از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا ،ہبلی۔9902672038
بیگم صاحبہ کی آ واز میری سماعتوں سے ٹکرائی تو انکھیں کھل گئی، دیکھا کہ وہ اخبار اور چائے کا کپ ٹی پائی پر رکھ رہی تھی۔میں نے ان کا شکریہ ادا کیا تو مسکراتے ہوئے کچن کی سمت چل پڑیں۔ چائے کی چسکیوں کے ساتھ ساتھ اخبار کی سرخیوں پر نظر دوڑاتا رہا تو ایک خبر پر نگاہ رک گئی ،اس خبر نے مجھے جنجھوڑ کر رکھ دیا۔ خبر یہ تھی کہ شہر کے نئے پولیس کمشنر نے منشیات کا استعمال کرنے والے نوجوانوں کی پکڑ تیز کر دی ہے۔ گرفتار کیے گئے چار سو نوجوانوں میں ٹیسٹ رپورٹ کے مطابق آدھے سے زیادہ پازیٹو کیسز ثابت ہوئے ہیں۔ اخبار کے ایک گوشے میں اٹھارہ سے بیس سال کی عمر کے بچوں کی تصاویر شائع ہوئی تھی جو منشیات کے استعمال میں ملوث پائے گئے تھے- نو عمروں کے فوٹوز دیکھ کر دل غمزدہ ہو گیا۔
میں سوچوں میں غرق ہو گیا، تصورات کی اسکرین پر دیکھتا رہا کہ گزشتہ پچاس سالوں میں انسانی ،سماجی ،اخلاقی اور ثقافتی قدریں کس حد تک گرتی چلی گئی ہیں۔ جبکہ یہی قدریں تو معاشرے کی مضبوط دیواریں ہوتی ہیں جو اپنے حصار کے اندر انسانیت کی پاسداری کا فریضہ ادا کر رہی ہوتی ہیں۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں پرائمری اسکول کا طالب علم تھا -اس دور میں اولڈ ہبلی کے مونسپل ہاسپٹل کے سامنے پڑی خالی جگہ پر ایک چھوٹا سا گارڈن بنایا گیا تھا اور پیڑ پودوں کی حفاظت کے پیش نظر گارڈن کے اطراف لوہے کی حصار بندی کی گئی تھی، داخلے کے لیے سامنے ایک گھومتا ہوا گیٹ لگایا گیا تھا -ستر کے ابتدائی دور میں قرب و جوار کی غریب آ بادیوں کے لیے یہ گارڈن ایک نعمت سے کچھ کم نہ تھا۔ گارڈن کے اندر بیٹھنے کے لیے بینچیں بھی موجود تھیں، جس پر معمر افراد وقتی سکون حاصل کیا کرتے تھے۔ ان کے علاوہ محلے کے بچے بھی جنھیں گارڈن کی دلکشی کھینچ لاتی تھی وہ بھی گارڈن میں کھیلتے ہوئے نظر آ تے تھے۔
ایک دن کا واقعہ ہے میں گارڈن میں لگے اشو کا کے درخت سے چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا اسے اپنے قد کے برابر جھکانا چاہتا تھا، اب میری شامت دیکھیے کہ کسی گزرتے ہوئے کانسٹیبل کی نظر مجھ پر پڑی جس نے اپنی سائیکل روکی اور سیدھے میرے پاس چلا آیا اور مذکورہ حرکت پر اس نے میری کافی سرزنش کی اور ساتھ ساتھ اس نے مجھے ماحولیات کی اہمیت اور ضرورت کے تئیں اچھی طرح سمجھا بھی دیا کہ ہمارےاطراف پیڑ پودے کیوں بے حد ضروری ہیں۔ اگرچہ گارڈن کے قریب سے گزرتے کانسٹیبل کی ڈیوٹی میں یہ نہ تھا کہ اپنی سائیکل رکواتا اور میری نہ صرف سرزنش کرتا بلکہ ضروری جانکاری بھی دیتا۔ میری شرارت کا جو اس نے نوٹس لیا وہ دراصل سماجی قدروں کا تقاضا تھا۔ اس زمانے میں جب بھی کوئی کسی غلط کام کو ہوتے دیکھتا تو فورا اس کے تدراک کی کوشش شروع کر دیتا اور اپنی سی کوشش کو فریضہ انسانیت سمجھتا۔
