از۔ڈاکٹر محمد نصراللہ خان(شیموگہ)۔9845916982

اردو زبان ایک ملی جھلی زبان ہے ۔ اس کی تاریخ کچھ سات آٹھ سو سال کی ہی ہے۔ دنیا کے ہر ادب میں شاعری کا اپنا ایک الگ مقام ہے ۔یقینااردو شاعری نہ صرف اردو بلکہ دنیائے ادب کا قیمتی سرمایہ ہے۔ دنیا کی بہت کم زبانوں میں مکمل ادب شاعری میں موجود ہے ان میں اردو بھی ایک زبان ہے ۔ ہندوستانی زبانوں میں اردو ا یک ایسی زبان ہے جس کی شاعری کا مقابلہ ہندوستان کی کوئی اور زبان نہیں کرسکتی یہ بات ظاہر بھی ہے اور روزروشن کی طرح عیاں بھی ہے ۔اس بات کو دنیا بہ حسن خوبی تسلیم کرتی ہے ۔ اردو کا نام آتے ہی سبھی کا دھیان اردو شاعری خصوصا اردو غزل کی طرف چلا جاتا ہے ۔ غزل ایک ایسی صنف شاعری ہے جو ہر دور میں انسانی احساسات ، جذبات اور تفکرات کے اظہار کا وسیلہ بنی ہے۔ یا یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اردو غزل صنف نازک ہوتے ہوئے حیات و کائنات کے سبھی موضوعات کو اپنے دامن میں جگہ دی اور اپنے وسعت دامانی کا ثبوت دیتی رہی ہے ۔ آج دیگر زبانوں میں بھی صنف غزل موجود ہے ۔کئی زبانوں میں یہ صنف شاعری اسی نام سے یعنی غزل کے نام سے ہی لکھی جا رہی ہے۔ہم اسے اردو غزل کا جادو ہی کہہ سکتے ہیں۔جو اپنے تو اپنے غیروں کے بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
خیر یہ تو رہی اردو شاعری کی تاریخ ، روایت اور عظمت جو ہر دور میں برقرار رہی ہے ۔دور حاضر میں اگر دیکھیں تو آج وہ زمانہ نہیںرہا ۔نہ وہ بادشاہ رہے اور نہ وہ نواب ۔ قصیدہ گوئی کا دور بھی نہیں رہا ،محبوب سے وہ گلے شکوے ، وہ روٹھنا ، منانا ، وہ بنائو سنگھار ،وہ ناز و ادا ،وہ الفت و محبت کے نغمے یہ سب تو ماضی کی یادیں ہیں۔آج موبائیل و انٹر نٹ کا دور ہے ۔پہلے کے شعراء بھی یہاں تک کہہ گئے تھے کہ ’’ تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی‘‘۔مگر آج تو ’’تو نہیں تو نہیں ہزاروں موجود ہیں‘‘ کا معاملہ ہے ۔ خیر اس کو بھی یہی چھوڑیں کیونکہ’’ بات نکلی ہے تو ہر بات پہ رونا آیا‘‘کہ مصداق آج جو مشاعرے ہو رہے ہیں۔ ان مشاعروںپر کیا کہیں کیا لکھیں ۔زبان و ادب کے نام پر ایسا تماشہ دکھائی دے رہا ہے جس کو عیاں اور بیاں کرنا مشکل ہے۔ زبان وادب کے نام پر ہمارا قیمتی سرمایہ اور وقت دونوں بارش کے پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔ افسوس صد افسوس ہماری سوچ پر اورہمارے اعمال پر ۔
زبان و ادب کے ادارے ، انجمنیں، تنظیمیں،کمیٹیاں جو اپنے آپ کومشاعروں کے انعقاد میں ایسا مصروف کر چکے ہیں کہ گویا انہیں دنیا میں اسی لئے بھیجا گیا ہے کہ دنیا میں آکر مشاعروں کا انعقاد کریں۔ اور جتنے مشاعریں کریں گے اتنا بڑا ثواب گویا زیادہ مشاعرے کروانے والوں کو فرشتے بغیر سوال و جواب کے سیدھا جنت میں داخل کردیں گے ۔اب مشکل سے کسی کے مشاعرے مکمل نہیں ہوئے تو وہاں یعنی جنت میں بچے ہوئے پورے کروائیں تاکہ کوئی کسر باقی نہ رہے ۔ کیا گائوں ، کیا شہر کیا تعلقہ، کیا ضلع، کیا بڑے شہر کیا بستی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں اب اس پُر آشوب دور میں بھی صرف مشاعروں کا ہی سہارہ ہے ورنہ ہم بے سہارہ ہوجائیں گے ۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہماری سوچیں ایک طرح سے منجمد ہوگئی ہیں۔اب کوئی اس سے ہٹ کر بات کرے گا تو سمجھ لیجئے وہ باغی کہلائے گا یا پاگل۔ اللہ خیر کرے۔
