علامہ اقبالؔ کی شاعری اور عصرِحاضر کے مسائل 

مضامین
از:۔ ڈاکٹر محمد نصر اللہ خان ،شیموگہ۔9845916982
علامہ اقبالؔ کا نام جس وقت اقبال رکھا گیا ہوسکتا ہے کہ وہ وقت دعائوں کے قبولیت کا وقت ہوگا کیونکہ اقبال صرف نام  سے اقبال نہیں بلکہ اپنے کام سے اقبال ہیں۔ان کے کارہائے نمایاں بھی ایسے ہیں کہ دنیا آج تک جس کا ثانی نہیں پیش کرپائی۔ یوںتو برِ صغیر میں مسلمانوںکی آمد قریب بارہ سو سال پہلے ہی ہوگئی تھی۔قریب آٹھ سو سال تو مسلمانوں نے اس عظیم سر زمین پر حکو مت کی ۔وقت نے ایسی کروٹ لی کہ صدیوں کے حاکم بے سرو سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ صرف اس علاقے میںہی دنیا کے بہت سارے علاقوں میں ایسا ہوا ہے ۔ یورپ میں اس طرح کی مثال اسپین کی ہے۔ علامہ اقبالؔ کا دور تحریکوں ،انقلابوںاور بدلتے حالات کادور رہا ہے ۔ عصر حاضر میں اقبالؔ کے کلام کی عظمت وافادیت اور بڑھ جاتی ہے ۔دنیا کے مختلف ملکوں اور علاقوں میں ظلم وستم ،جبر وتشدد کا کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ اقبال ؔکی شاعری موجود دور میں اپنی آفاقی پہچان رکھتی ہے ۔ علامہ اقبالؔسے متعلق الگ الگ نقادوں نے الگ الگ رائے پیش کی ہے ۔ کسی نے آپ کو اسلامی شاعر ،کسی نے قومی شاعر،کسی نے ملی شاعر ،کسی نے فلسفی شاعر، کسی نے شاعر مشرق جیسے القاب سے نوازا ہے ۔لیکن یہ تمام باتیں اپنی جگہ درست ہیں۔ لیکن یہ باتیں تو جزوی حیثیت رکھتے ہیں ۔ آپ کی پیامی شاعر آپ کو آفاقی شاعر بناتی ہے اور یہ کلام اقبال کو صحیح معنوں میں اقبال بنایا ہے کیونکہ عالمِ انسانیت کاتصور سب سے اہم ہے۔ فلاحِ انسان اقبال کے کلام مرکزی نقطۂ نظر ہے ۔ اقبال کسی علاقے یا ملک کے شاعر نہیں بلکہ ایک عالمی شاعر ہیں ۔جن کی سوچیں اور فکر سارے عالم کیلئے پیش ہے۔ خود اپنے الفاظ میں یوں باور کراتے ہیں ۔
مشرق سے نہ ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کوسحر کر
کلام اقبا لؔ کی حیثیت آفاقی ہے انہوں نے ایک خاص مقصد کے تحت شاعری کی ۔ دراصل ان کا کلام ان کے فکروفن کاحسین امتزاج ہے ۔ وہ انسان دوستی اور عزت ِنفس کے عظیم علمبردار ہیں۔ ان کے فکرو وفن روشن پہلوئوں سے ہردور میں انسان مستفیض ہوسکتا ہے۔ اقبال نے اپنی شاعر ی کو صرف تفنن طبع کا ذریعہ نہ بنایا بلکہ مقصد خاص کی ترجمانی کاوسیلہ بنایا اور اسے حیات جاوید انی عطا کرکے اس کو ہر وقت اور ہر دور میں اہمیت ومعنویت عطا کی ۔خود اپنی شاعری سے متعلق کوئی شاعریوں لکھتا ہوتو اسے کیا مقام دیا جا ئے۔
مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ
کہ میں ہوں محرم رازدون ِمے خانہ
اقبالؔ کی شاعری کا ایک اہم عنصر عشق ہے جس شاعر کے کلام میں عشق میں ڈوبی ہوئی باتیں ہوفکر وفن سے روشن خیالی اور احساس وعمل ، خودی کا جذبہ آفاقی ہووہ کلام محدود وقت کے لئے نہیں بلکہ ہر دور اور ہر وقت کے لئے معنوی وفنی خوبیوں سے بھرا ہوتا ہے ۔اقبال کا انقلابی رنگ ہو یا فطری وقومی شاعر کے نمونے ،علاقائی مسائل ہو یا بین الاقوامی اقبال کو کس ایک ملک یا علاقے تک محدود کرنا سراسر اس بابرکت شخصیت پر ظلم ہے کیونکہ وہ ایسا فنکار ہے جس کی سوچ آفاقی ہے ۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
  اقبال ایک ایسے شاعر ہیں جن کے کلام کے مطالعہ سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیںکئی سوالات قوم وملک سے ،تو کئی سوالات اپنے آپ سے ،کلام اقبال سوچنے سمجھنے کا پلاٹ فارم فراہم کرتاہے وجود انسان کا مقصد واضح کرتاہے اور راہ سے بھٹک جانے سے ہونے والی بربادیوں اور تباہیوں کا نمونہ بھی پیش کرتاہے ۔
