بنگلور: 23ڈسمبر ‘یومِ کسان’کے موقع پر ویلفیر پارٹی کرناٹک کی جانب سے ریاست بھر سے صدرِ جمہوریہ کو یاداشت پیش کیا جا رہا ہے۔اخباری بیان جاری کرتے ہوئے ویلفیر پارٹی کرناٹک کے ریاستی صدر اڈوکیٹ طاہر حسین نے کہا ہے کہ ملک میں دن بہ دن کسانوں کی حالت بگڑتی ہی جا رہی ہے،جس کی وجہ سے کسانوں کی خُدکشی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔NCRBکی رپورٹ کے مطابق پچھلے نو سالوں کے دوران روزانہ 30کسان خُدکشی کر رہے ہیں،2014-2022کے دوران کُل 100474کسانوں نے خُد کشی کی ہے۔حکومت کسانوں کے نام پر کسان مخالف اور کارپوریٹ نواز قوانین بنا رہی ہے۔کسان اپنی زمین بیچ کر کام کی تلاش میں شہر منتقل ہو رہے ہیں لیکن یہاں بھی مناسب کام نہ ملنے کی وجہ سے مجبوراً خُدکشی کا راستہ اپنا رہے ہیں۔MNREGAکے نام سے کسانوں کو100دن کا کام دینے کے لئے جو اسکیم جاری ہے اُس کو بھی حکومت ہر بار گھٹاتے جا رہی ہے،ہزاورں کسانوں کو ابھی تک کام کی اُجرت بھی نہیں ملی ہے۔2014-15میں اس کMANREGA لئے1.85%بجٹ رکھا گیا تھا جو کے 2022-23میں گھٹا کر 1.33%کر دیا گیا ہے۔ریاستی حکومتوںکی جانب سے سبسڈی میں کمی،کسانوں کے قرضہ پر نامناسب سود،کسانوں کی کاشت کے لئے نامناسب دام،بیجوں اور کھاد کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ،مارکیٹ میں بچھولیوں کی دھاندلیاں اس سب کی وجہ سے پچھلے تین دہایوں کے دوران 3,50,000کسانوں نے اپنی جان گوائی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں کسانوں کے مسائل کس قدر سگین ہیں۔مودی حکومت نے جو قوانین بنا ئے تھے وہ کسانوں کے حق میں کم کارپوریٹ کمپنوں کے لئے زیادہ فائدہ مند تھے جس کے خلاف کسانوں نے ایک لمبہ احتجاج کیا جس کے دوران تقریباً 750کسانوں نے اپنی جان گوائی،لیکن حکومت نے کسانوں سے جھوٹا وعدہ کر کے احتجاج کو ختم کروایا لیکن ابھی تک ان وعدوں کو پورا نہیں کیاہے۔ہر سال 23ڈسمبر کو ‘یومِ کسان’کے طور پر منا یا جاتا ہے،لیکن کسانوں کی اس صورتِ حال میں کوئی تبدیلی واقعہ نہیں ہو رہی ہے۔یوم کسان محض ایک تقریب بن کر رہے گئی ہے۔کسانوں کے ان مسائل اور حکومت کی لاپرواہی کے پیشِ نظر ویلفیر پارٹی کی جانب سے امسال یومِ کسان کے موقع پر صدر جمہوریہ کو یادداشت پیش کرنا طے کیا گیا ہے،اس یاد داشت میں،کسان مخالف کالے قوانین کو فوری واپس لینے،کسانوں کی فصل کے لئے مناسب دام طے کرنے کے لئے MSPکو جاری کرنے اور کسانوں کے قرضوں کو پوری طرح معاف کرنے کے مطالبہ رکھے گئے ہیں اور صدرِ جمہوریہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے منصب وسوخ کے ذریعہ حکومت پر دباوٗ ڈالیں اور ان مسائل کو فوری حل کروائیں۔اس سلسلے میں پارٹی کی تمام ضلعی شاخوں سے یادداشت روانہ کی جائے گی۔
