از:۔آفتاب عالم ؔ شاہ نوری۔بلگام، کرناٹک۔8105493349

مرحوم منور رانا اکثر ایک جملہ کہا کرتے تھے "ایک دور وہ تھا کہ مائیں اپنے بچوں کو یہ کہہ کر مشاعرے میں بھیجا کرتی تھیں کہ جاؤ بچوں! بغیر کاپی قلم کے علم سیکھ کر آؤ۔” ان کے اس جملے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماضی میں مشاعروں کا معیار کیا ہوا کرتا تھا۔
"دلی کی آخری شمع” مرزا فرحت اللہ بیگ کی ایک یادگار تصنیف ہے، جس میں انہوں نے دہلی کی علمی و ادبی فضا کے آخری درخشاں دور کی جھلک پیش کی ہے۔ اس کتاب میں نواب زین العابدین خاں عارف کی حویلی میں منعقد ہونے والے ایک تاریخی مشاعرے کو مرکزی واقعہ بنایا گیا ہے اور اس بہانے اُس زمانے کے مشہور شعرا جیسے غالب، ذوق، مومن، شیفتہ اور دیگر معاصرین کی شخصیتیں، طرزِ گفتگو، کلام اور باہمی نوک جھونک بڑے دلکش اور مزاحیہ انداز میں بیان کی گئی ہیں۔
مصنف نے نہ صرف اس مشاعرے کی روداد سنائی ہے بلکہ دہلی کی تہذیب، زبان و بیان، محفل کے آداب، شعرا کے فکری رجحانات اور معاشرتی پس منظر کو بھی نہایت دلنشیں اسلوب میں محفوظ کر دیا ہے۔ اس طرح یہ کتاب صرف ایک مشاعرے کی داستان نہیں بلکہ انیسویں صدی کی دہلی کی ادبی و تہذیبی زندگی کا آئینہ ہے، جو آج بھی اردو ادب کے کلاسیکی سرمائے میں منفرد مقام رکھتی ہے۔لیکن جیسے جیسے زمانہ بدلتا گیا، ویسے ویسے مشاعروں کا معیار بھی بدل گیا۔ دورِ حاضر میں ہونے والے سو فیصد مشاعروں میں سے صرف بیس فیصد ایسے ہیں جو معیاری کہلاتے ہیں، ورنہ باقی اسی فیصد مشاعرے تو بس نمائش کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ اب شاعری میں الفاظ کی بندش کے بجائے ترنم اور اداکاری پر زور دیا جاتا ہے۔ جو جتنی زیادہ اداکاری کرے یا جتنا بہتر ترنم سے پڑھے، اسی کو داد ملتی ہے۔ اگر کوئی سیدھے سادے انداز میں شعر پڑھے تو عوام تو عوام، اسٹیج پر بیٹھے ہوئے شعرا بھی داد دینے سے کتراتے ہیں۔صرف معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا۔ آج کل مشاعروں میں زیادہ تر وہی شعرا مدعو کیے جاتے ہیں جو بدلے میں دوسرے شعرا کو اپنے ہاں بلانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ یوں گویا دعوت و پذیرائی کا ایک دائرہ بن گیا ہے جس میں سب ایک دوسرے کو باری باری سراہتے اور داد دیتے رہتے ہیں۔ ہر بار وہی گھما پھرا کر اشعار پڑھے جاتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیا کلام ان کے پاس ہے ہی نہیں۔ اور جہاں تک داد کی بات ہے، بقول شاعر:
نظم
"من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو”
میں تمہیں اچھا کہوں گا تُم مجھے اچھا کہو
جو تمہیں جیسا کہے گا تم اُسے ویسا کہو
اس قدر حامی بھرو ہر جھوٹی سچی بات پر
نالے کو دریا بھی کہتا ہے تو تم دریا کہو
"من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو”
جس سے خوش ہوتا ہے دل تم بات ایسی اب کرو
دِل کو جو رسوا کرے تو ایسے دل میں کیوں رہو
اتنا ہلکا خوں نہ کرنا جیسے ہو تنکا کوئی
تم خوشامد کی ہواؤں میں نہ ہرگز یوں اڑو
"من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو”
شعر چاہیں جیسے بھی ہوں لہجہ میں دم خم رکھو
دنیا چاہے جو کہے تم اپنی دھن میں ہی رہو
مدتوں سے پھر پھرا کر پڑھنے والے شعر پر