ہوس نے کردیا ہے ٹکڑے ٹکڑ نوع انسان کو
اخوت کا بیاں ہوجا،محبت کی زباں ہوجا
یہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وتورانی
تو ائے شرمندۂ ساحل اچھل کربیکراں ہوجا
 خواب ِ غفلت سے جگا کر ،غلامی سے نجات دلانا ،خودی کااحساس دلانا، امیری پر فقیری کو سبقت اجتماعی زندگی کیلئے محبت کاپیغام اقبال کا عظیم کارنامہ ہے۔
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے
خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتاہے
اقبال ؔکا دل عالمِ انسانیت کیلئے دھڑکتا ہے ۔اقبال نے انسان کو انسان کی طرح پڑھا اور سمجھا کہ دراصل حضرت انسان جنت سے نکالا ہوا ہے۔ وہ خود جنت اور اس کے خوبصورت نظارے سے واقف ہے ۔ فردوس کی لذتیں ،رنگ اورنرمیت وشفافیت سے لطف اندوز ہواہے لیکن یہی انسان کو جب دنیا میں بھیجا جاتاتو وہ گنبد ِافلاک کے زیر سایہ ،دشت ودریا کوہ وبیاباں ، صحرا اور سمندر غرض کے زندگی کی حقیقت اور معنویت کو یہی سے دیکھا جاسکتاہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو علمی زندگی کاایک حسین موقع عنایت کیا ہے اور یہ جہاں اس کے لئے تجربہ ،مشاہدہ ،مجاہدہ اور حرکت وعمل کاایک ایسا امتحان گاہ ہے جس میں کامیاب و ناکامی پر جنت ودوزخ کا انعام رکھا ہے ۔ علامہ اقبال کی شاعری وجود ِ انسانی اور جنت سے نکالے ہوئے حضرت انسان سے اہم رازوں سے پردوں کو ہٹانے کا کام کرتی ہے ۔نظم جبرئیل وابلیس میں اقبال بڑی ہی فنکاری و فلسفے کی بات ابلیس کے ذریعے کراتے ہیں جو کہ سچائی ہے ۔یہی عالم ِرنگ و بو کا نقشہ ہے ۔
سوز و ساز و درد و داغ و جستجو و آرزو
انسان کا وجود اور اس کی سوچ و فکر کا نمونہ یہ شعر ہے ۔
مطمئن ہے تو پریشاں مثل بورہتا ہوں میں
زخمی شمشیر ذوقِ جستجو رہتا ہوں میں
اقبالؔ سے اپنے بلند تخیل اور فکر رساکے سہارے انسان کی تسخیر قوت کا اندازہ لگالیا تھا ۔انسان کی نئی سوچ اور جولانیوں کو پہلے سے ہی محسوس کرچکے تھے ۔ اشارتاً یہ بھی بتادیاکہ انسان کی عزت اور آبرو خودی میں چھپی ہے خودی ہی سے انسان زندگی میں سربلند ی حاصل کرسکتا ہے اور ساری کائنات پر حکمرانی کرسکتا ہے ۔اس کی بقا دراصل انسانیت کی بقاہے ۔
تیری زندگی اسی سے تیری آبرو اسی سے
جورہی خودی توشاہی نہ رہی تو روسیا ہی
حیات کیا ہے خیال ونظر کی مجذوبی
خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گوناگوں
انسانیت کی تعمیر میں صوفی وقلندر کا کردار المقدر دلچسپ اور حسین ہے کہ فلاح انسانیت کا راز صوفیوں کی زندگی اوراُن کی باتوں سے واضح ہوتاہے ،طریقۂ عمل صوفیا نہ ہو تو سمجھ لیجئے کہ وہ اس دور کاقاضی بھی ہے اور غازی بھی ،یہ پیغام تو دربار صوفیا ء سے ملتا ہے بادشاہوں کے درباروں سے دنیا وں زندگی کاسر سری نمونہ ملتاہے جس سے شاہانہ زندگی جو عارضی ہوتی ہے اس کی چند مثالیں ملتی ہے دلوں پر اگر کوئی حکومت کرسکتے ہوں تو وہ صوفیا ء ہوتے ہیں۔ بلامذہب وملت ،ہر فرد صوفیاء سے محبت کرتاہے ۔
تمنا درد ِدل میں ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزانوں میں
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیج غریبی میں نام پیدا کر
اردو شاعری میں فلسفہ کو ایک نئے ڈھنگ اور سلیقے سے اقبال نے پیش کیا ہے ،عصری معنویت اپنی جگہ مسلم ہے ،فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان حرکت میں رہے ۔احساس وعمل اور حرکت سے صحیح منزل کی تلاش میں اپنا سفر جاری رکھے۔
