کا استعمال کریں، مذہب ایک رہنمائی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، مذہب، قومیت، رنگ روپ سے کوئی ایک دوسرے پر برتر نہیں ہے۔ حضرت محمد ﷺنے اپنے آخری خطبے میں جو خطاب کیاہے وہ ساری انسانیت کے لئے ہے، آج مذہب، ذات اور قومیت کی بنیاد بنے ہوئے لیبل کی وجہ سے سماج میں انتشار پھیلا ہواہے۔ جو جنگیں ہورہی ہیں وہ سرمایہ کاروں کی وجہ سے ہورہی ہے۔ اگر ہم سماج کو جوڑنہیں سکتے ہیں تو اسے توڑنے کابھی اختیار نہیں ہے۔ محمد ﷺنہ تو خدا تھے نہ ہی خدائی طاقت رکھنے والے میں سے تھے وہ انسان تھے اور انسانوں کی رہنمائی کے لئے آئے ہوئے تھے۔ انسان ایک دوسرےسے محبت کرے نہ کہ استعمال کرے،استعمال کرنے کی چیزیں مال، دولت اور روزمرہ کی چیزیں ہیں۔ قرآن میں کہاہے کہ تمہارا مذہب تمہارے ساتھ، دوسروں کا مذہب انکے ساتھ ہے۔ ہمیں رام کی بھی ضرورت ہے لیکن ایسے رام کی ضرورت ہے جو لوگوں میں محبت پیدا کرے، امن بحال رکھے نہ کہ انتشار اور نفرت پھیلانے والے رام کی ہمیں ضرورت نہیں ہے، جیو اور جینے دو کے ضابطے پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔جب تک زندہ ہیں اسوقت تک پیار محبت سے رہیں، یہی مستقبل کے لئے سرمایہ ہے۔
جلسے کی صدارت کرتے ہوئےشانتی پرکاشن کے مینیجر محمد کنّی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج سماجی ذمہ داریاں کم ہوچکی ہیں، آج برے لوگوں کی برائی سے زیادہ اچھے لوگوں کی خاموشی سماج کو تباہی کی جانب لے جارہی ہے۔ انسان کو اسکا دل یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ زندگی سے دور اور موت سے قریب ہورہاہے، دل بھی ہماری ذمہ داری کو سمجھارہاہے۔ یوگیش ماسٹرنے کنڑا زبان والوں کے لئے ایک بہترین کتاب سیرت النبی ﷺپر لکھی ہے، ایسی کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے۔ آج انسان ڈر خوف میں جی رہاہے، یہاں تک کہ ہم اپنے اہل وعیال کے ساتھ بھی سکون سے نہیں رہ رہے ہیں، سماج میں جتنے امیر ہورہے ہیں اس سے کہیں زیادہ غربت بڑھ رہی ہے، لوگ بھوک سے مررہے ہیں، کمیونیکیشن بڑھنے کے باوجود دوریاں بھی بڑھ رہی ہیں، تعلیم یافتہ بڑھ رہے ہیں وہیں اولڈایج ہوم بھی بڑھ رہے ہیں، اسکی وجہ یہ کہ ہم نے اپنے اقدار کو نہیں سمجھاہے، وہ اس لئے کہ انسان اپنی ذمہ داری کوبھول چکاہے۔ پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک علم حاصل کرنے کی ترغیب حضرت محمد ﷺ نے دی ہے۔ آج دنیا کو ہتھیار بیچنے والے لوگ چلارہے ہیں، سرمایہ کاروں نے کورونا جیسی بیماری کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا۔ فلسطین اور حماس کی بات کی جائے تو وہاں کے مسلمانوں پر ظلم ڈھایا جارہاہے جبکہ خلیفہ عمر کے دور میں فلسطین میں تمام مذاہب کے لوگ تھے اس وقت کسی بھی طرح سے دوسرےمذاہب کے لوگوں کو حراساں نہیں کیاگیاتھا، سب کے ساتھ مساوات کا برتاؤکیاجارہا تھا لیکن آج ہتھیاروں کے سرمایہ داروں نے فلسطین کے مسلمانوں پر جو ظلم ڈھانے کی پیش رفت کی ہے۔ آج بھی تعلیم یافتہ خواتین پر ظلم ڈھایاجارہاہے، جبکہ اللہ کے رسول نے چھٹویں صدی میں خواتین کے تعلق سے اپنے نظریات بدلنے کی ہدایت دی ہے۔ تعلیم کو مرد و خواتین کے لئے عام کیاگیاہے، چھٹویں صدی میں خواتین مسجد میں نماز پڑھاکرتی تھیں لیکن آج ہم اس بحث میں مصروف ہیں کہ خواتین مسجد کو جاسکتی ہیں یانہیں؟۔ اس موقع پرامیر مقامی ناصرخطیب،مولاناسلیم عمری،آفتاب پرویز،جئے دیوپا،اڈوکیٹ شریپال،اشوک کمار،پرویز احمد،سندربابووغیرہ موجودتھے۔اس پروگرام میں قومی یکجہتی پر مدیحہ طوبیٰ نے ترانہ پیش کیا،جلسہ کی نظامت شیخ الیاس نے انجام دی،جلسے کاآغازجماعت اسلامی ہندکےعلاقائی صدرمولانا سلیم عمری کی قرات سےہوا،ترجمہ ظہیرعباس نے پیش کیا۔تمام کا شکریہ یحیٰ علی بیگ نے اداکیا،مہمانوں کااستقبال مُلا عبدالواہاب نے کیا۔حضورﷺکی سوانح حیات پر مشتمل مضمون نگاری کے مقابلے میں ساگرکے ترومل مایونکولی،کاویا ایم تیرتھ ہلی،کے ایچ جگدیش شیموگہ کوانعام سے نوازاگیا۔