اردو پڑھنےوالے گھر بیٹھے عالم بن سکتے ہیں:خالدشریف

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
آج کی نسلیں اپنی صلاحیتوں کو ظاہرکرنے میں پس وپیش کا شکار ہیں:مدثراحمد
شیموگہ:۔جن لوگوں کو اردو زبان آتی ہے وہ اگر دینی کتابوں کا مطالعہ کریں تو وہ گھر بیٹھے عالم بھی بن سکتے ہیں،کیونکہ دینِ اسلام کی معلومات عربی کےبعد سب سے زیادہ اردوزبان میں پائی گئی ہیں۔اس بات کااظہار وزڈم انگلش اسکول کے میرمعلم محمد خالدشریف نے کیاہے۔انہوں نے آج یہاں یوم اردو کی تقریب میں صدارت کرتے ہوئے کہاکہ اردو صرف زبان ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب ہے جب تک ہم اردو زبان کو اپنے آپ سے جوڑے رکھے تھے،اُس وقت تک ہمارے پاس تہذیب تھی ،جب سے اردوزبان کو نظراندازکیاہے اُس وقت سے ہماری نسلیں تہذیب وتمدن سے دور ہوتی جارہی ہیں،اس لئے اردوزبان سےہمیں جڑے رہنے کی ضرورت ہے۔مزیدانہوں نےکہاکہ انگریزی کی چاہ میں آج حالت یہ ہوگئی ہے کہ نہ توہم پورے انگریزی ہوئے نہ ہی پورے اردوکے۔موبائل ایس ایم ایس بھیجتے بھی ہیں تو اردوکوانگریزی میں لکھا جاتاہے۔انہوں نے طلباء کو نصیحت کرتے ہوئے کہاکہ اچھے منصب پر فائز ہونے کیلئے اچھی تعلیم وتربیت ہونی چاہیے اور جو تعلیم مادری زبان میں حاصل کی جاتی ہے وہ زیادہ پُراثرہوتی ہے ۔ اس موقع پر روزنامہ آج کاانقلاب کے چیف ایڈیٹر مدثراحمدنے مہمان خصوصی کے طورپر بات کرتے ہوئے کہاکہ مولاناابوالکلام آزاد اور سرمحمداقبال دونوں ہی بچپن سے اپنی صلاحیتوں کو منواچکے تھے،یہی وجہ تھی کہ وہ آگے چل کر دُنیا میں نام کماسکے اوردُنیابھرمیں ان کی شناخت ہوئی ہے۔تاریخ کا مطالعہ کیاجائے تو یہ بات واضح ہے کہ بیشتر کام انسان اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ بچپن سے ہی کرتے آئے ہیں ،لیکن آج کی نسلیں اپنی صلاحیتوں کو ظاہرکرنے میں پس وپیش کا شکارہورہی ہیں۔طلباء یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اپنی صلاحیتوں کامظاہرہ کرتے ہیں تو لوگ ان پر ہنسے گے یاپھر ان کی تنقید کرینگے ۔ طلباء کو چاہیے کہ وہ تنقیدوں ومذاق کی پراوہ کئے بغیر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں۔مزید انہوں نے کہا کہ اردو کویہ سمجھ کر نظر اندازنہ کریں کہ اردو سے کوئی روزگارنہیں ملتا،خودعلامہ اقبال کی مادری زبان اردونہیں تھی،لیکن اردو سے محبت نے انہیں دُنیامیں الگ مقام عطاکیا اور اسی اردونے انہیں شاعر مشرق کا مقام دلوایاہے۔جلسے کاآغاز دسویں جماعت کے طالب العلم محمد حارث کی قرات سے ہواجس کا ترجمہ طالبہ اُم طیبہ نےپیش کیا۔نعت شریف محمد انورنے پیش کی،جبکہ استقبالیہ کلمات معلمہ رابعہ بصری نے پیش کئے ۔اردوکے ترانے محمد آیان،عالیہ ذوبیہ، زیبہ بانو کے ساتھیوں نے پیش کیا،جبکہ علامہ اقبال اور مولانا عبدالکلام آزاد کی سوانح عمری پر تقاریب نویں جماعت کی طالبہ مدیحہ طوبیٰ ،آٹھویں جماعت کی طالبہ مہر اور دسویں جماعت کی طالبہ عرشیہ فاطمہ نے پیش کئے۔مہمانوں کا شکریہ معلمہ ثمینہ تاج نےاداکیا،جبکہ جلسے کی نظامت معلمہ فاطمہ بیگم کے ذمہ رہی۔