از ۔ڈاکٹر محمد نصر اللہ خان(شیموگہ) 9845916982
ہندوستان کے جنوب میں ایک ساحلی ریاست ہے جو ہر لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔قدرت نے اس ریاست کو اپنے خزانے سے خوب مالا مال کیا ہے۔قدرتی وسائل سے پوری ریاست بے مثال ہے۔ یہاں کے عوام کے لئے سمندر یعنی بحرِ عرب زندگی کا اٹوٹ حصہ ہے۔یہاں کی آب و ہوا ، فضا بہت ہی خوشگوار، موسم سہانا ، دلفریب وادیاں ، سمندر کے خوبصورت مناظر، ٹھاٹھیںمارتی لہریں،ساحل کے دل خوش کردینے والے نظارے ، قافلوں کی شکل میںسمندر میں آتی جاتی کشتیاں،گھنے جنگلات،تالاب ، جھرنے، پہاڑ ، کھلے میدان، لہلہاتے کھیت کھلیان،اونچے اونچے ناریل کے پیڑ، یہاں کے پکوان ، مٹھائیاں، مچھلیاں،پھل ، سبزیاں ، مہک، صاف راستیں، اور سب سے اہم ایک تہذیب یافتہ قوم سو فیصد ذہن وتعلیم یافتہ لوگ مہذب رکھ رکھائو کے ساتھ ملک اور دنیا میں اپنی الگ شناخت بنانے میں کامیاب ہیں۔ دنیا کے لئے اور مخصوص طور پر ملک کے لئے اہلِ کیرل نے جو خدمات انجام دئے اور دے رہے ہیں وہ سنہرے حروف میںلکھنے کے برابر ہیں۔ بیرونی ملک خاص کر خلیجی ممالک کی ترقی میںکیرل کے لوگوںنے اپنے گراں قدر خدمات انجام دئے ہیںجس کو دنیا کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
سر زمینِ کیرل کو یہ شرف حاصل ہے کہ ہندوستان میں دین کی روشنی سب سے پہلے یہاں پہنچی۔ تجارت کی غرض سے صحابہ کرام ؓ کی یہاں آمد ہوئی ۔ ہندوستان میںسب سے پہلے خدا کا گھر یعنی مسجد کی تعمیر بھی اسی سر زمین پر ہوئی جو چیرامان پرومال کی جامعہ مسجد کے نام سے مشہورہے جوضلع تریشور میں ہے۔ دینی اعتبار سے دیگر علاقوں کے بہ نسبت یہاں کے مسلمان نمازی متقی و پر ہیز گار ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ سر زمین اسلام کے ابتدائی دنوں سے ہی دین سے جڑ گئی جس وجہ سے آج بھی کیرل کے لوگ ساری دنیا میں اپنی علمی ، ادبی اور دینی معلومات و خدمات کے لئے پہچانے جاتے ہیں۔ اہلِ کیرل کے مسلمانوں کا رہن سہن اور لباس زیب تن واقعی عرب سے میل کھاتا ہے۔ایک بات خاص ہے کہ کیرل کے لوگ دنیا کے ہر کونے کونے میں پہنچ کر وہاں اپنی گہری چھاپ چھوڑی ہے۔اسلام نے اس سر زمین پر قدم جماتے ہی ہر خاص و عام کو اس قدر متاثر کیا کہ یہاں کے عوام کی زندگی بدل گئی۔کیرل کو دنیا کے نقشے پر ابھرنے کا ایک حسین موقع مل گیا جس کا بھر پور فائدہ اس ریاست نے اٹھایا۔آج بھی کیرل کے لوگوں کو ملک اور دنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ایک بات روشن کی طرح عیاں ہے کہ کیر ل کے لوگ دنیا کے کسی بھی مقام و علاقے میںایسے گھل مل جاتے ہیں کہ فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ یوں کہے تو بیجا نہ ہوگا کہ کیرل والوں کو ساری دنیا ہی ایک وطن کی طرح ہے۔یہاں کی مہمان نوازی بے مثال ہے۔ ایک بات خاص ہے وہ اپنی تہذیب ،روایات اور اصولوںسے ہرگز انحراف نہیںکرتے ۔ جو ان کی سب سے بڑی خوبی ہے ۔ کیرل کا ایک چھوٹا سا شہر اُپّلہ کے نام سے مشہور ضلع کاسرگوڈ میں آتا ہے جہاں حضرت مالک بن دینارؓ کی مزارِ اقدس اور ایک قدیم مسجد ہے۔ جنوبی کرناٹک کے مشہور شہر منگلور سے بس تیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اُپلہ شہر اردو کا گہوارہ ہے۔ تاریخی اعتبار سے جنوب میں بہمنی سلطنت کے زوال کے بعد قطب شاہی و عادل شاہی سلطنتوں نے کئی سو سال تک حکومت کی ۔ بیجاپور کی عادل شاہی سلطنت کے زوال کے بعد اکثر لوگ کرناٹک تمل ناڈو و کیرل کے علاقوں میں پھیل گئے۔ جس کو جہاں اچھا لگا وہاںپر سکونت اختیار کی ۔اس طرح اُپّلہ گائوں بھی آباد ہوا یہاں پر دکنی مسلمانوں کی آمد ہوئی جو حنفی تھے اور انہوں نے صدیوںسے اس سر زمین کو اپنا وطن بنایا۔آج بھی یہ سر زمین دکنی زبان کے ساتھ اپنی پہچان بنائے رکھنے میںکامیاب ہے۔ یہاں کے لوگ اردو بولتے لکھتے اور پڑھتے ہیں۔جہاں ہندوستان کے بڑے بڑے شہر اردو سے کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں۔وہیں اُپلہ کے لوگ اردو کو گلے سے لگا رکھا ہے اور اپنی نئی نسلوں کو اردو کی ہی سوغات دے رہے ہیں۔ اپنے اصلاف کی میراث کو وہ صحیح طریقے سے نئی نسل میںمنتقل کر رہے ہیں۔اردو کے اعتبار سے ایک سنگلاخ علاقے میں اردو شجر کے جڑوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اپنی تہذیب کی بقاء اور کیا ہوسکتی ہے۔بس سمجھ لیجئے کہ ریگستان میں اردو کا کنواں بنا رہے ہیں۔ دھیمی رفتار سے ہی صحیح اس کنویں کی وسعتوں میںدن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اردو زبان و ادب کے اعتبار سے گر رفتار زمانہ کا ساتھ یوں ہی رہا تو وہ دن دور نہیں کہ کیرل کی سر زمین کو دبستان دہلی یا دبستان لکھنو کی طرح دبستان کیرل کے طور پر جانا جائے گا۔ ان شاء اللہ ۔
بہت سارے افرادہیں جنہوں نے یہاں اردو کو مقبولِ عام بنانے میں اپنا مخصوص کردار ادا کیا ۔ بیسویں صدی کے اوائل میں اس کارِ خیر سے وابسطہ ایک بڑا نام حاجی قاسم صاحب تھے ۔ جنہوں حنفی مسلمانوں کی جماعت کی بنیاد ڈالی ۔ اُپلہ میںجامعہ مسجد اور مدرسے کے لئے جو ایک بڑی جگہ وقف کی وہ تھے جناب حاجی شیخ احمد صاحب۔ اس طرح اب حنفی جامعہ مسجد اپلہ کے آس پاس قریب دس مساجد اور بیس سے زائد مدارس آتے ہیںجو دین کے ساتھ زبان و ادب کے خدمات انجام دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ اسکول ہیں جو اردو کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس ضمن میں لاتی، ابوبکر صاحب کے خدمات لائق صد ستائش ہیں۔ حاجی بی یس عبد الرحمن ،حاجی سید یوسف ،بڈھن سارنگ،محمد حسین، شیخ آدم صاحب، حاجی محمود صاحب،عبدالرشید عثمان صاحب،حاجی نثار احمد صاحب، حاجی بشیر احمد صاحب، سید محمد رفیق صاحب ان کے علاوہ بہت سارے اساتذہ کرام بھی ہیں جنہونںنے اس علاقے میں اردو کو عام کیا۔ چند نعت خواں حضرات و گلوکار بھی ہیں جنہوںنے اس علاقے میں اردو زبان کی مقبولیت میںاپنا مخصوص کردار ادا کیا ۔ جن میںمحمد حسین صاحب،محمد رفیق صاحب، سید محمد توفیق صاحب کے علاوہ مقرر حضرات جیسے حافظ محمد احمد صادق صاحب،محمد آصف صاحب،مفتی فاروق صاحب وغیرہ ہیں۔