ا ب ان مشاعروں کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ اس میں جو اکثرشعراء ہوتے ہیں وہ شعر گوئی کیا شعر فہمی کے آداب و انداز سے بھی واقف نہیں ہوتے ۔جو شاعر کم گویئے زیادہ ہوتے ہیں ۔ آج کل قوالوں کو بھی اردو مشاعروں میں بڑے دھوم دھام سے کلام سنانے کے لئے مدعو کیا جا رہا ہے ۔ ایسے لوگوں کو مشاعروں میں کلام پڑھنے کے لئے بلایاجاتا ہے جن کی زبان وادب کے ش،ق تک درست نہیں ہوتے ۔نہ ان میں تلفط صحیح ہوتا ہے اور نہ وہ زبان کی سلاست وروانی سے واقف ہوتے ہیں۔ان میں بعض اشعار انگریزی میں لکھ کر لاتے ہیں۔ اب ایسے لوگوں سے اردو کی فروغ و بقاء کی کیا توقع کرسکتے ہیں۔ہزاروں لاکھوں روپئے ایسے برباد ہو رہے ہیں ۔جیسے خزانوں کی چابیاں اللہ تعالی نے ہمیں انہیں کاموں کے لئے خرچ کرنے کے لئے دیاہو۔کئی مشاعرے ایسے ہو رہے ہیں جو سمجھدار آدمی یہ پتہ لگانے سے قاصر ہے کہ یہ کیسی محفل تھی جو چند افراد پر مشتمل کوئی گا رہا تھا سننے والا کوئی نہیں بس وہ گویا ّآنکھ بند کرکے گا رہا ہوتا ہے ۔بہت بعد میں جب وہ آنکھ کھولتا تو معلوم ہوتا ہے کہ سامنے کوئی سننے والا ہی نہیں ہے ۔شاید ایک آد می مل جائے تو سمجھ لیجئے کہ وہ مائیک والا ہوگا جو مائیک لے جانے کے لئے انتظار میں بیٹھا ہوگا یا اس ہال کا کوئی ملازم ہوگا جو اس انتظار میں بیٹھا ہوگا کہ یہ کب ختم کرے گا اور میں گھر جائوں گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کی کئی سلطنتیں تو صرف مشاعروں کی وجہ سے ہاتھوں سے چلی گئی۔اب یہ لوگ مشاعروں سے اردو زبان و ادب کی ترقی کا خواب دیکھ رہیں ۔تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے وہی تاریخی غلطیاں دہرانے میں’ میں آگے تو آگے ‘کی طرح چل پڑے ہیں۔یقین مانئے کہ اس سے وہ قوم کا صرف بیڑا غرق کر رہے ہیں اور کچھ نہیں۔ نہ کسی میں سنجیدگی ہے اور نہ کوئی ایسے موضوع پر بات کرنا چاہتاہے۔ ہم اس وقت انتہائی نازک دورسے گزر رہے ہیں۔یہ دو ر ’واہ واہ ‘ کا نہیں بلکہ ’ آہ آہ‘ کا ہے۔ سوچیں شہروں میں مشاعرے کروانے سے اردو کے بقا و فروغ ممکن ہوتی تو آج اردو سسکیوں،ہچکیوں کے ساتھ اور بیساکیوں پر جینے پر مجبور نہیں ہوتی ۔
شہروں میں جو ادبی تنظیمیں یا انجمنیں بنی ہیں یا بچی ہیں وہ مشاعرے کرنے یا کرانے میں ایسی دلچسپیاں لے رہی ہیں گویا اگر کامیاب مشاعرے کا انعقاد کرلیا تو ہمارے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اور ہماری قوم کا بیڑا ایسے پار لگے گا کہ اہل مغرب کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور یہ کوئی عمل نہیں بلکہ دنیا فتح کرلینے کے مصداق ہے۔ سر سید احمد خان نے ایک بار کہا تھا کہ اگر قیامت میں اللہ مجھ سے پوچھے کہ تونے دنیامیں کونسا اچھا کا م کیا ہے تو میں بلا جھجک کہہ دونگا کہ میں نے مولا نا حالیؔ سے مسدس لکھوائی ہے۔یہی میرا ایک اچھا کام ہے ۔