مسلمانوں کے نصیب میں صرف ممبر : دوسری قوموں کیلئے صدر 

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
کانگریس کے مسلمان ہی حق سے محروم تو عام مسلمانوں کا کیا؛ اٹھ رہاہے سوال ؟
شیموگہ : ریاست میں کانگریس حکومت تو اقتدار میں ہے اور اس حکومت کو اقتدار میں لانے کے لئے ریاست میں مسلمانوں کا اہم کردار رہاہے لیکن شیموگہ میں کانگریس پارٹی مسلمانوں کو جس نظر سے دیکھ رہی ہے اس سے یہ بات تو ثابت ہورہی ہے کہ یہاں کے مسلمان اور مسلم کانگریسی لیڈران صرف کانگریس کو ووٹ دلوانے کے لئے محدود ہیں اور انہیں نمائندگی اور قیادت کے اہل سمجھا ہی نہیں جارہاہے جس کی مثال اس فہرست سے ثابت ہے جسے ضلع کانگریس نے بنائی ہے ۔ ضلع کانگریس کے صدر کی طرف سے ریاستی حکومت کو مختلف کمیٹیوں کے لئے صدر اور ممبرز کے لئے سفارشات کئے گئے ہیں جس میں کسی بھی کمیٹی کی صدارت یا چیرمین شپ کے لئے مسلمانوں کو اہل قرار نہیں دیا گیا ہے ۔ الیکشن کے موقع پر تو مسلم تنظیموں اور لیڈروں سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ الیکشن ہونے کے بعد اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو یقیناََ یم یل سی اور شیموگہ بھدراوتی اربن ڈیویلپمنٹ بورڈ ( سوڈا ) کے چیرمین شپ مسلمانوں کو ہی دی جائیگی ، اس آس میں شیموگہ کے نام نہاد لیڈروں نے ایڑی چوٹی کا زور لگاکر کانگریس پارٹی کو ووٹ دلوایا ، یہ الگ بات ہے کہ پارٹی کا امیدوار اپنی غلطیوں کی وجہ سے ناکام ہوالیکن حکومت تو کانگریس کی ہی ہوئی باوجود اسکے جب عہدے دینے کی بات آئی تو مسلم کانگریسیوں کو آگے رکھ کر کانگریس کے لیڈروں نے پیچھے سے اپنا الـو سیدھا کیا اور مسلمانوں کو ٹھینگا دکھایا ، اسکے بعد بھی مسلم کانگریسیوں کو امیدہے کہ انکے اچھے دن آئینگے اس وجہ سے وہ چوں چاں کہنا بھی گوارہ نہیں کررہے ہیں ۔ سوڈا کا تو پکچر ختم ہواہے لیکن اب بات دوسری کمیٹیوں میں بھی مسلمانوں کو صرف ممبر تک محدود رکھا جارہاہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے گیارنٹی اسکیم امپلیمنٹیشن کمیٹی شیموگہ سٹی کے لئے جو فہرست تیار کی گئی ہے اس میں صدر کے طورپر ہیچ یم مدھوکو صدر بنانے کی سفارش کی گئی ہے ، گیارہ افراد کی اس لیسٹ میں دو مسلمانوں کا نام ہے ۔ کارپوریشن میں دو نامنیٹ کارپوریٹرز کے لئے جو نام دیئے گئے ہیں ان میں ایک پروین کمار کا نام دیاگیاہے ، دوسرا نام سوگندھیکا کا دیاگیا ہے ۔ اسی طرح سے سوڈا کے ممبرز کی فہرست میں پانچ لوگوں کا نام دیا گیاہے اس میں ایک بھی نام مسلمان کا نہیں ہے ۔ شیموگہ سٹی پلاننگ اتھاریٹی کی کمیٹی میں ایک مسلمان کا نام دیاگیاہے ۔ جیل کمیٹی کے لئے 2 ممبرز مسلمانوں کے ناموں کی سفارش کی گئی ہے ۔ آشریہ کمیٹی کے لئے ایک مسلمان کا نام سفارش ہواہے جبکہ فیلڈ ورشپ کمیٹی میں ایک بھی مسلمان کا نام نہیں ہے ۔ڈسٹرکٹ لیول ہیلتھ پروٹیکشن کمیٹی کے لئے ایک مسلم ڈاکٹر کے نام کی سفارش ہوئی ہے ۔ شیموگہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کی کمیٹی کے لئے جو فہرست دی گئی ہے اس میں بھی کوئی مسلمان نہیں ہے ۔ تعلقہ سطح کی ہیلتھ پروٹیکشن کمیٹی کے لئے ایک مسلمان کےنام کی سفارش ہوئی ہے ۔ شیموگہ رورل اسمبلی حلقے کی گیارنٹی اسکیم کمیٹی کے لئے بھی کسی مسلمان کو صدر بنانا کانگریس پارٹی کو گوارہ نہیں سمجھا ہے ۔ سوال یہ ہے کیا مسلمان صرف ممبر بن کر کسی کونے میں پڑے رہنے کے لائق سمجھا گیا ہے ؟۔ کیا مسلمانوں کو صدارت سونپنا کانگریس پارٹی کو گوارہ نہیںہے ؟۔ ہر کمیٹی میں صرف ممبر کی حد تک مسلمان ہوگئے ہیں ؟۔ ایسے میں کانگریس کے مسلمان سوال کرنے سے پیچھے کیوں ہٹ رہے ہیں ؟۔ کیا انہیں خوف ہے کہ پارٹی میں جو انہیں پارٹی کا لیڈر مانا جاتاہے اس سے بھی ہٹادیا جائیگا یا جو ممبرکا عہدہ دیاجارہاہے اسے چھین لیا جائیگا ؟۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ضلع صدر ہیچ یس سندریش کی بھیجی گئی سفارشاتی رپورٹ میں پھر ایک مرتبہ سابق یم یل سی آر پرسنناکمار ، سابق ضلع پریشد صدر کلگوڈ رتناکر کی طرف سے ترمیم کئے جانے کی بات سامنے آرہی ہے وہیں شیموگہ کانگریس کے شکست یافتہ امیدوار ہیچ یس یوگیش کو پوری طرح سے کنارہ کردیا گیا ہے اسکے علاوہ دوسرےمسلم لیڈران جو فلکس میں دکھائی دیتے ہیں انہیں کوئی اہمیت نہیں دی گئی ہے ساتھ ہی ساتھ ین رمیش جنہیں الیکشن ماسٹر کہا جاتاہے انہیں بھی دور رکھ کر کام کیا گیاہے ۔