انجینئرذ ڈے کا پیغام وطنِ عزیز کو مزید ترقی یافتہ اور مستحکم بنانا مقصود : شیخ محمد اکبر

اسٹیٹ نیوز

ادارہ ماؤنٹ فاران پولی ٹیکنیک ہبلی میں انجینئرز ڈے پروگرام کا انعقاد

ہبلی:۔ادراہ ماؤنٹ فاران پولی ٹیکنیک ہبلی میں انجینئرز ڈے پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر شری سرینیواس پروہت ، کشور کوشالییہ کیندر ،ہبلی نے کہا کہ ملک کی ترقی میں انجینئرز کا کردار انتہائی اہم اور نمایاں ہے۔ انجینئرز وہ ماہرین ہیں جو ملک کی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ سڑکیں، پل، عمارتیں، ڈیم، بجلی کے منصوبے اور دیگر ترقیاتی منصوبے بناتے اور عملی جامہ پہناتے ہیں جو معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔انجینئرز ٹیکنالوجی اور سائنس کے ذریعے مسائل کا حل نکالتے ہیں اور نئے اختراعی طریقے وضع کرتے ہیں۔ مثلاً، توانائی کے نئے ذرائع کی تلاش، ٹرانسپورٹ کے بہتر نظام کی تشکیل، اور پانی کی فراہمی کے جدید منصوبے، یہ سب انجینئرز کے ہی مرہون منت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، جدید صنعتیں اور فیکٹریاں بھی انجینئرز کی مہارت سے چلتی ہیں، جو ملک کی معیشت کو مضبوط کرتی ہیں۔ سرینیوس پروہت نے مزید کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر انجینئرز نے ڈیجیٹل انقلاب میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے دنیا کے ساتھ رابطے کو آسان بنایا اور ملک کو عالمی سطح پر مقابلے کی دوڑ میں شامل کیا۔مختصر یہ کہ انجینئرز ملک کی ترقی کے ستون ہیں جو نہ صرف معاشی ترقی کو آگے بڑھاتے ہیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں میں بھی بہتری لانے کے لیے اہم اقدامات کرتے ہیں۔اس موقع پر اعزازی مہمان شری بسوارج ٹوتد، معلم نیو انگلش میڈیم ہائی اسکول ہبلی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ایم. وشویشوریا ہندوستان کے ممتاز انجینئر اور ریاست میسور کے دیوان تھے۔ انہیں جدید ہندوستانی انجینئرنگ کا بانی مانا جاتا ہے ۔ انہوں نے آبی وسائل کے بہترین استعمال کے لیے جدید ڈیم اور آبپاشی کے نظام متعارف کرائے، جن میں کرشنا راجہ ساگر ڈیم خاص طور پر مشہور ہے۔ ان کی قیادت میں میسور صنعتی ترقی کا مرکز بنا۔ 1955 میں انہیں بھارت رتن سے نوازا گیا۔ وشویشوریا کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہر سال 15 ستمبر کو انجینئرز ڈے منایا جاتا ہے، جس کا مقصد ان کی تکنیکی مہارت اور قوم کی خدمت میں ان کی لگن کو یاد رکھا جاتا ہے۔رویندرا سنگھ کو آرڈینیٹر ماؤنٹ فاران پولی ٹیکنیک ہبلی و پرنسپل ٹیپو شہید پولی ٹیکنیک ہبلی ، نے کہا کہ "انجینئرنگ کے طلباء کیلئے انڈسٹریز میں کام کرتے وقت توجہ مرکوز رکھنا انتہائی اہم ہے۔ انہیں ٹیکنالوجی، معیار، اور جدید رجحانات کو سمجھنے پر دھیان دینا چاہیے۔ انڈسٹریز میں عملی تجربہ حاصل کرتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ٹیم ورک، کمیونیکیشن اسکلز، اور وقت کی پابندی کو بھی اپنانا چاہیے تاکہ پیشہ ورانہ ماحول میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ انڈسٹری کے تقاضوں کو سمجھ کر طلباء اپنے علم کو عملی طور پر لاگو کرسکتے ہیں اور اپنی فنی مہارتوں کو نکھار سکتے ہیں، جو ان کے کیریئر کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگا۔ مشتاق احمد یس ملا ،ریٹائرڈ پرنسپل ٹیپو شہید پولی ٹیکنیک ہبلی نے کہا کہ ایک قابل انجینئرمضبوط تکنیکی علم اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، تجزیاتی سوچ، تخلیقی ذہن، ٹیم کے ساتھ بہتر تعاون کرنے کی صلاحیت، بہترین مواصلاتی مہارت، منصوبہ بندی اور تنظیم کا ہنر کا حامل ہو۔ وہ تکنیکی تبدیلیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ رکھے، ذمہ دار ہو، تفصیلات پر نظر رکھے، اور دباؤ میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس کے علاوہ، ایک اچھے انجینئر کو معاشرتی اور ماحولیاتی اثرات کا ادراک ہونا چاہیے، تاکہ وہ پائیدار اور اخلاقی طور پر مضبوط حل تلاش کر سکے۔ وقت کی پابندی اور معیار پر توجہ بھی لازمی خوبیاں ہیں۔