میرے ذہن کے ذخیرے میں وہ واقعہ بھی بالکل تر و تازہ ہے جب میں نیا نیا ہائی سکول پہنچا تھا۔اس زمانے میں ہوٹل میں جو لذیذ ڈش ہوا کرتا وہ’ مسا لا دوسا’ کا تھا جوپچیس پیسے میں مل جاتا تھا۔ اس زمانے میں اولڈ ہبلی مارکیٹ کے احاطے میں ایک نیا ہوٹل کھلا تھا۔ اس دور میں نوجوانوں کا ہوٹل میں بیٹھنا تو درکنار ہوٹل کے سامنے کھڑے رہنا بھی آ وارگی میں شمار کیا جاتا تھا۔ بہرحال پچیس پیسے جمع کرنے کی کوشش شروع ہوئی تاکہ ہوٹل میں بیٹھ کر اس نئی ڈش سے لطف اندوز ہو سکوں۔
سورج ڈھل چکا تھا، میں کچھ دیر ہوٹل کے باہر کھڑا یہ دیکھتا رہا کہ ہوٹل کے اندر موجود لوگوں میں مجھے پہچاننے والا تو کوئی نہیں ہے۔جب اطمینان ہو گیاکہ کوئی شناسا موجود نہیں ہے تو میں نے فیصلہ کر لیااب چاہے سر پھوٹے یا ماتھا، مجھے بہر حال مسا لا دوسا کھانا ہی ہے اور میں بے دھڑک ہوٹل میں داخل ہو گیااورآخری ٹیبل پر جا بیٹھا اور ‘مسا لا دوسا’ کا آ رڈر دے دیا۔تھوڑی دیر میں میرا من پسند ڈش میرے سامنے موجود تھا۔’مسا لادوسا ‘ابھی آ دھا بھی نہیں کھا پایا تھا کہ میرے محلے کا ایک معمر شخص ہوٹل میں داخل ہوا۔ اس کی مجھ پر نگاہ پڑی اور جب ہماری نظریں چار ہوئیں تو میرا معاملہ کچھ یوں تھا جیسے سر منڈتے ہی اولے گر پڑے ہوں ۔وہ پڑوسی چاہتے تو مجھے نظر انداز کر کے کسی دوسرے ٹیبل پر بیٹھ سکتے تھے، لیکن بیٹھنے سے قبل میرے قریب آ ئے اور طنزیہ انداز میں کہا، میاں اب تم کافی بڑے ہو گئے ہو، کہو تو سگریٹ پیش کروں”. ان کا کہا سنتے ہی لگا جیسے کاٹو توجسم میں لہو نہیں ہے۔ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر شرم سے پانی پانی ہوا جا رہا تھا آ دھا مسا لاد وسا پلیٹ ہی میں چھوڑ کر، کاؤنٹر پر پچیس پیسے رکھے اور گھر کی طرف دوڑ لگا دی۔ تقریبا ایک ماہ تک میں چین کی نیند سو نہ سکا ،ہمیشہ دھڑکا لگا رہتا پتہ نہیں وہ پڑوسی کب میرے گھرمیری شکایت کریں، لیکن اچھا ہوا وہ صاحب گھر میں شکایت نہیں کی۔ شعور میں پختگی محسوس ہونے لگی تو لگا کہ ان صاحب کو میرا ہوٹل میں بیٹھنا ناگوار گزرا تھا اور ان کا رویہ دراصل اخلاقی قدروں کی عکاسی کر رہا تھا – اس دور میں لوگ اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ دیگر بچوں کی حرکات پر بھی نگاہ رکھا کرتے تھے اور حسب ضرورت بچوں کی اصلاح کرتے۔
