از:۔آفتاب عالمؔ شاہ نوری۔کروشی، کرناٹک

گاؤں کی خوشگوار صبح ہے۔ ایک خستہ مکان کے آنگن میں نیم کا بڑا پیڑ ہے، جس سے زرد زرد پتے جھڑ رہے ہیں۔ فاطمہ انہی پتوں کو جھاڑو دے رہی ہے۔ اس کی پڑوسن رخسار، جو ایک ان پڑھ عورت ہے، کنویں سے پانی کے دو مٹکے سر اور کمر پر ڈھو کر لا رہی ہے۔
فاطمہ نے رخسار کو دیکھ کر کہا:
"بہن، سنا تم نے؟”
رخسار نے پوچھا:
"کیا؟”
فاطمہ بولی:
"سرکار نے دو مہینے کی رقم اکٹھی ہی اکاؤنٹ میں ڈال دی ہے۔ خدا بھلا کرے اس حکومت کا۔ میں نے کل ہی بینک سے پیسے نکال کر مہینے بھر کا راشن بھر دیا ہے۔”
رخسار نے حیرت سے کہا:
"اچھا! میں بھی آج ہی بینک سے پیسے نکال کر راشن بھر دیتی ہوں۔”
گھر کے کام مکمل کرکے، اس نے ٹوٹی پلنگ کے نیچے سے ایک پرانا، زنگ آلود بکسہ نکالا۔ رخسار نے بینک کی پاس بُک اسی بکسے میں ایسے سنبھال کر رکھی تھی جیسے زیور رکھا جاتا ہے۔
بچوں کو اسکول بھیج کر، اپنے کاہل شوہر کو کوستے ہوئے گھر سے نکلی، جو ابھی تک بستر میں پڑا سو رہا تھا۔ بینک پہنچ کر رخسار اُس طویل قطار کا حصہ بن گئی جو پیسے نکلوانے کے لیے کھڑی تھی۔ کئی گھنٹے مسلسل انتظار کے بعد رخسار کا نمبر آیا۔
کلرک نے اکاؤنٹ چیک کیا اور کہا:
"آپ کی رقم تو کل ہی نکالی جا چکی ہے۔”
رخسار گھبرا گئی:
"رقم نکالی گئی ہے!؟ کب؟ کیسے؟ کس نے؟ کہاں؟”
کلرک بولا:
"گوگل پے سے۔”
"کیا کہا؟ گُلگُل پے؟”
"ہاں ہاں، اب آگے بڑھو، بہت لمبی قطار باقی ہے۔”
مایوس ہوکر جب وہ گھر کی طرف لوٹنے لگی تو گلی کے نکڑ پر دیسی شراب خانے میں اس نے اپنے شوہر کو آوارہ دوستوں کے ساتھ بیٹھا شراب پیتے دیکھا۔ سارے شرابی دوست ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے:
"اچھا ہوا گوگل پے ہے، ورنہ ہم سرکار کے دئے ہوئے پیسوں سے عیاشی کیسے کرتے؟”
گوگل پے کا نام سنتے ہی رخسار چونک اٹھی، اور ہر آنے جانے والے سے یہی پوچھتی رہی:
"بھائی صاحب، گُلگُل پے کون ہے؟ کہاں رہتا ہے؟”
ہر کوئی کہتا:
"ہمیں نہیں معلوم۔”
رخسار، گُلگُل پے کو کوستی اور لعنت بھیجتی ہوئی اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئی ۔ ۔