توآج کے مشاعرے کروانے والے بھی شاید اللہ تعالی کے سوال کا یہی جواب دیں گے کہ میں نے فلاں مقام فلاں شہر میں ایسا ایسا مشاعرہ کروایا ہے ۔تو انہیں یہ سب اپنے کام اچھی طرح سے ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ کہیں کوئی چیز بھول نا جائے اس لئے کہ وہاں کوئی یاد دلانے والا نہیں ہوتا ۔ کئی لوگ شاعر جو اپنے آپ کو شاعر کہتے ہیں یا کہلوانے کی کوشش کرتے ہیں انہیں شاعری کے ’’ ش‘‘ کا بھی پتہ نہیں ہوتا۔ بس انہیں ادبی محفلوں میں شریک ہوکر اپنے اعمال نامے بنانے اور سنوارنے کا سنہرا موقع مل جاتا ہے ۔اگلے دن انہیں پوچھے تو معلوم ہوگا کہ انہیں کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔ مرزا غالب ؔ نے صحیح کہا تھا کہ ’’شاعری قافیہ پیمائی کا نام نہیںمعنی آفرینی کا نام ہے‘‘۔ قوم کی بدحالی اور افرا تفری کے عالم میں مشاعروں کی نہیں بلکہ بنیادی عملی کاموں کی ضرورت ہوتی ہے سوچیںاگر سر سید احمد خان ۱۸۵۷ء کے غدر کے بعد عملی کاموں کے بجائے اگر مشاعرے کروائے ہوتے تو قوم کو آج بھی یہ باتیںسمجھ میں نہیں آتی ۔ مانا کہ مشاعرے اردو تہذیب کا ایک اہم حصہ ہیں ۔ مشاعروں سے اردو کی ترقی ہوئی ہے لیکن آج بچوں کو اردوسے دور رکھ کر صرف مشاعرے کروانے سے کیا حاصل ۔اسکولوں کالجوں اور مدرسوں سے اردو نکال کر کیا مشاعروں سے حاصل ہوگا۔ مشاعرے سے لطف اندوزیاں تو ملتی ہیں۔ آج قوم کو لطف اندوزیوںکے بجائے احساسِ آگہی کی ضرورت ہے اور عملی کاموں سے تعلیم ، تربیت اور صحت کے علاوہ اہم امور میں بڑھ چڑھ کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ صرف مشاعرے ، دوبارا’ ارشاد ‘اور’واہ واہی‘ سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے ۔ یہ سب ہماری تنگ نظری کا نتیجہ ہے کہ ان ابتر حالات میں سبھی ہم سبق لینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
مانا کہ مشاعرے اردو تہذیب کا ایک اہم حصہ ہیں لیکن مشاعرے ہی سب کچھ نہیں ہیں۔لوگ اردو کو صرف مشاعروں والی زبان سمجھ کر اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔یہ سب سے اہم مسئلہ ہے۔ کہ اردو صرف مشاعروں تک مقید رکھوگے تو کیا خاک زبان ترقی کرے گی۔ زندگی کا ہر وقت ہر لمحہ اردو والا ہونا ہے ۔اکثر مشاعرے ایک طرح کی سٹنگ ہوتے ہیں۔ جس میں پہلے سے طے شدہ شعراء وہی گھسا پٹا باواآدم کے دور کا کلام بس’’ من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو ــ‘‘ (میں تیری تعریف کرونگا تو میری تعریف کر ) کی طرح کلام لاکر سناتے ہیں۔ اللہ قوم کو ایسے مشاعروں سے بچائے اور ایسے مشاعروں پر ہورے بے جا فضول خرچیوں کے بجائے اچھے اور صحت مند کاموں پر خرچ کرنے کی توفیق دے جن میںبنیادی و اعلیٰ تعلیم، مختلف ٹریننگ کورسس، صحت کے علاوہ دیگر سماجی ،قومی فلاحی کاموں کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔یقینا اب وقت آگیا ہے کہ سب سے اہم سوچ کو بدلنا ہوگا ۔ ورنہ وہی روایتی طرز عمل سے سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں ہوگا۔
