از:۔آفتاب عالم ؔ شاہ نوری ۔بلگام کرناٹک۔8105493349

پرائمری اسکول میں تدریس خدمات انجام دینے والے، ادھیڑ عمر کے استاد شوکت صاحب گھر سے اسکول کی جانب نکلے ہی تھے کہ چند کلو میٹر کے فاصلہ کے بعد ان کی موٹر سائیکل پنجر ہو گئی ۔ ۔ اتفاق سے تھوڑی ہی دوری پر رحیم خان صاحب کی پنچر بنانے کی دکان تھی ۔ ماسٹر صاحب نے موٹر سائیکل کو ڈھکیل کر رحیم خان کی دکان کے سامنے ڈبل اسٹینڈ پر کھڑا کر دیا اور کہا ۔ ۔ بھائی جان ذرا پنچر جلدی بنوا دیں اسکول جانے کے لیے دیری ہو رہی ہے ۔ چونکہ رحیم خان ماسٹر صاحب کو جانتے تھے انہوں سارے کام چھوڑ چھاڑ کر ماسٹر صاحب کی موٹر سائیکل کے ٹائر سے ٹیوب نکالا، ہوا بھری اور پانی میں ڈبو ڈبو کر چیک کرنے لگے دو چار بار ٹیوب کو گھماتے ہی ایک جگہ سے پانی کے چھوٹے چھوٹے بلبلے نظر آنے لگے فورا اس پر نشان لگایا پورا ٹیوب اسی طرح چیک کرنے کے بعد ٹائیر کے اندر کی جانب سے ہاتھ پھیر پھیر کر گھمانے لگا تھوڑی دیر کے بعد دیکھا تو ایک لوہے کی چھوٹی سی تار اندر پھنسی تھی کسی اوزار سے تار نکالتے ہوئے رحیم خان نے ماسٹر شوکت صاحب سے کہا ۔ ۔ ۔ ” ماسٹر جی یہ دیکھیے تار کا ٹکڑا اندر تھا اگر اسے نہ نکالتا تو دو چار کلو میٹر کت بعد آپ کو پھر سے پنچر بنوانے والے کی دکان ڈھونڈنی پڑتی ۔ ۔ ۔ ” رحیم خان کی یہ بات سن کر ماسٹر شوکت صاحب نے کہا ” جی جی آپ نے ٹھیک کہا، جس طرح آپ نے ٹائر کے اندر ہاتھ پھیر کر لوہے کے چھوٹے سے تار کو باہر نکالا بالکل اسی طرح زندگی کے سفر میں بھی اسی طرح کے کئی لوگ بہ شکل تار ہمارے اندر چھپے ہوتے ہیں جو بار بار ہمارے جذبات، احساسات، حوصلوں اور امیدوں کو پنجر کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ہمیں چاہیے کہ بالکل آپ ہی کی طرح ان تاروں کو باہر نکال کر زندگی کے سفر میں ہمت سے آگے بڑھیں ۔ ۔ ”
