شاہ بانو کیس کی یادتازہ،کیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اس قانون کا کرپائیگا دفاع؟
بامبے ہائی کورٹ نے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کرتے ہوئے طلاق شدہ خواتین کو حق دلانے کے لئے ایک فیصلہ سنایاہے جو کہ شریعہ قانون کی مخالفت کرتاہے ۔بامبے ہائی کورٹ نے کہاہے کہ طلاق یافتہ مسلم خواتین کا اپنے سابقہ شوہروں سے کفالت کا دعویٰ کرنے کا حق غیر مشروط ہے اور وہ دوبارہ شادی کے بعد بھی اپنے سابقہ شوہروں سے معقول رقم کا دعویٰ کرسکتی ہیں۔ہندوستان ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق جسٹس راجیش پاٹل کی سنگل جج بنچ نے کہا کہ مسلم خواتین (طلاق کے حقوق کے تحفظ) ایکٹ 1986 کے سیکشن 3(1)(a) سے لفظ "دوبارہ شادی” غائب ہے، جس کے تحت طلاق یافتہ مسلم خواتین اپنے سابق شوہروں سے معقول اور منصفانہ نان و نفقہ کی حقدارہیں۔جسٹس پاٹل نے کہا، ’’دوسرے لفظوں میں، یہ قانون مسلم خواتین کی بے روزگاری کو روکنے اور طلاق کے بعد بھی عام زندگی گزارنے کے ان کے حق کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ "لہذا اس ایکٹ کا قانون سازی کا ارادہ واضح ہے۔ یہ ‘تمام’ طلاق یافتہ مسلم خواتین کی حفاظت اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے ہے۔ میریڈ اومینس پراپرٹی ایکٹ میں جس تحفظ کا حوالہ دیا گیا ہے وہ غیر مشروط ہے۔ مذکورہ ایکٹ کہیں بھی اس تحفظ کو محدود کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا جو سابقہ بیوی کو اس کی دوبارہ شادی کی بنیاد پر حاصل ہے،‘‘ جج نے مزید کہا۔ جج نے کہا کہ میریڈ اومینس پراپرٹی ایکٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ طلاق یافتہ عورت اس کی دوبارہ شادی سے قطع نظر ایک معقول اور منصفانہ رزق اور نفقہ کی حقدار ہے اور طلاق کی حقیقت بیوی کے لیے سیکشن 3(1)(a) کے تحت کفالت کا دعویٰ کرنے کیلئےکافی ہے۔ )عدالت نے چپلون کے ایک رہائشی کی طرف سے دائر درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طلاق یافتہ مسلم خواتین کی معقول اور منصفانہ فراہمی اور نگہداشت کا حق طلاق کی تاریخ پر واضح ہے اور سابقہ بیوی کی دوبارہ شادی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ واضح ہو کہ اسلامی قانون کے مطابق طلاق حاصل کرنے والی مسلم خاتون کو اسکی دوسری شادی کے بعد نان و نفقہ نہیں دیا جاسکتاالبتہ اسکی اولاد کی پرورش کے لئے کوئی روک نہیں ہے ، ساتھ ہی خلع حاصل کرنے والی مسلم خاتون کو خلع کے فوری بعد کسی بھی طرح کے نان و نفقے کو حاصل کرنے کے اختیارات نہیں رہتے ۔واضح ہوکہ1985 میں اسی طرح کے ایک مقدمے میں شاہ بانو /محمداحمد خان کے کیس میں سپریم کورٹ نےفیصلہ سُنایاتھاکہ طلاق کے بعد بھی بیوی کو شوہر نان ونفقہ جاری رکھے۔اس کیس میں سپریم کورٹ نے مسلم خاتون کے حق میں فیصلہ سُنایاتھا،جوکہ شریعہ قانون کے عین مخالف تھا،قرآن کی روشنی میں یہ فیصلہ ناقابل قبول ہو نے کی وجہ سے مسلم پرسنل لاء بورڈنے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی ،لیکن اس فیصلے میں ناکامی ملی تھی،بعدازاں ملک بھرمیں اس فیصلے کے خلاف تحریک چلائی گئی تھی۔ دریں اثناء مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں اس فیصلے کے پس منظرمیں قانون میں ترمیم لائی تھی ۔ اب دوبارہ بامبے ہائی کورٹ کا فیصلہ شریعت کے موافق نہیں ہے،دیکھنایہ ہوگاکہ کیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اس سلسلے میں اس فیصلے کے دفاع کیلئے کیا پیش رفت کریگا۔