آج کل آن لائن کا دور ہے اگر میر ،غالب، مومن ، اقبال ، فیض جیسے شعراء کی روحیں ایس مشاعروں کا کہیں نظارہ کرلیں تو شاید یہی کہیں گے کہ ہم بہت پہلے دنیا سے رخصت ہوگئے سو اچھا ہوا ۔اگر اب دنیاے میںرہتے تو ہمیں بھی ایسے مشاعرے برداشت کرنا پڑتا۔ جو تنظیمیں ایسی نشستیںکرواکے اپنے آپ کو تیس یا چالیس مار خاں سمجھتے ہیں انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ انہوں نے وقت اور پیسہ ضائع کرنے کا ایک انوکھا منصوبہ ایجاد کیا ہے ۔کبھی ایک بار مشاعرے کا انعقاد کرلیں تو ٹھیک ہے صرف اور صرف مشاعروں کے تانے بانے میں ہی اردو کی ترقی کا خواب دیکھنا نادانی کیا اعلیٰ درجے کی بے وقوفی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔قوموں کی تعمیر مشاعروں سے ممکن نہیں اور ارو زبان کی ترقی بھی مشاعروں سے ممکن نہیں ہے۔ قومیں بنیادی سطح سے اگر مثبت لائحہ عمل کے ساتھ آگے بڑھیں تو ضرور کامیاب ہوتی ہیں ورنہ مشاعرے چند ایک لمحوں کی لطف اندوزی کے علاوہ کچھ نہیں ہیں ۔کیونکہ ان مشاعروں میں پہلے جیسی نہ وہ سنجیدگی ہے اور نہ وہ مقصدیت ۔
ہماری انجمنیں قوم کی تعلیم وتربیت خاص کر جدید علوم کے حصول کی خاطر سرگرم ہوتیں تو کچھ اور ہی نقشہ ہوتا ۔بنیادی علوم کے ساتھ مختلف ٹریننگ کی جانب توجہ دیتے تو کوئی بات بنتی ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہماری تنظیمیں والدین کو اردو کے تئیں فکر مند کراتے کہ اپنے بچوں کوزیادہ سے زیادہ اردو سے قریب کریں تاکہ اسی سہارے وہ دین سے بھی قریب ہوںکہ ان کی دنیا وآخرت سنور جائے ۔ نئی نسل کولا علمی اور جہالت کے اندھیرے سے نکال کر علم کی شمع لئے ہوئے اپنی منزل مقصود کا سفر آسان کراتے تو کوئی بات ہوتی ۔ زندگی کے معاملات میں جہاں بھی تحریر تقریر، ترسیل ،کارڈ، اعلان ، بیان ،اقرار ،اظہار،صداقت نامہ، تصدیق نامہ ، پمفلیٹس،دستی اشتہار، ،دیواری اشتہارات کی ضرورت پڑے وہاں اردو کا کثرت سے استعمال کرانے کے کاموں میں سرگرم ہوتیں تو کوئی بات بنتی ۔ اردو اخبارات ،میگزین ، جرنل خرید کرپڑھنے کی عادت ڈالنے کے لئے ہماری قوم کو مائل کرتے، مکانوں، دوکانوںکے نام اردو میں درج ہو ،محلوں ،راستوں ،گلیوں ،چوراہوں، بازاروں ،گاڑیوں کے نام جہاں تک ممکن ہوسکے اردومیں ڈلوانے کے کاموں میںمصروف ہوتیں تو کوئی بات بنتی ۔ ہر محلے میں زبان وادب کے انجمنیں قائم کرانے میں معاون ہوتیں کہ ہر کوئی متحرک ہوکر اردو کے تئیں کام کریں نجی تعلیمی ادارے اسکول ہو یا کالج اپنی ایک ایک اردو انجمن قائم کریں اور سماج میں اردو سے الفت ولگائو کا ماحول پیدا کراتے تو کوئی بات بنتی ۔کتابوں کے مطالعہ کا چلن عام کراتے ہوئے اردو کتب خانوں کو قائم کرنے کا بیڑا اٹھاتے تو کوئی بات بنتی۔ گھروں میں محلوں میں گائو و شہر میں اردو کاماحول بنانے میں معاون ثابت ہوتیں تو کوئی بات بنتی۔ تاکہ نئی نسل راغب ہو اور اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور عملی طور پر اردوزبان وادب کو فروغ دینے کے لئے سرگرم ہوسکیں ۔اسطرح اردو زبان کی ترقی ممکن ہے۔صرف مشاعرے کرانے سے اردو کی ترقی ہوگی اس خواب سے جلد ہی بیدار ہوجانا چاہئے۔ بس جتنا جلد ہوسکے ایسی بے جا روایات سے نکلنا چاہئے۔ ورنہ پہلے ہی بہت زیادہ دیر ہوچکی ہے ۔
