ڈی جے ہلی و کے جی ہلی فسادات:پانچ سال کا انتظار، سست انصاف اور اہم اسباق

مضامین
از:۔جمیل احمد ملنسار، بنگلور۔اسسٹنٹ جنرلسکریٹری،آل انڈیا ملّی کونسل کرناٹک ۔9845498354
پانچ سال کی طویل اور صبر آزما قانونی جدوجہد کے بعد، کے جی ہلی اور ڈی جے ہلی فسادات کے معاملے میں امید کی ایک نئی کرن پھوٹی ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے حال ہی میں دو ملزمان، کریم صدام(ملزم نمبر24)اور ضیاء الرحمٰن (ملزم نمبر6)کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے، جو ایک انتہائی خوش آئند پیش رفت ہے۔ یہ فیصلہ ان خاندانوں کے لیے کسی تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں جو اپنے پیاروں کی رہائی کے لیے بے چینی سے منتظر تھے، خاص طور پر جب یو اے پی اے جیسے سخت قانون کے تحت ضمانت کا حصول تقریباً ناممکن ہو چکا تھا۔ یہ راحت کا لمحہ ہمیں اس پورے سانحے کا از سر نو جائزہ لینے پر مجبور کرتا ہے کہ یہ تشدد کیوں بھڑکا، انصاف کی فراہمی میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی، اور اس سے ہم کیا سبق سیکھ سکتے ہیں۔
پس منظر:۔ اشتعال انگیزی سے تشدد تک
11 اگست 2020 کی رات بنگلور کے کے جی ہلی اور ڈی جے ہلی علاقوں میں جو کچھ ہوا، وہ محض ایک ہنگامہ آرائی نہیں تھی، بلکہ سماجی بے چینی، اشتعال انگیزی اور انتظامی ناکامی کا ایک بھیانک مظہر تھا۔ اس کی ابتدا کانگریس کے ایم ایل اے اکھنڈ شری نواس مورتی کے بھتیجے کی جانب سے پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں ایک گستاخانہ سوشل میڈیا پوسٹ سے ہوئی، جس نے چنگاری کا کام کیا۔ ابتدا میں، 25 سے 30 افراد کا ایک گروہ کے جی ہلی پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوا اور پوسٹ کرنے والے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے یہ پرامن احتجاج ایک پرتشدد ہجوم میں تبدیل ہو گیا۔ ہزاروں افراد نے ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی پولیس اسٹیشنوں اور ایم ایل اے کی رہائش گاہ پر حملہ کیا، املاک کو نذرِ آتش کیا اور شدید پتھراؤ کیا۔ پولیس نے کرفیو نافذ کیا اور بالآخر ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے گولی چلائی، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے خطرناک رجحان کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
گرفتاریاں،UAPAکا نفاذ اور سست  عدالتی کارروائی
اس سانحے کے بعد، بنگلور پولیس نے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں اور 199 افراد کو ملزم نامزد کیا۔ 21 ستمبر 2020 کو یہ کیس قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے)کے سپرد کر دیا گیا، جس نے تحقیقات کے بعد 138 افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کی۔ اس کیس کی قانونی کارروائی انتہائی سست اور پیچیدہ رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ غیر قانونی سرگرمیوں (روک تھام) ایکٹ(یو اے پی اے) کا نفاذ ہے۔ این آئی اے نے ملزمان پر فسادات، آتش زنی، اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ یو اے پی اے کی سنگین دفعات کے تحت بھی الزامات عائد کیے، جس نے اس کیس کو ایک عام فساد کے بجائے دہشت گردی کی کارروائی کے زمرے میں لاکھڑا کیا۔
یو اے پی اے کے تحت الزامات کا مطلب یہ ہے کہ ضمانت حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، کیونکہ قانون کے مطابق اگر استغاثہ یہ ثابت کر دے کہ ملزم بادی النظر میں قصوروار لگتا ہے تو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ملزمان کو سالوں تک جیل میں رہنا پڑا۔ مئی 2025 میں، جب 14 ملزمان نے کرناٹک ہائی کورٹ میں یو اے پی اے کے الزامات سے بریت کی درخواست کی، تو عدالت نے یہ کہہ کر ان کی درخواست مسترد کر دی کہ یہ کیس نایاب ترین نہیں ہے جس میں وہ این آئی اے کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کر سکے۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ عدالتی نظام یو اے پی اے کے معاملات میں کتنی احتیاط برتتا ہے، لیکن اس سے ملزمان کے بنیادی حقوق اور انصاف کی فوری فراہمی پر بھی سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
سزائیں، اعترافِ جرم اور ضمانت کی تازہ پیش رفت
جولائی 2025 میں، اس کیس میں پہلی سزائیں سنائی گئیں جب تین ملزمان سید اکرام الدین، سید عاطف اور محمد عاطف نے این آئی اے کی خصوصی عدالت کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ عدالت نے ان تینوں کو سات سال قید بامشقت اور 36000 روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ چونکہ وہ اگست 2020 سے عدالتی حراست میں تھے، اس لیے ان کی سزا میں سے پانچ سال کی مدت کم کر دی جائے گی، اور انہیں مزید دو سال جیل میں گزارنے ہوں گے۔ اس کے علاوہ، 7 اکتوبر 2025 کو سپریم کورٹ کی جانب سے دو ملزمان کو ضمانت پر رہا کیا جانا اس کیس میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے دیگر ملزمان کے اہل خانہ میں بھی امید کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔
سانحہ کے جی ہلی:۔ اسباق اور مستقبل کا لائحہ عمل
یہ سانحہ ہمیں کئی اہم اسباق سکھاتا ہے۔ سب سے پہلے، کسی بھی قسم کی توہین آمیز اور اشتعال انگیز پوسٹ پر فوری اور سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ عوام کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا موقع نہ ملے۔ دوسرا، پولیس اور انتظامیہ کو ایسے حساس حالات سے نمٹنے کے لیے بہتر تربیت اور وسائل کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے تاکہ وہ ہجوم کو پرامن طریقے سے منتشر کر سکیں۔ تیسرا، سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ایسے واقعات کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کریں اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ آخر میں، عدالتی نظام کو تیز تر اور شفاف بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ انصاف کے تقاضے بروقت پورے ہو سکیں۔ کے جی ہلی کا واقعہ ایک سنگین انتباہ ہے کہ اگر ہم نے اپنے سماجی، سیاسی اور انتظامی رویوں پر نظرثانی نہ کی تو ایسے تباہ کن واقعات مستقبل میں بھی رونما ہو سکتے ہیں۔