از:۔محمد ضمیر رشیدی۔ ناگپور ۔ 9175625972
آج ملک کے حالات سخت سنگین بنے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے ۔ایسی صورتحال میں جو چیز سب سے زیادہ دیکھی جا رہی ہے وہ رپورٹنگ ہے یعنی بے شمار مسلمان جہاں کہیں کوئی خبر، ویڈیو پاتے ہیں وہ دوسرے گروپ میں شیئر یا ترسیل کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا حق ادا کر دیا۔ اگر چہ یہ بھی ایک ضروری کام ہے کہ لوگوں کو حالات حاضرہ سے باخبر کیا جائے، نیز حدیث میں بھی ہے کہ مومن اپنے زمانے سے باخبر ہوتا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ کیا ایسے سخت اور مشکل حالات یوں ہی امن اور خیر کے حالات میں تبدیل ہو جائیں گے؟ جی بالکل نہیں. دراصل یہ مسئلہ آ ج کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے بلکہ اس کی تیاری بڑے پہلے سے نہایت خفیہ طور پر جاری ہے۔برادران وطن میں دعوت کا کام صفر کے درجے میں ہے۔اس کے علاوہ ہم نے تالیفِ قلب کا اہم کام چھوڑ رکھا ہے جو داعی اور مد عو کے درمیان دوری کا سبب بنتا جا رہا ہے ۔دعوت کے کاموں میں صرف یہی نہیں ہے کہ غیر مسلموں میں قرآ ن و سیرت کی کتابیں تقسیم کی جائیں بلکہ ایسے غیر مسلم پڑوسیوں اور متعلقین سے جب کہیں جہاں کہیں موقع ہو ضرور انسانیت اور محبت کی باتیں کی جائے۔اگر ہم لوگ ابھی کھڑے نہ ہوں گے تو کوئی شک نہیں کہ حالات مزید ابتر ہو جائیں۔ عمل شرط ہے، عمل کے بغیر حالات کبھی بھی تبدیل نہیں ہوں گے۔اور یہ ضابطہ قران کریم نے بیان کر دیا ہے کہ جو لوگ جدوجہد کریں انہیں ہی حق پہنچتا ہے کہ امید کریں اللہ کی رحمت کی۔اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَاجَرُوۡا وَجَاهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِۙ اُولٰٓئِكَ يَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَ اللّٰهِؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞ترجمہ:البتہ جو لوگ ایمان پر جمے رہیں گے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہ اللہ کی رحمت کے متوقع ہیں۔ اللہ بخشنے والامہربان ہے۔
اس لیے نہایت ضروری ہے کہ علماء کرام اور مفتیان کرام خود اس کام میں پہل کریں کہ ان کی اتباع میں یہ کام نہایت تیزی سے ہوگا کیونکہ عوام ،علماء پر اعتماد
کرتے ہیں۔ اسی طرح جہاں تبلیغی جماعت کے افراد مسلم بھائیوں میں روزآ نہ گشت کرتے ہیں،ضروری ہے کہ وہ اس وقت کا آ دھا حصہ ضرور غیر مسلموں کی خیر خبرگیری اور خیر خواہی میں خرچ کریں جس سے خوش گوار ماحول پیدا ہوگا۔
