18ویں لوک سبھا کیلئےسب سے کم مسلم ممبران پارلیمنٹ منتخب ،ذمہ دار کون ؟

مضامین
از:۔عبدالجبار گولہ ایڈوکیٹ ۔صدر کرناٹک مسلم پولیٹیکل فورم گلبرگہ ضلع
ہندوستان کی تاریخ میں پچھلے60سالوں میں سب سے کم مسلم مبران پارلیمنٹ18ویں لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے ہیں ۔ 2024کے لوک سبھا انتخابات میں صرف 24مسلم ممبران پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔15فیصد مسلم آبادی ہونے کے با وجود صرف 24 مسلم ممبران پارلیمنٹ کامنتخب ہونا نہایت تعجب خیز ہے ۔اگر آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تومسلم ممبران پارلیمنٹ کی تعداد کم از کم100ہونا چایئے لیکن افسوس کہ4.4%مسلم ممبران پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمان صرف ووٹ دینے والے بن کے رہ گئے ہیں؟آزادی کے بعد سے مسلمان کبھی اس پارٹی کے کبھی اس پارٹی کے ہو کر رہ گئے ہیں ۔افسوس کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ صرف اور صرف ووٹ ڈالنے کی بات کرتا ہے لیکن اپنی لیڈرشپ پیدا کرنے ،لیڈر شپ کو مضبوط کرنے ،حکومت کے ایوانوں میں مسلم نمائندگی کو بڑھانے ،مسلمانوں کے مسائل کو پارٹی اور حکومت کے سامنے پیش کرنے کی کسی کو فکر یا احساس ہی نہیں ہے ۔2024کے لوک سبھا انتخابات میں ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے118مسلم امیدوار وں کو انتخابی میدان میں اتارا تھا لیکن ان میں سے صرف 24مسلم امیدوار ہی ممبران پارلیمنٹ منتخب ہوئے ۔2024کے انتخابات میں پارلیمنٹ میں مسلم نمائندگی کو بڑھانے میں تمام پارٹیاں اور مسلمان ناکام رہیں ۔اس الیکشن کے دوران بہت سارے حلقوں میں یہ دیکھا گیا کہ اگر کوئی مسلم امیدوار الیکشن لڑرہاہے تو پارٹی سے وفاداری دکھانے کے لئے مسلم امیدوار کو ووٹ دینا ضروری نہیں سمجھا ۔ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں میں نمائندوں کو منتخب کروانے کا احساس ہی ختم ہوچکا ہے ۔جب کوئی مسلم امیدوار الیکشن میں کھڑا ہوتا ہے تو عام طور پر مسلمانوں میں یہ باتیں گشت کرتی ہیں کہ کیا یہ جیت سکتا ہے ؟کس مقصد سے کھڑا ہے ؟اس طرح کی سوچ کی وجہہ سے خود مسلمان مسلم امیدوار کو ہراتے ہیں اورہرا ر ہے ہیں ۔ان حالات میں مسلم نمائندگی میں اضافہ کیسے ہوگا ؟یہ بڑا فکر انگیزسوال ہے ۔لوک سبھا انتخابات 2024میں ہماری ریاست سے ایک مسلم امیدوار کو ٹکٹ دے کر ہرایا گیا ۔اس کے ذمہ دار کون ہیں ؟گذشتہ سال اسمبلی انتخابات میں ریاست کے80فیصد مسلمانوں نے کانگریس کو ووٹ دیئے اور اس سال کے  لوک سبھا انتخابات میں کانگریس سے کم از کم 5مسلم  امیدوار وں کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ کیا گیا لیکن کانگریس نے صرف ایک مسلم امیدوار کو ٹکٹ دی اور وہ بھی الیکشن ہار گئے ۔کیا مسلم امیدوار کو کامیاب کروانا کانگریس پارٹی کی ذمہ داری نہیں تھی ؟لوک سبھا انتخابات 2024کے بعد جس کا خدشہ تھا وہی ہوا ۔کرناٹک مہاراشٹر ،آندھرا پردیش ،تلنگانہ ،تملناڈو ریاستوں سے ایک بھی مسلم ممبرپارلیمنٹ منتخب نہیں ہوا ۔ان ریاستوں میں مسلمانوں کی آبادی قابل لحاظ ہے ۔اگر مسلم آبادی کا تناسب نکالا جائے تو مسلم آبادی کے تناسب کے لحاظ سے کرناٹک سے 4مہاراشٹرسے3یا 4،آندھرا پردیش سے2یا 3، تلنگانہ سے2یا 3اور تملناڈوسے2مسلم امیدوارلوک سبھا الیکشن میں بہ آسانی کامیاب ہونے چاہئے لیکن کسی پارٹی نے مسلم امیدوار وں کی کامیابی کی کوئی حکمت عملی نہیں بنائی ۔لوک سبھا انتخابات میں مسلم امیدواروں کی کامیابی کی حکمت عملی بنانا تو دور کی بات ہے مسلم امیدواروں کو ان کی آبادی کے تناسب سے ٹکٹ نہیں دی گئی ۔سیاسی پارٹیاں تو مسلمانوں کو نظر انداز کر رہی ہیں دوسری جانب ملت کی نمائندگی اور قیادت کا دم بھرنے والے ٹھیکے دار مسلم امیدواروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔مسلم امیدوار کے خلاف کھل کر پورے جذبہ کے ساتھ کام کرتے ہیں ۔اکثر کہا جاتا ہے کہ مسلم امیدوار جیت نہیں سکتا ۔مسلم امیدوار کے پاس پیسے نہیں ہیں ۔یہ سوال بہت زیادہ کیا جاتا ہے کہ مسلم امیدوارقابل ہے کیا ؟اگر مسلم امیدوار قابل بھی ہے تو ہم اس کی تائید کیوں کریں؟اس کا کام کیوں کریں ؟ایسی سوچ کے ہوتے کہاں سے اور کیسے مسلم قیادت پر وان چڑھ سکتی ہے ؟
اکثر حلقہ جات میں تمام کی تمام پارٹیاں مسلم امیدواروں کو میدان میں اتار تی ہیں جس کے نتیجہ میں مسلم امیدوار ہار جاتے ہیں اور غیر مسلم امیدوار کامیا ب ہو جاتا ہے ۔ہم جوش سے کام کرنے کے عادی ہیںہوش سے کام کرنے کے لئے تیار نہیں ۔اگر انتخابات میں منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے کام لیاجائے تو مسلم امیدوار کی کامیابی کے قوی امکانات ہیں اور جیت بھی حاصل ہوتی ہے ۔اہم اور قابل غور سوال یہ ہے کہ ملک کی آبادی کے ساتھ ہماری آبادی میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے لیکن اسمبلیوں اور پار لیمنٹ میں ہماری نمائندگی کیوں نہیں بڑ ھ رہی ہے ؟اس سلسلہ میں ہمیں نہایت سنجید گی سے غور کرناہو گا کہ ہم اسمبلیوں اور پار لیمنٹ میں اپنی نمائندگی کس طرح بڑھائیں یا پھر اپنے اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر ملت کو بے یا ر و مدد گار چھوڑینگے ؟اگر ہماری غفلت و بے حسی اور مفاد پرستی کا یہی حال رہا تو وہ دن دور نہیں کہ ہم اپنی بچی کچی شناخت سے بھی محروم ہوجائیں گے ،اسکے ذمہ دار ہم تمام رہیں گے ۔مسلم رہنماء ہو کہ علماء ،مذہبی رہنماء ہو کہ وکلا ء دانشوران،ہر شعبہ کا ذی شعور فرد ذمہ دار ہوگا ۔