پچاس سال پرانا وہ واقعہ مجھے ہمیشہ شرمسار کیے رہتا ہے۔ میرا آ ٹھویں جماعت میں داخلہ ہو چکا تھا، پرائمری میں میرا ایک ہم جماعت دوست ناصر تھا جسے پڑھائی سے زیادہ کرکٹ سے دلچسپی تھی۔ وہ اکثر اسکول سے غیر حاضر ہوتا اور اس وقت کے اولڈ ہبلی کے معروف جاگیردار پلے گراؤنڈ میں کرکٹ کھیل رہا ہوتا۔اسے کرکٹ سے جنون کی حد تک دلچسپی تھی۔ناصر کے والد جو ‘سو نور سہوکار ‘کے نام سے مشہور تھے انہیں اپنے بیٹے کی اس کمزوری کا پتہ تھا۔ بہرحال انہوں نے بھی ایک ماہ بعد ناصر کا آ ٹھویں جماعت کے لیے داخلہ کرا دیا – اولڈ ہبلی کے علاقے آثار محلہ میں ناصر کے والد کی ایک آ ٹا پیسنے کی مشین تھی۔ میں بھی وہیں آ ٹا پسوانے جایا کرتا تھا۔ ناصر کے والد نے بڑے ہی مشفقانہ انداز میں مجھ سے کہا تم تو جانتے ہی ہو ناصر کو پڑھائی سے زیادہ کرکٹ سے دلچسپی ہے اور اب میں اس کا بھی آ ٹھویں جماعت میں داخلہ کرانے والاہوں مگر ایک خوف دامن گیر رہتا ہے کہ ہائی سکول کے اطراف موجود فلم تھیٹروں میں ناصر اپنا وقت ضائع نہ کرے۔ تم ایسا کرنا کہ ہائی سکول جاتے وقت ناصر کو ساتھ لے جانا اور شام میں واپس لیتے آ نا۔میں نے اثبات میں حامی بھر لی چونکہ میرا گھر بالکل ہی قریب تھا۔
ہائی سکول میں میرا داخلہ ہوئے ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا اور مجھ پر ہائی سکول کے قریبی سینما تھیٹر کا اثر پڑ چکا تھا کیونکہ ہائی سکول کا اخری پریڈ ختم کر کے میں سینما تھیٹر کے سامنے پہنچ جاتا تھا۔ اُس زمانے میں دس منٹ قبل سینما ہال کیگیٹ کھول دیے جاتے تھے تاکہ جو باہر جانا چاہیں چلے جائیں اور بھیڑ پر کنٹرول بھی رہے گا۔ اور میں اپنے چند ہم ذوق ساتھیوں کے ساتھ روزانہ اخری پریڈ ختم ہوتے تھیٹر میں پہنچ جاتا تھا تاکہ دس منٹ قبل دروازہ کھول دینے پرگیٹ کے باہر کھڑے ہو کرفلم کے کچھ آ خری سین دیکھ سکوں۔ میرا یہ معمول مجھے کسی حد تک ذہنی آ سودگی فراہم کرتا تھا۔ ہم طلباء کو دیکھ کرگیٹ کیپر نصیحت کرتاکہ ہم اپنی پوری توجہ پڑھائی پر لگائیں تاکہ مستقبل روشن ہو ، ورنہ میری طرح گیٹ کیپر یا چھوٹی موٹی ملازمتیں کرنی پڑیں گی۔ اب بھلا تیرہ، چودہ سال کی عمریں بھی اپنے ذوق کے خلاف کی جانے والی نصیحتوں کو کب خاطر میں لاتی ہیں۔ ہم نے کبھی بھی گیٹ کیپر کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دی اور نہ ہی اسے کبھی ہمارے لیے نوشتہ دیوار سمجھا۔
