بسونا گوڈا پاٹل یتنال کے ذریعہ مولانا تنویر ہاشمی بیجاپور کے خلاف الزام قابل مذمت

اسٹیٹ نیوز
داونگیرے:۔ ریاستی اقلیتی بیداری پلیٹ فارم و درگاہ حضرت سید حُسین شاہ علی قادری کی جانب سے بذریعہ ضلع ڈپٹی کمشنر ریاستی وزیر اعلیٰ کو ایک یاداشت پیش کی گئی،جس کو اڈیشنل ڈپٹی کمشنر  لوکیش نے موصول کیا یاداشت میں کہا گیا کہ مذہبی رہنماءو معروف صوفی سید تنویر پیران ہاشمی بیجاپور  کے خلاف بیجاپور کے رکن اسمبلی بسونا گوڈا پاٹل یتنال کے ذریعہ لگایا گیا حساس الزام کے قابل مذمت ہے ،تنویر پیران ہاشمی کی شخصیت ملک و ریاست میں کثرت میں وحدت کی ہندومسلم بھائی چارگی کی ایک عظیم شخصیت کا نام ہے ،جو ہروقت پر آپسی بھائی چارگی سماجی خدمت کے جذبے سے سرشار  متحرک وفعال مانی جاتی ہے ،ہندومسلم بھید بھاؤاور مذہبی منافرت ملک میں صوفی سنتوں میں پایا ہی نہیں گیا ،مگر بسوانا گوڈا پاٹل یتنال کو ریاست میں حذبِ مخالف لیڈر نامزد نہیں کیا گیا ،ریاستی بی جے پی صدر نامزد نہیں کیا گیا ،اس کو لے کر ذہنی الجھن کا شکار بسونا گوڈا پٹیل یتنال نے ہمہ وقت تمام طبقات میں آپسی بھائی چارگی کے فروغ کیلئے کام کرنے والی شخصیت اور ایک کانفرنس میں ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا کے اعلان کے اس مرتبہ بجٹ میں مسلمانوں کو مناسب فنڈ مختص کیا جائے گا  پرتلملااُٹھےچند فرقہ پرست لیڈرون میں سے ایک جو ملک میں مسلمانوں کے وجود سے حسد و جلن رکھتے ہیں اُن میں سے بسوانا گوڈا پٹیل کوہمیشہ مسلمانوں کے خلاف زہر اُگلنے کی عادت ہوئی ریاستی وزیر اعلیٰ سدرامیا کے ساتھ ایک کانفرنس میں اسٹیج پر ایک ساتھ دیکھ کر تنویر پیران ہاشمی پر بے جا الزام لگایا کہ تنویر پیران ہاشمی کے آئی یس کے ساتھ تعلقات ہیں ایسے مذہبی رہنماء کے ساتھ وزیر اعلیٰ کا ایک اسٹیج پر جمع ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اپنے یکس یعنی(ٹیوٹر اکاؤنٹ ) پر ٹیویٹ کیا جبکہ 2016 ء میں دہلی میں ورلڈ صوفی فورم کے ذریعہ منعقد  بین اقوامی صوفی  مشایخ کانفرنس میں ملک کے وزیر اعظم کے ساتھ بھی ایک ساتھ اسٹیج پر موجود رہے اور ورلڈ صوفی فورم کے ذریعہ مشایخ کانفرنس کے انعقاد کے میں  سید تنویر پیران ہاشمی کا رول نہایت اہم مانا جاتا ہے،وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اسٹج پر دیکھ کر خوش ہونا اور سدارامیا کے ساتھ اسٹیج پر دیکھ کر جلنا یہ بسوانا گوڈا پاٹل یتنال کا ذاتی اور مقامی سیاسی مقاصد کے تحت حسد سے بھر ا ہوا الزام ہے ، اس میں کوئی سچائی نہیں اور اس الزام سے تنویر پیران ہاشمی کے لاکھوں چاہنے والوں کو ٹھیس پہنچی ہے،بسوانا گوڈا پاٹل یتنا ل کو چاہیئے کہ سید تنویر پیران ہاشمی سے معافی مانگنے ورنہ ریاستی حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ یتنال کی اسمبلی  رُکنیت منسوخ کی جائے،کہ یتنال کی وجہ سے امن کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے،اور ایک غیر ذمہ دار فرد کا ایوان میں ہونا جمہوریت کے بر خلاف ہے، جس  سے خیر کی کوئی اُمید نہیں اور شر کو موقع فراہم کرنا انسانوں پر ظلم کے مترداف ہے، سید تنویر پیران ہاشمی بیجاپور شہر کے معروف صوفی حضرت ہاشم پیر کی اولاد میں سے ہیں ،بیجاپور ہی میں جن کی پیدائش ہوئی ،اور اسلام کی صوفی روایتوں کے مبلغ کے طور پر ملک و بیرون ملک جن کی خدمات ہیں ملک و بیرون ملک جن کے لاکھوں چاہنے والے موجود ہیں بہت سارے سماجی کاموں میں ہمیشہ خود کو مصروف رکھتے ہوئے انسانیت کی خدمت کرنے کے جذبے کے تحت کام کرنے والے ایک مذہبی رہنماء و صوفی پر بے جا الزام لگانے والے غلاظت سے بھرا ذہین رکھنے والے جمہوری اقدار کی پامالی اور سماج میں امن کے لئے خطرہ بسوانا گوڈا پاٹل یتنال کو فوری گرفتار کرتے ہوئے تحقیقات کرائی جائے کہ کس بنیاد پر اتنا بڑا الزام لگایا گیا ورنہ وہ جب چاہئے جس کو چاہے الزام لگا کر اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے کی کوشش میں امن و امان کو خطرہ پہنچانے کی نا مناسب کوششوں میں ملوث ہوکر اس طرح کے سچائی سےکوسوں دور الزامات لگاتے ہوئے سماج کا ناسور بن جائے گا جو ملک اور ملک کی ترقی کی راہ میں حائل ہوگا ،اس کا یہ الزام نہایت ہی بے بنیاد اور قابل مذمت ہے۔اس موقع پر ضلع وقف بورڈ چیرمن محمد سراج ، اقلیتی بیدار پلیٹ فارم کے ریاستی صدر عبدالغنی طاہر،ین درگاہ حضرت سید حُسین شاہ علی قادری داونگیرہ کے ذمہ دار ین سلیم خان ،مولانا علی جان اشرفی ،عارف ہاشمی،ین انور خان ،نوراحمد ،اڈوکیٹ اشفاق،ٹی اضغر،وغیر ہ شریک رہے۔