شیموگہ:(خصوصی رپورٹ مدثراحمد ):۔شیموگہ کارپوریشن کی جانب سے لاک ڈائون کے دوران ضرورتمند افراد کو راشن کٹ دینے کا فیصلہ کیاگیاتھا،قریب90 دنوں کے بعد اب یہ راشن کٹ عام لوگوں کو پہنچانے کیلئے پیش رفت کی گئی ہے،مگر جو راشن کٹ تقسیم کئے جارہے ہیں،اُسے دیکھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ کھوداپہاڑنکلاچوہا۔کیونکہ 2کروڑ10 لاکھ روپئے کی لاگت سے شیموگہ کے 46650 افرادکو راشن کٹ دینے کی بات کہی گئی ہے۔لیکن ان راشن کی تھیلیوں میں جو سامان ہےوہ نہ تو پیٹ بھر کھانے کا سامان ہے اور نہ ہی مہینہ بھراستعمال کرنے کاکچھ سامان ہے ۔ ان تھیلیوں میں ایک کلوسوجی،ایک کلو نمک،آدھاکلو مونگ،ایک کلو تور دال ، ایک کلوشکر،ایک کپڑے دھونے کا صابن،10روپئے کی رائی ،200گرام سانبر پائوڈر،ایک لیٹر پکوان کا تیل جس کا نام شائدہی کسی نے کبھی سناہے۔معمولی کوالیٹی کے اس سامان کی تھیلی کی لاگت450 روپئے طئے کی گئی ہے۔لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا شیموگہ کارپوریشن نے46650 راشن کٹ بنائے ہیں اور بنائے ہیں تو کیسے سب لوگوں کو پہنچایاجارہاہے؟۔جو تھیلیاں بنائی گئی ہیں اس سے نہ تو ضرورتمندوں کی بھوک مٹ سکتی ہے اور نہ ہی وہ دیگر سامان کا استعمال کرتے ہوئے مہینے بھر سکون سے رہ سکتے ہیں اور یہ راشن کٹ ایسے وقت میں دئیے جارہے ہیں جب لاک ڈائون ختم ہوچکاہے اور لوگ حسب معمول اپنے کام وکاج پر روانہ ہوچکے ہیں۔کیا واقعی میں یہ راشن کٹ لوگوں کی سہولت کیلئے دئیے گئے ہیں ،یہ سب سے بڑا سوال ہے؟۔اس پورے راشن کٹ کے معاملے میں اور ایک سوال یہ بھی ہے کہ ان تھیلیوں کو بنانے کیلئے داونگیرے سے تعلق رکھنے والےایک ٹھیکدار کو ٹینڈر دیاگیاتھا اور اس ٹھیکدارنے شیموگہ کے بجرنگ دل سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن ٹھیکہ دیاہے اور اس ٹھیکدارنے قبول کیاہے کہ دوانگیرے کے ٹھیکدارنے انہیں سب کنٹراکٹ دیا ہے ۔ کیا واقعی میں شیموگہ میں ایسا کوئی ڈیلر نہیں تھا جس کیلئے داونگیرے کے ٹھیکدارکو پہلے ٹھیکہ دیاگیاپھر اس کے بعد شیموگہ کے دو افراد کو ٹھیکہ دیاگیاہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ سال2011 میں شیموگہ کارپوریشن میں بی جے پی جب برسر اقتدار تھی اُس وقت بھی شہربھرمیں ایک لاکھ پودے لگانے کی مہم چلائی گئی تھی،مگر سارے شہرمیں محض10 ہزارکے قریب ہی پودے لگائے گئے تھے،باقی 90 ہزار پودوں کادوردور تک پتہ نہیں چل پایاہے۔ممکن ہے کہ46650 راشن کٹس میں 6650 راشن کٹ ہی تقسیم کئے جائینگے،اس وجہ سے اپوزیشن جماعتیں اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے پورے کی چھان بین کرنے اورجو راشن دیاگیاہے اُس معیار جانچنے کے علاوہ اُس کی لگ بھگ قیمت کیاہےاس کی تحقیقات کروانے کیلئے ضلع انتظامیہ اور اے سی بی سے رجوع کرتے ہیں تو یقیناً بی جے پی کا ایک اور گھوٹالہ سامنے آسکتا ہے۔جن46650 افراد کو راشن دینے کا فیصلہ کیاگیاہے وہ کیسے اور کن بنیادوں پرکیاہے وہ بھی نہیں معلوم ہے۔جو راشن کٹ دی گئی ہے اُس حساب سے دودن گھر میں اُپٹ بنے گی،آدھاکلومونگ اور شکر کا استعمال کرتے ہوئے میٹھا بنایاجاسکتاہے،ایک صابن کا استعمال کرتے ہوئے ایک بار کپڑے دھوئے جاسکتے ہیں اورجو توردال ہے وہ ایک فیملی کیلئےناکافی ہے۔بہرحال کارپوریشن کے پہاڑکو کھوداگیاتو راشن کا چھوٹا سا چوہا باہر نکلا۔