ناصر کا ہائی سکول میں آ ج پہلا دن تھا ،میں اسے گھر سے لے کر ہائی سکول آیا، آ خری پریڈ تک اپنے ساتھ رکھا۔ گھر سے نکلتے وقت ناصر کے والد نے دوبارہ یاد دہانی کے طور پرمجھ سے کہا کہ ناصر کا خیال رکھنا تاکہ ہائی سکول کے اطراف موجود تھیٹروں کے چکر میں یہ نہ پڑ جائے ، میں انہیںیقین دلایا کہ آپ ہے فکر رہیں یہ ہائی سکول میں میرے ساتھ ہی رہے گا اور پھر حسب وعدہ شام تک میں نے ناصر کو اپنی نظروں سے اوجھل ہونے نہیں دیا بلکہ اسے اپنے ساتھ بٹھائے رکھا۔ اخری پریڈ ختم کرنے کے بعد میں اپنے ہم ذوق ساتھیوں کے ساتھ ناصر کو بھی لیے ہوئے قریبی تھیٹر پہنچا تاکہ دس منٹ ہی سہی کچھ تو مناظر دیکھنے کو ملیں۔ناصر بھی خوش تھا کہ اس مرحلے میں بھی میں اسے اپنے ساتھ رکھا ہوں۔ دل کسی طرح کی ملامت نہیں کر رہا تھا کیونکہ ہم نے تمام پریڈ حاضر رہنے کے بعد تھیٹر پہنچے تھے، ایک طرح سے شرح صدر حاصل تھا۔
دس منٹ قبل کھول دیے جانے والے دروازوں سے بیشتر لوگ باہر نکل جاتے اس طرح تھوڑی دیر میں پورا تھیٹر خالی ہو جاتا۔ جب تھیٹر سے بھیڑ باہر نکل آ تی ہے تو یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا تین گھنٹے پہلے تھیٹر میں اندر کون جا بیٹھا ہے اور کون میری طرح دس منٹ پہلے اخری سین دیکھ کر آ رہا ہو۔اخری منظر کے اختتام پر جب میں ناصر کو لیے ہوئے بھیڑ میں شامل ہو گیا تو کسی نے پیچھے سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا،
میں نے مڑ کر دیکھا تو ناصر کے والد تھے انہوں نے بڑے دکھ کے ساتھ کہا کہ” آ ج ہی میں نے تم سے کہا تھا کہ ناصر پر نظر رکھو اور تم ہو کہ پہلے ہی دن اسے تھیٹر لے آ ئے” میں مارے شرم کے پانی پانی ہو گیا۔کاش زمین پھٹ جاتی اور میں اس میں سما جاتا۔ ناصر کے والد کو مطمئن کرنے کے لیے میرے پاس کوئی دلیل نہ تھی۔ میں انہیں کیسے باور کراتا کہ تمام دن میں ناصر کو اپنے ساتھ رکھا ،پورے پریڈ اٹینڈ کرنے کے بعد میں اپنی عادت کے مطابق اپنے ہم ذوق ساتھیوں کے ساتھ ناصر کو بھی لے آ یا ہوں۔میری بات پر ناصر کے والد مطمئن کیسے ہوتے ؟
اگر میں اسکول سے غیر حاضر ہو کر پکڑا جاتا تو اتنی پشیمانی نہ ہوتی لیکن یہاں تو معاملہ بالکل برعکس تھا۔ جس طرح میں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا یہاں میری کوئی صفائی کام نہ آ ئی، ناصر کے والد نے میرے تعلق سے جو بھرم بنائے رکھا تھا وہ چور چور ہو گیا تھا اس واقعے سے چودہ سالہ بچہ اس قدر غمزدہ اور سنجیدہ ہو گیا تھا گویاآ سمان اس پر ٹوٹ پڑا ہو۔ اس کے بعد میں محض شرمندگی کے بائث آ ٹا پسوانے ناصر کے والد کے پاس کبھی نہیں گیا۔ان سے انکھیں چار کرنے کی ہمت کہاں سے لاتا۔ انہیں مطمئن کرنے کے لیے ذہن میں آتی دلیل جب مجھے ہی مطمئن نہیں کرسکتی تھی وہ ناصر کے والد کوکیسے مطمئن کرتی۔ اب ناصر بڑا خوش تھا میں اب اسے گھر سے لیجانے اور واپسی میں گھر تک چھوڑنے کی اخلاقی ذمہ داری سے رہ گیا۔ اسے بے انتہا خوشی تھی اس پر پہرہ جو اسکے والد نے لگا رکھا تھا، خود سے ختم ہو گیا۔جب تک ناصر کے والد زندہ رہے میں ان سے چھپتا پھرتاکہیں وہ منہوس واقعہ یاد آ کے انہیں غمزدہ نہ کرے۔ کئی سال ہوئے ان کا انتقال ہو چکا ہے۔ ان کے سانحہ ارتحال پر مجھے بڑا افسوس ہوا اور یہ بات ہمیشہ ذہن کو کچوکے لگا تی رہی کہ مرحوم نے میرے تعلق سے جو حسن ظن قائم کیا تھا۔
اسے میں برقرار رکھ نہ سکا۔ میرا یہ پچھتاوا میرے شرف النفس ہونے کی ضمانت نہ تھی بلکہ یہ تو مضبوط قدروں کا نتیجہ تھا جو میرے شعور اور لاشعور پر اثر انداز رہا۔
پچھلے پچاس سالوں میں سماجی اور ثقافتی، اخلاقی قدروں کی گراوٹ کے کئی پہلو دیکھے گئے ہیں۔ ایک بڑا سبب صنعتی اور تکنیکی ترقی ہے، جس نے روایتی معاشرتی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔ مادیت پسندی کے بڑھتے رجحان نے انسانوں کو اخلاقی قدروں سے دور کر دیا، اور خود غرضی اور خود مرکزیت بڑھ گئی۔ تعلیمی نظام میں تبدیلیوں نے بھی اخلاقی تعلیم پر کم توجہ دی، جس سے نئی نسل میں اخلاقی قدروں کی کمی ہوئی۔ میڈیا اور سوشل میڈیا نے بھی معاشرتی قدروں پر اثر ڈالا ہے، جس نے نوجوانوں میں غیر حقیقی معیار قائم کیے ہیں اور معاشرتی ذمہ داری کے بجائے ذاتی خوشیوں کو ترجیح دی ہے۔ ان سب عوامل کا مجموعی اثر سماج پر منفی ہوا ہے۔ معاشرتی بگاڑ، اخلاقی زوال اور جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ بے اعتمادی اور بد اعتمادی نے انسانی رشتوں کو متاثر کیا ہے اور مجموعی طور پر معاشرتی ہم آہنگی کمزور ہوئی ہے۔ معاشرتی اور ثقافتی قدروں کی گراوٹ نے نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی نقصانات پہنچائے ہیں۔
ہم اپنی نو عمری میں اس وقت کے معروف کرکٹ کھلاڑیوں کے پرستار ہوا کرتے تھے اور افسوس کہ یہ عظیم کھلاڑی آ ج پیسوں کی لالچ میں تمبا کو پروڈکٹس کی تشہیر کررہے ہیں۔ جبکہ صف اول کے فلمی ستاروں نے نوجوانوں کو آ ن لائن جوئے کے نت نہیں طریقوں کی ترغیب دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے اور شراب کے ٹھیکیداروں نے چوراہوں پر شراب کی تشہیر کے لیے دلکش ہورڈنگ لگا رکھے ہیں تاکہ نوجوانوں کو غیر شعوری طور پر شراب نوشی کی سمت مائل کیا جائے، ان حالات میں نوجوانوں کا راہ راست سے بھٹک جانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
