ہندوتوا کی مزاحمت کریں” کے عنوان سے جماعت اسلامی کیرالہ کی زبردست ریلی و کانفرنس ،مساجد کے خلاف جارحیت پر امیر جماعت کا انتباہ

سلائیڈر نیشنل نیوز
کوزی کوڈ : جماعت اسلامی ہند کیرالہ اسٹیٹ  کی طرف سے منعقدہ ایک عوامی ریلی اور یکجہتی کانفرنس میں ہزاروں افراد شامل ہوئے جس کا سلوگن "ہندوتوا کی مزاحمت کریں” تھا۔انگریزی نیوز پورٹل مکتوب میڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس ریلی اور پبلک کانفرنس  میں جو بدھ کو ہوئی تھی  ہزاروں کی تعداد میں مرد، خواتین اور بچے ہندوتوا فاشزم اور اس کی مسلم مخالف مہمات کے خلاف احتجاج کرتے نظر آئے۔بڑے بڑے بینرز میں گیانواپی، متھرا کی مساجد، بابری مسجد کی تعمیر نو، ہندوستان بھر میں مسلم مخالف تشدد، اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں تازہ ترین ہلاکتوں سمیت دیگر مسائل پر ہندوتوا مہم کو اجاگر کیا گیا تھا۔ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے گیانواپی مسجد کے امام مولانا عبدالباطن نعمانی نے سنگھ پریوار کو پکارتے ہوئے کہا کہ مسجد گیانواپی کے بارے میں ان کے دعوے جھوٹ اور من گھڑت ہیں۔نعمانی نے اس بات پر زور دیا کہ وارانسی میں کسی مندر کے وجود کی تائید کرنے کے لیے کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے جہاں اب مسجد کھڑی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جس علاقے میں مبینہ طور پر پوجا کی گئی تھی وہ دراصل مسجد کے قریب کی جگہ تھی جہاں مندر کی کچھ چیزیں  رکھی گئی تھیں۔مکتوب میڈیا کے مطابق جماعت اسلامی کے کل ہند  صدر انجینئیر سید سعادت اللہ حسینی نے کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ملک میں مساجد پر جارحیت سے نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری قوم کو نقصان پہنچے گا۔حسینی نے بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ نفرت پھیلانے میں ایک دوسرے  سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہزاروں ایکڑ پر تجاوزات کے باوجود متنازعہ زمین پر تجاوز کا الزام لگاتے ہوئے رات کے وقت مساجد کو مسمار کرنے پر بھی روشنی ڈالی۔ان کا اشارہ دہلی کے مہرولی میں واقع سیکڑوں سال پرانی مسجد اخوند کو دیر رات منہدم کرنے کی طرف تھا۔کانفرنس سے کئی مسلم اسکالرز، لیڈروں، صحافیوں اور دلت ادیبوں نے بھی خطاب کیا۔