مادری زبان۔ تعلیم کی روح 

Uncategorized مضامین
از:۔مشتاق احمد یس ملا،ہبلی۔سابق پرنسپل 9902672038
انسان کے شعور کی بیداری ماں کی آغوش میں ہوتی ہے اور سب سے پہلی زبان جو اس کے لبوں پر آتی ہے وہی اس کی مادری زبان ہوتی ہے۔ یہ زبان صرف بولنے اور سمجھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کی تہذیب، اس کی روایات اور اس کے جذبات کی امین ہوتی ہے۔ بچہ ماں کی لوری سے جو پہلا درس پاتا ہے وہی اس کے ذہن و دل کی گہرائیوں میں ہمیشہ کے لئے نقش ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم اور ماہرینِ تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ مادری زبان میں تعلیم کا کوئی نعم البدل نہیں۔
مگر وقت کی کروٹیں بدلتی ہیں، حالات نئے تقاضے پیش کرتے ہیں۔ آج کے دور میں تعلیم اور روزگار کی راہیں انگریزی زبان کے بغیر نامکمل سمجھی جاتی ہیں۔ یہ زبان سائنس، ٹیکنالوجی اور دنیاوی ترقی کی کلید بن چکی ہے۔ دوسری جانب ریاستی سطح پر کنڑ زبان کی اہمیت روز بہ روز بڑھ رہی ہے، جس کے بغیر سرکاری دفاتر، عدالتوں اور ملازمت کے دروازے بند نظر آتے ہیں۔ ان حالات میں والدین کے دلوں میں یہ تذبذب پیدا ہونا فطری ہے کہ آیا وہ اپنے بچوں کو مادری زبان اردو میں پڑھائیں یا سیدھے انگریزی اور کنڑ کے راستے پر ڈال دیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں اپنی فکری اور تعلیمی سمت درست کرنی چاہئے۔
حقیقت یہ ہے کہ بچے کی ذہنی نشوونما اور تخلیقی صلاحیتیں صرف اس وقت پروان چڑھ سکتی ہیں جب اس کی ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہو۔ اگر آغاز ہی سے اسے اجنبی زبان کے بوجھ تلے دبا دیا جائے تو وہ رٹنے کا عادی ہو جاتا ہے، مفہوم کو سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے اور اس کی فطری جستجو مرجھا جاتی ہے۔ اردو زبان اپنی لطافت، وسعت اور فکری سرمایے کی بدولت وہ قوت رکھتی ہے جو بچوں کو نہ صرف علم کی روشنی فراہم کرتی ہے بلکہ انہیں اپنی تہذیب اور اقدار سے جوڑتی ہے۔ اردو کی کہانیاں، حکایات، نظمیں اور غزلیں بچوں کے دل و دماغ کو نہ صرف روشن کرتی ہیں بلکہ ان کے اندر انسانیت، اخلاق اور جمالیاتی ذوق بھی پروان چڑھاتی ہیں۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ تعلیم کے میدان میں آج تین زبانوں کی اہمیت مسلم ہے اردو ہماری شناخت اور تہذیب کی بنیاد، انگریزی دنیاوی ترقی اور سائنسی علوم کی زبان، اور کنڑ ریاستی سطح پر زندگی کا لازمی حصہ۔ ان تینوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ بنیاد اردو میں رکھی جائے، اس کے ذریعے بچے کو اعتماد، فہم اور شعور دیا جائے، اور پھر رفتہ رفتہ انگریزی اور کنڑ کو اس کے تعلیمی سفر کا حصہ بنایا جائے۔ یوں بچہ نہ صرف اپنی جڑوں سے جڑا رہے گا بلکہ دنیاوی مسابقت میں بھی پیچھے نہیں رہے گا۔ایسے حالات میں اردو اسکولوں کے اساتذہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ محض معلم نہیں بلکہ قوم کے معمار ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ بچوں میں اردو زبان کا شعور اور محبت پیدا کریں، انہیں مطالعے کی عادت ڈالیں، ادب اور تاریخ کے ذریعے ان کے ذہنوں کو روشن کریں، اور ساتھ ہی انگریزی و کنڑ کی اہمیت بھی اجاگر کریں۔ انہیں یہ باور کرانا ہوگا کہ زبانوں کی یہ کثرت کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ ایک قوت ہے، اور اگر طالب علم ان تینوں زبانوں پر عبور حاصل کر لے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین اور معاشرہ بھی اس کڑی کے اہم ستون ہیں۔ اگر گھر میں مادری زبان کو نظرانداز کر کے صرف انگریزی یا کنڑ کو ترجیح دی جائے گی تو بچے کے ذہن میں یہ احساس جاگزیں ہوگا کہ اردو ایک کمتر زبان ہے۔ یہ سوچ اس کی شخصیت کو کمزور بناتی ہے۔ لہٰذا والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھروں میں اردو کو زندہ رکھیں، اپنے بچوں کو فخر کے ساتھ اس زبان میں گفتگو کریں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ یہی زبان ان کی شناخت اور ان کے وجود کی بنیاد ہے۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال بھی وقت کا اہم تقاضا ہے۔ اگر اردو اسکولوں کے اساتذہ ڈیجیٹل وسائل، سمارٹ کلاسز اور جدید تدریسی طریقے اختیار کریں تو نہ صرف بچوں کا اعتماد بڑھے گا بلکہ اردو میڈیم ادارے بھی ترقی کی دوڑ میں نمایاں مقام حاصل کریں گے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو اسکولوں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ والدین کا اعتماد بحال ہو اور طلبہ کا مستقبل روشن ہو۔
آخرکار یہ کہنا بجا ہوگا کہ زبان کا مسئلہ محض الفاظ کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ اگر ہم اپنی بنیاد مادری زبان میں مضبوط کریں اور دوسری زبانوں کو حکمت اور تدریج کے ساتھ شامل کریں تو ہماری نئی نسلیں دنیا میں بھی کامیاب ہوں گی اور اپنی تہذیبی شناخت کو بھی زندہ رکھ سکیں گی۔ اردو ہماری پہچان ہے، ہماری تہذیب کی آئینہ دار ہے، اور اسی کے ذریعے ہم اپنی آنے والی نسلوں کو فکری اور اخلاقی سرمایہ منتقل کر سکتے ہیں۔ انگریزی اور کنڑ کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن اگر اردو کی جڑیں مضبوط ہوں تو یہ دونوں زبانیں ہمارے لئے بوجھ نہیں بلکہ ایک سہارا بن جائیں گی۔یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنی نئی نسل کو سرخ رو کر سکتے ہیں۔ یہی وہ نسخہ ہے جو ہمیں ترقی کی شاہراہ پر لے جا سکتا ہے۔ اور یہی وہ عہد ہے جو اردو اسکولوں کے اساتذہ، والدین اور سماج کو مل کر کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلیں اپنی مادری زبان کی روشنی میں پر اعتماد قدموں کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھ سکیں۔