یہاں کے مسلمانوں کی زبان بھی پہلے سے وہی دکنی رہی اور آج بھی اسی زبان میں بول چال ہے ۔ واضح رہے کہ کاسر گوڑ سپتہ بھاشاہ سنگمہ بھومی کہلاتی ہے۔ تہذیب و رہن سہن بھی وہی ۔غرض کہ یہ لوگ ٹھیٹ دکنی بولتے ہیں ۔ گھر، اسکول، کالج ،دکانوں ، بازار اور دفتروں میںبھی یہی زبان بولتے ہیں۔ یہ شہر ریاست کرناٹک اور کیرل کی سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے اردو ملیالم کے ساتھ بہت سارے لوگ کنڑ اور کونکنی کے علاوہ دیگر زبانیں بھی بولتے ہیں۔ غرض کہ یہ شہر زبانوں کے سنگم کے مصداق ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیںکہ یہ سر زمین ہندوستان کے لئے ایک مثالی ہے ۔ یہاں کے لوگ بڑے نیک اور ایماندار ہیں،شرافت و سادگی کا پیکر ، امن پسند ، قومی یکجہتی کے لئے ،آپسی بھائی چارہ کے لئے یہ شہر اپنی مثال آپ ہے۔ جہاں تک اردو زبان و ادب کا سوال ہے یہ شہر کیرل میں اردو کا گہوارہ ہے۔ یہاں ٹھیٹ دکنی اردو بولی جاتی ہے ۔ یہاں کی مسجدیں نہایت ہی پُر نور ہیں۔ان مساجدوں سے اردو میں بڑی روحانی و عرفانی تقاریر ہوتے ہیں۔ اسکول ،مدرسوں میں بچوں کو عربی کے ساتھ اردو پڑھایا جاتا ہے۔ اردو ہی ان لوگوں کی پہچان ہے۔
یہاں کے مسلمان حنفی ہیں۔ ان کی زبان بھی وہی ہے جو دکن میں بولی جاتی ہے یعنی دکنی اردو ۔ لب و لہجہ بھی وہی ہے۔انداز اسلوب اور روانی میں بھی کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ انداز گفتگو نہایت ہی سیدھا سادہ ہے۔ جو ہر ایک کو بہ آسانی سمجھ میں آجائے۔ یہاں پر وہی دکنی زبان جو کرناٹک ،تلنگانہ ،جنوبی مہاراشٹرا ، تمل ناڈو آندھرا پردیش کے مسلمانوں کی بولی کی طرح ہے۔ یہاں پر شافعی لوگ اور دکنی بولنے والے لوگ آپسی میل ملاپ سے رہتے ہیں۔ لوگ بہت ہی اچھے اور ملنسار ہیں۔ آپسی اتحاد و اتفاق قابل تعریف ہے۔ واقعی مسلمانوں نے اسی سر زمین کوتہذیب وثقافت ،علم وفن سے بھر دیا ہے ۔ تاریخ کی ایک نئی عبارت لکھی ۔ جو اپنی ملی جھلی تہذیب وثقافت کی نمائندہ ہے۔ اوریہ زبان ہر ہندوستانی یا دکن کی آن بان شان رہی۔ عوامی جذبات ،احساسات،تجربات ومشاہدات کے اظہار واقرار کا موثر ذریعہ بنی۔ اس طرح یہ شہر دکن کے کسی بڑے شہروں سے کم نہیں اس علاقے کی علمی و ادبی خدمات یقینا سنہرے حروف میں لکھنے کے مصداق ہیں۔
جناب محمدعظیم منی منڈا صاحب نے پروفیسر م۔ ن سعید صاحب کو مدعو کیا تو وہ کسی وجہ سے نہیں جا پائے تو آپ نے میرا نام تجویز کیا اس طرح ناچیز کو اس شہر میں بحیثیت مہمانِ خصوصی دو بار مدعو کیا ۔ ایک پچھلے سال پندرا اگست یوم آزادی کے پر لطف موقع پر دوسرا میلاد النبیﷺ کے موقع پر ۔ دونوں بار یہاں کے لوگوں سے ملا ہوں میر امشاہدہ رہا کہ لوگ بڑی تعداد میں دونوں تقاریب میںشریک رہے ۔ خواتین کی بڑی تعداد اس میںشامل رہی جس سے ان لوگوں کی دلسپیوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ دکن کے دوسرے شہروں میں اور اُپّلہ شہر کے مسلمانوں میں زبان و بیان کے معاملے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان پروگراموں میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ شریک رہے ، کیا بچے کیا عورتیں کیا بڑے۔