لندن:۔ایک تحقیق کے مطابق، سالانہ 300 ملین (تیس کروڑ) سے زیادہ بچے آن لائن جنسی استحصال اور بدسلوکی کا شکار ہوتے ہیں۔ایڈنبرا یونیورسٹی کے محققین کو اس بحران کے پیمانے کے بارے میں پہلے عالمی تخمینے میں معلوم ہوا کہ ہر آٹھ میں سے ایک یا دنیا میں گذشتہ ایک سال کے دوران 12.6 فیصد بچوں کے ساتھ ایسی گفتگو کی گئی جن میں ان کی مرضی شامل نہیں تھی۔ ان کی رضامندی کے بغیر ان کے ساتھ ناشائستہ تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی گئیں۔ یعنی تقریباً 30 کروڑ 20 لاکھ بچے ان سرگرمیوں کا شکار بنے۔اس کے علاوہ، عالمی سطح پر 12.5 فیصد بچوں (30 کروڑ) کے بارے میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ انہیں گذشتہ سال آن لائن کیے جانے والے تقاضوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں بالغ یا دوسرے کم عمر افراد کی طرف سے ناپسندیدہ جنسی گفتگو جس میں بچوں کی مرضی کے بغیر انہیں فحش پیغامات بھیجنا، ناپسندیدہ جنسی سوالات اور ناپسندیدہ جنسی افعال کی درخواستیں شامل ہو سکتی ہیں۔یہ جرائم جنسی بھتہ خوری کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں، جب مخصوص افراد تصاویر کو اپنے تک رکھنے رکھنے کے لیے متاثرہ بچوں سے پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔اگرچہ اس نوعیت کے مسائل دنیا کے تمام حصوں میں موجود ہیں لیکن تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ خاص طور پر ایک ایسا ملک ہے جہاں خطرہ زیادہ ہے۔یونیورسٹی کے ’چائلڈ لائٹ‘ اقدام کا مقصد بچوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کو سمجھنا ہے۔ اس اقدام میں ’انٹو دی لائٹ‘ کے نام سے ایک نیا عالمی پیمانہ شامل ہے شامل ہے جس کے تحت معلوم ہوا ہے کہ امریکہ میں ہر نو میں سے ایک مرد (تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ) نے کسی نہ کسی موقعے پر بچوں سے آن لائن بدسلوکی کا اعتراف کیا۔سروے سے پتہ چلتا ہے کہ سات فیصد یا 18 لاکھ مردوں نے اسی طرح کا اعتراف کیا ،جب کہ آسٹریلیا میں 7.5 فیصد مردوں نے ایسا ہی اعتراف کیا۔تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بہت سے مردوں نے اعتراف کیا کہ اگر ان کے خیال میں معاملے کو خفیہ رکھا جائے گا تو وہ بچوں کیخلاف جسمانی جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے کی کوشش کریں گے۔چائلڈ لائٹ کے سربراہ پال سٹین فیلڈ کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال اس حیرت انگیز پیمانے پر ہے کہ صرف برطانیہ میں مرد مجرموں کی ایک قطار بنائی گئی جو گلاسگو سے لندن تک پھیلی ہو سکتی یا ویمبلے سٹیڈیم کو 20 گنا زیادہ بھر سکتی ہے۔بچوں کے استحصال کا مواد اتنا عام ہے کہ اوسطاً ہر سیکنڈ میں ایک بار نگران یا دوسرے متعلقہ اداروں کو اس کی اطلاع دی جاتی ہے۔یہ صحت کی عالمی وبا ہے جو ایک طویل عرصے سے اب تک چھپی رہی۔ ایسا ہر ملک میں ہوتا ہے۔ اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس کیخلاف عالمی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ہمیں فوری طور کارروائی کرنے اور اس سے عوامی صحت کے مسئلے سے طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے جسے حل کیا جا سکتا ہے۔ بچے انتظار نہیں کر سکتے۔یونیورسٹی میں عالمی سطح پر بچوں کے تحفظ کی پروفیسر ڈیبی فرائی کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ ’ہر کلاس روم، ہر اسکول، ہر ملک میں بچوں کو متاثر کر رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بے ضرر تصاویر نہیں ہیں، یہ انتہائی نقصان دہ ہیں، اور بدسلوکی ہر نظارے کے ساتھ جاری ہے اور بدسلوکی پر مبنی اس مواد کو ہٹانے میں ناکامی کا سامنا ہے۔انٹرپول کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سٹیفن کاواناگ نے کہاکہ آن لائن استحصال اور بدسلوکی دنیا کے بچوں کے لیے واضح اور موجود خطرہ ہے، اور قانون نافذ کرنے کے روایتی طریقوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ہمیں عالمی سطح پر مل کر بہت کچھ کرنا ہوگا جس میں ماہر تفتیش کاروں کی تربیت، معلومات کا بہتر تبادلہ اور آلات شامل ہیں تاکہ اس وبائی مرض اور اس سے دنیا بھر میں لاکھوں بچوں کی زندگی کو پہنچنے والے نقصان کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