منزل سے آگے بڑھ کر منزل کوتلاش کر
مل جائے تجھ کو دریاتوسمندر تلاش کر
سجدوں سے تیرے کیا ہوا ،صدیاں گزر گئی
دنیا تیری بدل دے وہ سجدہ تلاش کر
ہر شخص جل رہاہے عداوت کی آگ میں
اس آگ کو بجھا دے وہ پانی تلاش کر
مٹی سے پیدا کئے گئے انسان کاعمل ہی اسے عروج وزوال سے ہم کنار کرتاہے ۔درا صل اقبال ؔکی شاعری اس تناظر میں عصری معنویت کی حاصل ہے کہ عمل ہر دور ہر گھڑی میں انسان کی پیچان ہے۔زندہ اور زندہ دل انسان کے لئے عمل دراصل تغیر وتطور کاایک اہم جز ہے ۔ پہچان وپرکھ کی خوبیاں انسان کی سرشت میں موجود ہیںیہ عقل وشعور کاکام ہے۔اقبال کی شاعری میں اپنا نقطۂ نظر ،فلسفہ ٔ حیات اور آفاقیت پائی جاتی ہے ۔ اسی تناظر میں سجاد انصاری کایہ قول کس قدر صادر آتاہے کہ ۔
’’اقبال کو پڑھتاہوں توخدا یا دآجاتاہے ،اگر قرآن عربی میں نازل نہ ہوتا تو اسکے لئے یا تو اقبال کی نظم
  منتخب کی جاتی یا ابوالکلام کی نثر ‘‘
ویسے آپ کاکلام زماں ومکاں کی قیود سے آزاد ہو کر ساری بنی نوع انسان کیلئے ہے ۔ عظیم فنکاروں کی تخلیقات نہ صرف ان کے دور حیات کے لئے کارآمد ثابت ہوتی ہیں بلکہ بعد کی نسلیں بھی ان سے مستفیض ہوتی ہیں۔ آفاقیت ،عشق ،تصوف ،خودی اورعمل اقبال کے اہم موضوعات رہے ہیں۔غور وفکر ،اور تخیل وتصور کامعیار اسقدر بلند وبالا ہے کہ فارسی اور انگریزی شعراء سے موازنہ کیا جاسکتاہے۔اقبال کی مقصدی شاعری نے سارے عالم میں ایک انقلاب لانے کا کام کیا ہے ۔خاص کرامت مسلمہ کیلئے روح کو جھنجوڑ کر حقائق کی جانب راغب کرنے کا کام اقبال ؔنے شاعری کے ذریعے کیا ہے۔ اقبال نے اپنے خوبصورت کلام کے لئے جوانوںکوجو پیغام خاص دیا ہے ۔ وہ یہ کہ نوجوان اپنا وقت اور اپنی سوچ کاصحیح استعمال کرسکیں۔نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ناامیدی کودور کرتے ہوئے امید کی شمع ہمیشہ دلوں میں جلائے رکھنا اقبال کا در س ہے ۔ اقبال کی باتیں تن بدن سے زیادہ روح کوجھجھوڑ نے کا کام کرتے ہیں۔ نوجوان مقصد حیات کو جان کر اپنے افکار وعمل سے زندگی کو گزارنے کا راز مختلف تشبیوں و اشاروں کنایوں سے یوں بتاتے ہیں۔
عقائی روح جب بیدار ہوجاتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اُن کو اپنی منزل آسمانوںمیں
مقصدیت کی حلاوت ،خیالات کی بالیدگی ،طبیعت میں سنجیدگی ،احساسات وجذبات میں بیقراری ،اُمنگ خود داری ،تجسس وتصور کی رنگا رنگی ،زماں وبیان کی پاکیزگی ،اوصاف وکردار کی حقیقت،سوچ وفکر کی گہرائی وگیرائی ،عشق حقیقی کی عظمت،خودی کی پہچان ،علم وعمل کے سچائی اقبال کو ایک لازوال شاعر کے زمرے میں لے جاتی ہے ۔
دورِ حاضر کے معاملات ، موضوعات اور مسائل کی  پیشن گوئی علامہ اقبالؔ کی شاعری میں صاف دکھائی دیتے ہیں۔اگر نہایت ہی باریک بینی سے کلام اقبالؔ کا مطالعہ کریں تو اکیسویںصدی کے مسائل اقبال ؔکی شاعری میں نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ فلسفی شاعر ہونے کی وجہ سے اور سب سے بڑھ کرقرانِ مجید کے گہرے مطالعے سے انہیں یہ تمام معاملات کا بہت پہلے ہی اندازہ ہوگیا تھا۔یقینا اقبال کی شاعری عمر رفتہ کے ساتھ  رہنمائی کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے ۔ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ عصرحاضر میں کلام اقبال کی معنویت پہلے کے بہ نسبت زیادہ ہوتے جارہی ہے۔