بچوں کی تقاریر ، تحریر ،نعت،حمد ،گیت ، غزل ، نغمے ترانے پڑھتے لکھتے ہوئے دیکھ کر مجھے یہ محسوس ہوا کہ یہ تو اردو زبان و ادب کا ایک مرکز ہے اکثر لوگ ان باتوں سے واقف ہی نہیں ہیں ۔ کیونکہ کیرل کا نام آتے ہی ہم سمجھتے ہیں کہ وہاں لوگ تو ملیالم بولتے ہیں جواردو سے لوگ ندارد ہیں۔میں خود یہاں آکر جب دیکھا تو میری حیرانگی کی انتہا تھی کہ یہاں کے مسلمانوں کی مادری زبان اردو ہے کیونکہ یہ حقیقت سامنے تھی۔یہاں پر آپس میں بول چال کی زبان اردو ہے ، بچوں کو اردو پڑھاتے ہیں لکھاتے ہیں۔بس اردو ہی ان کی زندگی ہے ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ اُپلہ شہر کے علاوہ کاسر گوڈ ضلع میں ہوسن گڑھ، منجیشور، کمبلہ، مُلی یار،موگرل، کانجنگاڑ ،تاجمگوڑ، بیکل،نیلیشور،کوٹی کولم وغیرہ میں بھی دکنی اردو بولنے والے لوگ ہیں ۔ ان مقامات پر بھی بہت ساری مساجد ، مدرسے اور اسکول ہیں۔ جہاںسے اردو زبان و ادب کا درس دیا جاتا ہے۔
شہراُپّلہ سے تحریک اردو کیرل یاترا کا آغاز
2017میں عبدالصمد سمدانی نے کیرل اردو یاترا کا آغاز اُپلہ شہر سے کیا جو ایک تاریخی یاترا تھی ۔ اس یاترا کا خالص مقصد کیرل میں اردو کو فروغ دینا تھا۔ جس کے سر پرست جناب محمدعظیم منی منڈا رہے، اس یاترا میںڈائرکٹر پی کے سی محمد کارے شیری رہے۔ وائس کیپٹن ماسٹر کنور موہن تھے اس یاترا کے مزید ارکان جناب ٹی عبد العزیز صاحب ، امیر کوڑی بیل صاحب،عبدالحفیظ صاحب یو اے ای وغیرہ تھے۔ اس کے علاوہ عبد استار ،عبدالسلام ،محمد اقبال ملائمہ نے بھی اپنا مخصوص کردار ادا کیا ۔اس یاترا کے ذریعے ہر خاص و عام میںاردو کو مقبول بنانے میں کافی حد تک کامیاب رہے۔ اس یاترا کے ذریعے گائوں گائوں شہر شہر اردو کے تقاریب منعقد کئے ۔ اس نوعیت کی یاترا ملک بھر میںجس کا چرچا رہا۔ اس یاترا میں اردو اساتذہ ، طلباء ، شعراء ادباء و صحافیوں کی پہچان کرانا تھا۔ جگہ جگہ ادبی نشستیں ہوتی رہیں۔ پورے کیرل کا سفر رہا ۔ اس یاترا کا آغاز اپلہ سے ہوا۔اپلہ سے ہوتے ہوئے کاسرگوڈ ، تلیسری ، کالی کٹ، ملا پورم، وائی ناڈ ، ایرناکولم ہوتے ہوئے تریویندرم میں اس کامیاب سفر کا اختتام ہوا۔
اردو جو کبھی درباروں کی شان ،محفلوں کی آن اورمجلسوں کی جان تھی ۔پُرانے سلاطین ،حکومتیں ،صوفیا ،ادباء ، شعراء اور عوام نے جس زبان کو دل وجان سے چاہا۔ اُس کے چمن کوخوبصورت بنایا اُس کی مہک کو دور دراز پھیلا یا۔آج اُپّلہ کے لوگ بالکل اسی محبت اور چاہت کے ساتھ اردو کو زندگی سے جوڑے رکھیں ہیں۔یہ عمل یقینا قابل ستائش ہے کہ آنے والی نسل کے لئے اردو کی تہذیب کو زندہ رکھنا چاہ رہے ہیں۔ جس زبان کی فروغ میں صوفیاء کرام نے اپنی محبتوں کے چراغ روشن کئے ،سلاطین نے شوق وذوق سے اس کی ویرانی کو دور کرکے آباد کیا ۔شعراء نے اپنے جذبات ،احساسات ،تجربات سے زبان کوبلندیوں کے ساتویں آسمان پر پہنچادیا ،ہمارے ادباء نے اپنی خوبصورت نثر کے ذریعے اردو کی شان وشوکت میں چار چاند لگادئے ۔ اُپلہ کے مسلمان سو فیصد ہر گھر ، ہر گلی اور محلے میں اردو کا استعمال نہایت ہی نیک نیتی اور ایمانداری کے ساتھ کرتے ہیں ۔بس یہ شہر اردو کے لحاظ سے عمل کا شہر ہے۔ جہاں روایتی اردو کے شہر اردو سے دور نظر آتے ہیں لیکن اُپّلہ کے لوگ میدان ِعمل کے غازی کے طور پر نظر آتے ہیں۔دراصل اُپّلہ کیرل میں اردو کی امید اور حوصلے کا شہر ہے۔ اردو کے لحاظ سے یہاں کے مسلمانوں کے کارہائے نمایاں یقینا سنہرے حروف میں لکھنے کے مصداق ہیں کیونکہ یہ لوگ گفتار کے نہیں کردار کے دھنی ہیں۔
چند مشورے اہلِ اردو کے لئے : قدم قدم پر ہر لمحہ ہر گھڑی ہر محاذ پر جہاںاردو ہونا تھا ہم نے اُس کو صرف مسجدوں ، مدرسوں تک محدود کردیا ۔ بہتوں نے تو اس کو صرف مشاعروں کی واہ واہی تک محدود رکھا تو کمیٹیوں وانجمنوں نے قوالیوں اورمحفلوں تک محدود رکھا جو سال میں مشکل سے ایک مرتبہ منعقد ہوتے ہیں۔اس میں سامعین ، حاضرین ،ناظرین کی تعداد کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ہماری معمولاتِ زندگی سے اس کاکوئی تعلق نہیںہے۔چند گنے چنے افرادد ،چند ایک انجمنیں جو اردو اردو کارونا روتی ہیں۔ ان سب جلسوں ،جلوسوں ، محفلوں اور مجالسوں سے اردو کا کچھ بھلا ہونے والا نہیں ہے۔ جب تک اردو زبان کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے تب تک کچھ ہونے والا نہیں ،ہر انجمن وادارے سے عوام کا براہ راست تعلق ہونا ہے۔ ایک عام بیوپاری ، تاجر، دکاندار ،میکانک ،ٹیلر ، آٹو ڈرئیور اور کار پینٹر ، لاری ڈرائیور، قلئی، مزدور،کسان ،چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا سماج کاہر فرد متحد ومتفق ہوکر زبان کے تئیں ایک حکمت عملی بنانا چاہئیے ورنہ نعروں ، اعلانات واقرار ناموں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ آج ہر ایک کو غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے اور ایسی حکمت عملی کو اپنا یا جائے کہ اردو کی بنیادوں کو مضبوط اورمستحکم کریں۔بچوں نوجوانوںمیں اردو کی دلچسپی پیدا کریں اورزبان کی عظمت پیدا کریں عوام میں اردو کے تئیں احساس ، الفت ومحبت جگائیںاوراردو زبان کی حقیقت باور کرائیںکہ ہمیں دین بھی ملا تو اسی زبان سے ہوتے ہوئے ملا ہے ۔
ہم سب کا یہ اولین فریضہ ہے کہ ہم صرف 9؍نومبر کو یوم اردو مناتے ہیں بلکہ ہر دن ہر لمحہ اردو کے لئے وقف کریں توکچھ بات بنے گی ورنہ سال میں ایک جلسے سے دو چار تقاریر سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اُس عظیم ہستی یعنی علامہ اقبال ؒکے جنم دن کو یوم اُردو منایا جاتاہے کیونکہ حقیقت میں علامہ اقبالؒکی شاعری ہندوستان کی سرحدوں کوچیرتے ہوئے مختلف ممالک وبراعظموں تک پھیلاکر اردو کو بین الاقوامی شہرت عطا کی ۔ا پنی وسعت دامانی کا ثبوت دیتے ہوئے اردو دنیا کے کئی علاقوں میں پھیل گئی ۔ ہمیں یہ احساس ہو نا چاہئیے ہمار اوطن اردو کاوطن ہے اردو اس سر زمین سے ہوتے ہوئے دنیا پر اپنی خوشبوئوں کوبکھیرتی ہے ۔ ہم سب پو واجب ہے کہ ہم اردو کاچلن عام کریں ، گھر گھر اردو ہر گھر اردو ہر ایک کا منشا ہو ،زبان کو زندگی کا اہم حصہ بنائیں ہم نے ایسا ماحول بنا لیا ہے کہ گود سے تو اردو سیکھی مگرگور یعنی قبرستان میں جو کتبے لگائے جاتے ہیں وہ اردو میں ہوتے ہیں ان دونوں کے درمیان جو ہماری زندگی سب سے اہم ہے اس کو اردو سے دور کردیا در اصل حقیقت میں یہی وہ اہم مرحلہ ہے جہاں اردو کو زندگی کے ہر حصے میں پیش پیش رکھنا ہوگاہے۔والدین اردو کے تئیں فکر مند رہیں اپنے بچوں کوزیادہ سے زیادہ قریب کریں تاکہ اسی سہارے دین سے قریب ہوتا کہ دنیا وآخرت سنور جائے ۔ زندگی کے معاملات میں جہاں بھی تحریر تقریر، ترسیل ،کارڈ، اعلان ، بیان ،اقرار ، اظہار،صداقت نامہ، تصدیق نامہ ، پمفلیٹس،دستی اشتہار، ، دیواری اشتہارات کی ضرورت پڑے وہاں اردو کا کثرت سے استعمال ہو اردو اخبارات ،میگزین ،جرنل خرید کرپڑھنے کی عادت ڈالیں، مکانوں، دوکانوںکے نام اردو میں درج ہو ،محلوں ،راستوں ،گلیوں ،چوراہوں، بازاروں ،گاڑیوں کے نام جہاں تک ممکن ہوسکے اردومیں ہو ہر محلے میں زبان وادب کے انجمنیں ہو متحرک ہوکر اردو کے تئیں کام کریں نجی تعلیمی ادارے اسکول ہو یا کالج اپنی ایک ایک اردو انجمن قائم کریں اور سماج میں اردو سے الفت ولگائو کا ماحول پیدا کریں ۔
ہر ایک میںکتابوں کے مطالعہ کا چلن عام ہو اردو کتب خانوں کو قائم کریں۔لڑکوں کے ساتھ نسوانی تعلیم کی جانب توجہ دی جائے تو زبان کے فروغ وبقا میں اہم موڑ آسکتا ہے ۔ کیونکہ نسوانی طور پر اردو زبان ،ادب اور ماحول کو اپنا ئے توبہتر ہوگا آنے والی نسلوں کی تربیت ورہنمائی گود سے ہی ہوگی توقوم اپنی زبان کی مضبوطی کا باعث بنے گی ۔ اقوال ، افعال اور اعمال سے اردو کے طلب گارہیں اپنی زندگیوں میں زیادہ سے زیادہ اردو کا استعمال کریں۔ اردو کو عملی جامہ کا حصہ بنائیں اور خود کی پہچان اور شناخت کاذریعہ اردو کی بنیادوں کو مضبوط کریں۔ بچوں اور نوجوانوں میں زبان کے تئیں الفت ،چاہت اور حسرت پیدا کریں۔ مادری زبان کی بقا ء ہمارا اخلاقی فریضہ ہے ۔ اردو کو صرف محفلوں ،مجلسوں ،بزم وتقاریب تک مقید نہ رکھیں بلکہ ہر خاص وعام اس خوبصورت اور میٹھی زبان کی فروغ وبقا میں اپنا مخصوص کردار اداکریں ۔ گھروں میں محلوں میں گائو و شہر میں اردو کاماحول بنائیں تاکہ نئی نسل راغب ہو اور اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور عملی طور پر اردو زبان وادب کو فروغ دینے کے لئے ایک مستحکم ارادے کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ارادے مستحکم ہوں تو ہمت وحوصلہ اپنے آپ میں آجا تاہے۔ اردو کوصرف مذہبی رسومات تک محدود نہ رکھیں ۔ اس طرح اردو زبان کی ارتقاء ممکن ہے۔کیونکہ اردو صرف زبان نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب کانام ہے ۔اگر تہذیب ختم ہوگئی تو قومیں بھی زیادہ دیر باقی نہیں رہ پاتی ۔ لہٰذا ہم سب کافریضہ ہے کہ اردو زبان کی فروغ وبقا میں اپنے آپ کوتن من دھن سے نچھاور کریں تاکہ آنے والی نسل اپنے روشن مستقبل کے لئے ہماری مرہون منت رہے۔
