ممبئی:۔میراں روڈ پر کل رام مندر کے افتتاح کے حوالے سے ریلی نکالی گئی تھی جس میں ہندوتوا کے پرچاریوں نے مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی کی تھی،جس کے بعد ہنگامہ برپا ہوگیا تھا اور بات تلخ کلامی سے آگے بڑھتے ہوئے بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی تھیممبئی پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے 13 افراد کی شناخت کرکے انھیں گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی۔آج اُسی میراں روڈ پر ممبئی پولیس نے یوگی حکومت کے طرزپر بلڈورز سے دکانوں کو مسمار کردیا جو کہ مسلمانوں کی ملکیت بتائی جاتی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دکانیں غیر قانونی طور پر قائم کی گئی تھیں۔ایکناتھ شندے کی زیرقیادت حکومت نے کہا کہ غیر قانونی دکانوں اور مکانات کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جہاں پیر کو ہندوؤں کی قیادت میں ایک جلوس پر پتھراؤ کیا گیا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ میرا بھنڈر میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ انہدام مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کے فسادیوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دینے کے ایک دن بعد آیا ہے۔ دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ دہائیوں سے اس جگہ کاروبار کر رہے ہیں جس کے قانونی پیپرز بھی ہیں لیکن اس کے باوجود اگر کوئی کارروائی کرنی تھی تو پولیس کو نوٹس دینا چاہیے تھا۔
