طلباء کیلئے پی یو سی ایک پڑاؤ ہے اس کو پار کرنے کے بعد بہت آسانیاں ہونگی بشرطیکہ سوچ سمجھ کر آئندہ قدم اُٹھائیں :سید سیف اُللہ 

اسٹیٹ نیوز
داونگیرے :۔ یس کے اے ہیچ ملت پی یو کالیج طلباء کو امتحان میں حصہ لینے ہال ٹکٹ تقسیم اجلاس کاافتتاح تلاؤت، کلامِ پاک اور شکیل طاہر کے ذریعہ نعتِ رسول پیش کئے جانے کے بعد اجلاس سے  سے خطاب کرتے ہوئے ادارے کے بانی و سکریٹری سید سیف اُللہ نے کہا کہ پہلے یس یس یل سی ایک پراؤ ہوا کرتا تھا، اب پی یو سی ایک پڑاؤ ہے ،یس یس یل سی میں تو آسانی سے کامیابی حاصل کی جارہی ہے ،اب پی یو سی میں طلباء کو کچھ زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے ،پی یو سی کامیاب ہونے کے بعد تعلیمی سفر آسان ہوتا ہے،طلباء میں تعلیمی اعتبار سے شعور جاگتا جاتا ہے ،اور مقابلہ جاتی اس دور میں طلباء میں خودسے دلچسپی پیدا ہونے لگتی ہے ،اس بناء پر تعلیمی سفر میں طلباء کو آسانی پیدا ہوتی ہے،پی یو میں کامیابی کے بعد والدین کو ایک قسم کی خوشی محسوس ہوتی ہے اور اساتذہ کو بھی والدین سے زیادہ ،اور خاص کر مجھے آپ کی کامیابی سے بہت زیادہ خوشی ہوگی کہ ہمارامقصد ہی آپ کو تعلیم سے آراستہ کرنا ہے ،اورا سی مقصد کے تحت ہی ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا ،ادارے  قیام کے ذریعہ کمانہ کبھی میرا مقصد نہیں رہا، ورنہ کمانے کے بہت سارے طریقہ ہیں کسی بھی شعبہ سے وابسطہ ہوکر کمایا جاسکتاہے ،مگر قوم کو تعلیم سے آراستہ کرنا ہی ہمارے ادارے کے قیام کا   عین مقصد  رہا ،لہذاء آپ کی کامیابی سے مجھے اور ہمارے ادارے سے جڑے احباب واساتذہ کو بے انتہائ خوشی ہوگی ،پی یو کے بعد آپ کی ذرہ سے لاپراہی آئندہ آپ کے تعلیم سفر میں بڑی مشکلات پیدا کرسکتی ہیں، کہ آگے آپ کیا پرھنا چاہتے ہیں آپ خود اپنی صلاحیت کے حساب سے فیصلہ لین نہ کہ اپنی دوست احباب میں کوئی کچھ کررہا ہےتو آپ وہی کرنے چلے جائیں جبکہ آپ  کی لیاقت کے حساب سے وہ آپ کے لئے درست نہیں تو مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں ،آپ اپنی لیاقت کے اعتبار سے آئندہ تعلیم کہ کیا پڑھنا چاہیئے اسی کا انتخاب کرین ورنہ آپ کے اندر کی خوبیوں کو جاننے کی صلاحیت رکھنے والے آپ کے اساتذہ سے رابطہ کریں آپ کے نمبرات اور آپ ذوق کے حساب سے کونساء رخ آپ کے لئے بہتر رہے گا میں سمجھتا ہوں آپ کے اساتذہ سے بہتر کوئی نہیں جانتا ،اپنے اساتذہ کی قدر کریں والدین کی عزت کرین ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں آپ امتحان دینے جارہے ہیں یہ  بڑا ہی خوش قسمتی کا موقع ہے ،امتحان کے موقع پر جو ضروری باتیں امتحان کے تعلق سے پرنسپل ذولقرنین باشاہ نے آپ کو بتائی اُنہیں ذہین نشین کرلین کسی بھی قسم کی جلد بازی نہ کرین پورے اطمینان و احتیاط سے امتحان کا پرچہ لکھیں،کوئی بھی سوال کو یونہی نا چھوڑین تمام سوالوں کے جوابات لکھنے کی پوری کوشش کریں ،کسی سوال کے جواب میں جلدبازی نا کریں