مشتاق احمد یس ملا نے بانیانِ ٹیپو شہید پولی ٹیکنیک اور ماؤنٹ فاران پولی ٹیکنیک ہبلی، جناب شیخ محمد اکبر اور جناب نظام الدین واچ میکر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان اداروں کے بانیان کی انتھک کوششوں، بصیرت اور قیادت کی بدولت آج ہزاروں طلباء ان اداروں سے فارغ التحصیل ہو کر ملک بھر میں اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کامیاب انجینئر کے طور پر اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ نظام الدین واچ میکر سیکرٹری ماؤنٹ فاران پولی ٹیکنیک ہبلی ، نے کہا کہ ہندوستان میں انجینئرز کا مستقبل انتہائی روشن ہے کیونکہ ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل انڈیا، میک ان انڈیا اور اسمارٹ سٹی جیسے منصوبے انجینئرز کے لیے نئے امکانات پیدا کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی، آئی ٹی، سول، الیکٹریکل اور میکانیکل انجینئرنگ کی مانگ بڑھ رہی ہے، جس سے نوجوان انجینئرز کو ملازمت کے مواقع اور اختراعی ترقی کے امکانات میسر آ رہے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی ہندوستانی انجینئرز کی مہارت کی پذیرائی ہو رہی ہے، جس سے ان کا مستقبل مزید محفوظ اور تابناک نظر آتا ہے۔ نظام الدین واچ میکر نے مزید کہا کہ ایک اچھا انجینئر بننے کیلئے محنت، ذہانت اور مشاہدہ بنیادی عناصر ہیں۔ محنت سے علم حاصل ہوتا ہے اور مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔ ذہانت مسائل کو جلد سمجھنے اور ان کے حل تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مشاہدہ انجینئر کو ماحول اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو دیکھ کر نئے خیالات اور اختراعات کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایک کامیاب انجینئر وہ ہوتا ہے جو مسلسل سیکھتا رہے، محنت کرے، مسائل کو سمجھ کر ان کے حل میں جدت لائے، اور ہمیشہ اپنے اردگرد کی چیزوں کا بغور مشاہدہ کرتا رہے تاکہ عملی نتائج میں بہتری آئے۔صدارتی خطاب میںشیخ محمد اکبر چیرمین ماؤنٹ فاران پولی ٹیکنیک ہبلی نے کہا کہ انجینئر ڈے ہمیں انجینئرنگ کے شعبے کی اہمیت اور معاشرتی ترقی میں اس کے کردار کا احساس دلاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جدید دور کی تمام ترقی، جیسے کہ ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور صنعتی میدانوں میں پیش رفت، انجینئروں کی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ یہ دن نوجوانوں کو اس شعبے میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے تاکہ وہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انجینئر ڈے کا پیغام ہے کہ جدت اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم اپنے وطنِ عزیز کو مزید ترقی یافتہ اور مستحکم بنا سکتے ہیں۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے جناب شیخ محمد اکبر نے طلباء کو مشورہ دیاکہ وہ صرف گوگل یا انٹرنیٹ پر انحصار نہ کریں بلکہ کتابوں کا مطالعہ جاری رکھیں۔ کتابیں علم کا ایک وسیع ذخیرہ ہیں جو گہرائی اور تفصیل کے ساتھ مواد فراہم کرتی ہیں، جو کبھی کبھار آن لائن ذرائع میں دستیاب نہیں ہوتا۔ مطالعہ سے طلباء کی معلومات میں وسعت اور فکر میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، طلباء کو اپنی زندگی میں نظم و ضبط کو فروغ دینا چاہیے تاکہ وہ اپنے اہداف حاصل کر سکیں۔ اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو پہچاننا اور ان کو نکھارنا ضروری ہے تاکہ وہ زندگی میں کامیابی کی راہ پر گامزن ہوں اور مستقبل میں بہتر مواقع حاصل کریں۔گنگا دھر پوڈ کلکاٹتی پرنسپل ماؤنٹ فاران پولی ٹیکنیک ہبلی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔پروگرام میں ادرہ کے کوآرڈینٹر امام الدین گنیار و دیگر مہمانانِ حیات خان کالے مدار ، امان اللہ خان ،سید مزمل،بنکا پور ،محمد سلیم میسور، احمد،محمد اطہر شیخ اور بنگلور سے اشفاق احمد شریک رہے۔پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا ۔ پروگرام کی نظامت مس ایلزبتھ روزی نے کی۔اس موقع پر تمام مہمانوں کو ادرہ کی جانب سے تہنیت پیش کی گئی۔ سعید خضر نے سبھی کا شکریہ ادا کیا۔