دہلی: دنیا بھر میں ایک بار پھر کورونا وائرس کا قہر بڑھتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے گزشتہ ماہ کووڈ-19 سے تقریباً 10000 افراد ہلاک ہوئے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ صحت کے سربراہ نے بدھ کے روز کہا کہ گزشتہ ماہ تعطیلات کے دوران لوگوں کے ہجوم اور دنیا بھر میں پھیلنے والے وائرس کی نئی شکل کی وجہ سے انفیکشن کے کیسز میں اضافہ ہوا۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے کہا کہ دسمبر میں تقریباً 10000 افراد انفیکشن کی وجہ سے ہلاک ہوئے جب کہ تقریباً 50 ممالک میں اسپتالوں میں داخل مریضوں کی تعداد میں 42 فیصد اضافہ ہوا۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق یورپ اور امریکہ سے ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے جنیوا میں اپنے ہیڈ کوارٹر سے میڈیا کو بتایا کہ اگرچہ ایک ماہ میں 10000 افراد کی اموات کی تعداد اس وبا کے عروج کے لیے کم ہے انہوں نے کہا کہ یہ یقینی ہے کہ دیگر جگہوں پر بھی کیسز بڑھیں ہیں۔ جن کی معلومات موصول نہیں ہوئیں۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے یہ اپیل کی۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے حکومتوں سے نگرانی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ علاج اور ویکسین فراہم کرنے کی اپیل کی۔ ٹیڈروس نے کہا کہ جے این.1 ویریئنٹ اس وقت دنیا میں وائرس کی سب سے زیادہ غالب شکل بن گیا ہے۔ یہ وائرس کی اومیکرون شکل سے نکلتا ہے۔ ڈبلیو ایج او میں کووڈ-19 کی تکنیکی سربراہ ماریا وان کیرخوونے نے دنیا بھر میں سانس کی بیماریوں میں اضافے کا حوالہ دیا جس کی وجہ کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ فلو، رائنو وائرس اور نمونیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے حکام نے مشورہ دیا ہے کہ لوگوں کو ویکسین لگوانی چاہیے، ماسک پہننا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ گھر کے اندر اچھی وینٹی لیشن ہو۔ساتھ ہی، ہندوستان میں 24 گھنٹوں میں 514 نئے کووِڈ کیس رپورٹ ہوئے۔ 31 دسمبر 2023 کو ملک میں 841 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جو مئی 2021 میں رپورٹ ہونے والے کیسز کا 0.2 فیصد تھے۔ ساتھ ہی ہندوستان میں وبا کے آغاز (2020) سے اب تک کل 533402 افراد کورونا انفیکشن کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان نے منگل کو چار کووِڈ اموات کی اطلاع دی۔ جن میں سے دو کرناٹک اور کیرالہ سے ہیں۔