میں سوچتا ہوں تو اکثر مجھے وہ کانسٹیبل یاد آ تا ہے جس نے گارڈن میں میری سرزنش کی تھی، وہ ہم محلہ معمر شخص بھی یاد آتا ہے جس نے میری ہوٹل میں موجودگی پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔یہ لوگ اور ان کے ہم فکر دیگر لوگ جنہیں اخلاقی قدروں کا پاس و لحاظ تھا، وہ موجودہ معاشرتی بگاڑ کو دیکھ کر کیا سوچتے ہوں گے؟انسانی ،اخلاقی، سماجی اور ثقافتی قدریں ہی معاشرے کی مضبوط دیواریں ہوتی ہیں جن کے حصار میں ایک صالح معاشرہ کھڑا دکھائی دیتا ہے. لیکن اگر یہ قدریں کمزور ہونے لگے تو سماج کی گرتی دیواریں ثابت ہوں گی۔ میں نے اپنی سروس کے دوران بحیثیت پرنسپل ٹیکنیکل کالج، منشیات کے خلاف متعد پروگرام منعقد کیے ،کئی ورکشاپ رکھے، پولیس کے اعلی عہدیداروں کو کالج مدعو کیا تاکہ کالج کے طلباء میں منشیات کے خلاف بیداری پیدا ہو۔ دراصل تعلیمی ادارے نہ صرف نصابی ضروریات بلکہ اس پلیٹ فارم سے سماجی تقاضوں کو بھی پورا کرتے رہنا چاہیے اور میری یہ سوچ دوران سروس کبھی میرے ذہن سے اوجھل نہیں رہی۔
تاریخ گواہ ہے کہ برائی نے جب بھی اپنے پیر پھیلائے اور اس کا جادو جب سر چڑھ کر بولاہے تو اچھائی نے اس کے ساتھ باقاعدہ جنگ کی ہے اور نتیجے میں برائی کو پسپا ہونا پڑا ہے۔ اماؤس کی رات کتنی ہی اندھیری اور سنگین کیوں نہ ہو آ خر صبح تو بہرحال خوشگوار ہوگی۔منشیات کاروبار سے وابستہ کارپوریٹ طبقہ دم دبا کر بھاگ کھڑا ہوگا اور اچھائی کے ہم نواؤں کہ بائث گرتی ہوئی سماجی، اخلاقی، انسانی اور ثقافتی قدریں سیسہ پلائی دیوار نظر ائیں گی جو معاشرے کی حفاظت کرینگی۔اس دل خوش کن تصور نے مجھے قدرے اطمینان دلایا اور میں اپنی سوچوں سے باہر نکل آ یا۔ چائے کی چسکی لی تو لگا کہ چائے ٹھنڈی ہو چکی ہے، میں نے اہلیہ کو آ واز دی وہ آ ئیں تو میں نے انہیں ٹھنڈی چائے کا کپ تھماتے ہوئے کہا کہ "پلیز گرم چائے لائیں” اہلیہ نے ٹھنڈی چائے کے کپ کو تھاما اور میری طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا ، شاید پوچھ رہی ہوں کہ چائے پے بغیر ٹھنڈی کیوں کی ہے۔
اب میں انہیں کیا بتاتا کہ چائے کی پہلی چسکی کے ساتھ اخبار کی جان گداز خبر نے مجھے تصورات کے کن کن جہانوں کی سیر کرائی ہے۔ میں کیا بتاتاکہ پولیس والے نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا تھا، ہم محلہ معمر شخص کے باعث مجھے ہوٹل سے کیوں بھاگنا پڑا تھا ،ناصر کے والد کا تھیٹر سے باہر نکلتے ہوئے میرے کندھے پر ہاتھ رکھنے کا کیا ذکر کرتا ،اہلیہ سے گرتی دیواروں کا ذکر کیسے کرتا ۔ بس اہلیہ سے اتنا کہا کہ "ایک گرم چائے کا کپ لائیے غریب دعا دے گا” میری اس بات پر وہ ہنس پڑیں اور کچن کی سمت چائے لانے چل د یں۔
میری یادوں نے مجھے ایک نیا عزم و حوصلہ بخشا کہ میں ان گرتی دیواروں کو گرنے سے بچانے کے لیے مجھے اپنی سی کوشش کرنی چاہیے، آ خر میرے اندر حمیت اور غیرت کے سوتے کہاں خشک ہوئے ہیں۔