اطمینان اور سکوں سے لکھیں،آج کے دور میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو بہت ساری سہولیات فراہم ہیں ،پچھلے دور میں گھروں میں بجلی نہیں ہوتی تھی باوجود اس کے جن لوگوں نے محنت کی وہ کامیاب رہے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلا م کی زندگی کا مطالیہ کریں تو پتہ چلے گا کہ کن مشکلات سے دوچار اے پی جے عبدالکلام نے تعلیم حاصل کی اللہ نے اُن کی محنتوں کا اُنہیں صلہ دیا اور ملک کے بھارت نے اُنہیں جو عزت دی ملک بھارت کو جو کچھ اُنہون نے دیا وہ رہتی دُنیاں تک یاد رہے گا طلباء کو چاہئے کہ پوری لگن سے پڑھائی پر توجہ دیں اور پوری لگن سے امتحان میں ہرسوال کا جواب دیں    تو کامیابی آپ کے قدم چومے گی ،جس سےآپ کی وجہ سے پورہ معاشرہ و سماج آپ کودیکھ کر اپنے آپ پر فخر محسوس کرے گا تب آپ کو احساس ہوگا کہ تعلیم کیا ہے ،اس وقت تک ہمارے نوجوانون کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ وہ کیا ہیں کس لئے اللہ نے اُنہیں پیدا کیا ،ملک کے لئے قوم کے والدین کے آپ کا وجود کیا ہے، یہ احساس ہماری قوم کے نوجوانوں میں کم ہی پایاجارہا ہے ،جدھر دیکھو گٹکا اور گانجے اور نا جانین  کن کن  لعنتوں کا شکار ہمارے نوجوان ہورہے ہیں ،اُنہیں احساس بھی نہیں کہ اس لعنت کی وجہ خدانواستہ کسی بیماری میں ملوث ہوئے تو اُن کے والدین کو کن تکالیف کا سامنا ہوگا ،اہسپتال کے اخراجات کے لئے مسجد کے دروازے پرجب  اُن کے والدین بھیک مانگیں گے کیا وہ منظر ہمارے نوجوانون کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہوگا تو ابھی اہسپتالوں میں جائیں اور دیکھیں ان لعنتوں کا شکار  افراد اور اُن کے والدین کس حالت میں ہیں ،کیا دوسروں کی تکالیف سے آپ کو سبق نہین لینا چاہیئے یا وہ تمام معاملات خود آپ کے در پر دستک دیں تب جا کہ آپ کو احساس ہوگا ،خدارا دوسروں کی تکالیف سے عبرت حاصل کرنے کی فکر کریں اور اپنی زندگیوں میں تبدیلی لائیں ورنہ پچھتائے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا،اسکولوں میں آج اکثر لڑکیوں کی  تعداد ہے، لڑکے تو اسکولوں سے کوسوں دور دیکھائی دے رہے ہیں ،اس دور ی کی وجہ سے بھی کچھ کم مصیبت نہیں آنے والی یاد رکھیئے کہ لڑکیا تعلیم حاصل کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گی اور لڑکے تعلیم سے دور رہیں گے تو کل جب رشتہ داریوں کے معاملات آئیں گے کون لڑکی ہوگی جو ایک جاہل سے رشتہ ازدواج میں بندھنے کے لئے ہان کہے گی ،والدیں سے گذارش کرونگا کہ آپ اپنی لڑکیوں کی تعلیم کو لے کر جس قدر فکر مند رہتے ہیں اس سے کہیں زیادہ اپنے لڑکوں کی تعلیم کو لے کر فکر مند ہونا چاہیئے ،گنگپا لاؤر نے نظامت کے فرائض انجادیے ، کامرس لکچرارفرحانہ ڈی نے مہمانوں کا استقبال کیا ، ملت تعلیمی ادارہ جات کے منتظم سید علی ،اُردو لکچرار یاسمین کوثر ،کے علاوہ یس کے اے ہیچ ملت پی یو کالیج طلباء و طالبات  ،وغیرہ اجلاس میں شریک رہے۔