میں تجھے بھی داد دوں گا تم مجھے بھی داد دو
"من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو”
جو تمہاری سن رہا ہے تم فقط اس کی سنو
جو تمہیں منزل دکھائے ایسا ہی رہبر چنو
دو دو چہرے ان میں اکثر مجھ کو آتے ہیں نظر
دولتِ اخلاص سے الفت کے موتی ہی گِنو
"من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو”
جن میں الفت کی ہے بُو ایسے ہی لوگوں سے ملو
زندگانی کی ڈگر پر خوب پھولو اور پھلو
قلب میں عالم ؔ کے پھر آنے لگا ہے یہ خیال
اک الگ منزل کی جانب خود کو تم لے کر چلو
"من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو”
2019 میں جب دنیا بھر میں کورونا کی وبا پھیل گئی تو اکثر و بیشتر کام آن لائن طرز پر ہونے لگے۔ شعرا اور ادبا نے بھی اس جدید طرز کے مشاعروں کو اپنایا۔ زوم (Zoom) اور گوگل میٹ (Google Meet) کے ذریعہ آن لائن مشاعروں کا آغاز ہوا۔ اردو کے شعرا کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی یہ ایک بہترین کوشش ہے۔ عام طور پر آن لائن مشاعرے ہفتہ واری، پندرہ روزہ اور ماہانہ طرز پر منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ طرحی اور غیر طرحی مشاعرے بھی ہوتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ہر چھوٹا بڑا شاعر زوم لنک کے ذریعہ اس مشاعرے میں شریک ہو سکتا ہے۔ اس طرح ایسے لوگ جنہیں روایتی مشاعروں میں شرکت کا موقع نہیں ملتا تھا وہ بھی اس میں آسانی سے شریک ہو گئے۔ ایسے شعرا جنہوں نے اردو میں عظیم خدمات انجام دی ہیں، آن لائن مشاعروں کے ذریعہ انہیں "لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ” اور سرٹیفکیٹ عطا کیے جاتے ہیں۔آن لائن مشاعروں کے کئی فوائد ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ یہ سرحدوں سے ماورا ہو کر دنیا بھر کے شعرا اور سامعین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیتے ہیں۔ سفر اور اخراجات کی زحمت کے بغیر شاعر اپنے گھروں سے ہی شریک ہو جاتے ہیں، جس سے وقت اور وسائل کی بچت ہوتی ہے۔ ان محفلوں میں وقت کی پابندی بھی بہتر طور پر قائم رہتی ہے کیونکہ سب مقررہ وقت پر آن لائن موجود ہوتے ہیں۔ نوجوان اور نووارد شعرا کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے کلام کو بڑے شعرا کے ساتھ پیش کریں، یوں ان کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایک اور خوبی یہ ہے کہ آن لائن مشاعروں کی ریکارڈنگ محفوظ ہو جاتی ہے، جس سے بعد میں بھی لوگ استفادہ کر سکتے ہیں۔ ایسے سامعین جو جسمانی طور پر محفلوں میں شامل نہیں ہو سکتے، وہ بھی گھر بیٹھے مشاعرے کا لطف اٹھا لیتے ہیں۔ اس طرح آن لائن مشاعرے نئی نسل میں اردو اور مشاعروں کی دلچسپی بڑھانے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو رہے ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو مشاعروں کی روایت اگرچہ وقت کے ساتھ مختلف شکل اختیار کر رہی ہے، لیکن آن لائن مشاعروں نے اس روایت کو ایک نئی سمت عطا کی ہے۔ یہ نہ صرف دور دراز کے شعرا اور سامعین کو قریب لاتے ہیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے اپنی تخلیقات کو دنیا کے سامنے رکھنے کا پلیٹ فارم بھی فراہم کرتے ہیں۔
